ملک عرب

ملک عرب

ملک عرب کا کچھ نہ کچھ تذکرہ شروع میں اس لیے ضروری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم عرب کے مشہور شہر مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے اور دوسرے شہر مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہجرت فرمائی اور وہی اسلامی سلطنت کاابتدائی دارالسلطنت قرار پایا۔ عرب ہی وہ ملک ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی میں قریباً سب کا سب مسلمان ہو چکا تھا۔ یہی ملک عرب شوکت اسلام کی ابتدائی جلوگاہ ہے‘ اسی ملک عرب کی زبان میں کامل وحی اور آخری آسمانی کتاب نازل ہوئی جو تمام ملکوں ‘ تمام قوموں اور قیامت تک تمام زبانوں کے لیے مکمل ہدایت ہے‘اسی ملک عرب سے ہر چار سمت ساری دنیا میں اسلام کی روشنی پھیلی اور اسی ملک عرب میں خانہ کعبہ ہے‘ جس کی طرف ہر سال دنیا کے ہر ملک اور ہر خطہ سے مسلمان کھچے چلے جاتے اور میدان عرفات میں سب مل کر اللہئے قدوس کی حمدو ثنا اور مناجات و دعاء میں مصروف نظر آتے ہیں‘ جہاں شاہ و گدا سب کی ایک حالت ہوتی اور خالق ارض و سما کی عظمت و کبریائی قلوب پر مستولی ہو جاتی ہے‘ یہی ملک عربی ہے جو تمام دنیا پر غالب ہوا اور ساری دنیا کے لیے مشعل راہ اور چراغ ہدایت بنا۔