خلافت راشدہ

خلافت اور پیری مریدی

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سورہ نور کی آیت استخلاف میں جس خلافت کا وعدہ خدائے تعالیٰ نے فرمایا ہے وہ پیری مریدی کا سلسلہ مراد ہے‘ میرے نزدیک یہ سراسر نا درست اور غلط عقیدہ ہے‘ یہ مانا کہ پیر بھی اپنے مریدوں پر حکمراں ہوتا ہے‘ لیکن اس حکومت اور خلیفہ کے نافذ الفرمان ہونے میں زمین و آسمان کا فرق ہے‘ کسی پیر کو زمین کا حاکم اور زمین کا داور ہرگز نہیں کہا جا سکتا‘ قرآن کریم نے خلیفہ کے معانی سمجھانے میں آدم علیہ السلام و دائود علیہ السلام کا نام لے کر اور ان کی مثالیں بیان فرما کر کسی اشتباہ کا موقعہ باقی نہیں رکھا‘ ہم کو بہرحال قرآن کریم ہی کی اصطلاح سے کام لینا ہے اور قرآن کریم اپنے الفاظ کے معنیٰ خود بتا دیتا ہے۔