ملک عرب
محل وقوع اور تقسیم ملکی
ایشیا کے نقشہ میں جنوب کی جانب ہندوستان سے مغرب کی طرف ایک بہت بڑا مستطیل نما جزیرہ نما نظر آتا ہے‘ اسی کو جزیرۃ العرب یا ملک عرب کہتے ہیں جس کی حدود اربعہ یہ ہیں۔
مشرق میں خلیج فارس اور بحرعمان‘ جنوب میں بحر عرب یا بحرہند‘ مغرب میں بحر قلزم اور نہر سویز‘ شمال میں ملک شام‘ ملک شام و ملک عرب کا رقبہ بارہ تیرہ لاکھ میل مربع ہے جس میں چار پانچ لاکھ میل مربع کے قریب خالص ریگستانی اور غیر آباد رقبے شامل ہیں۔ سب سے مشہورریگستان ربع خالی کے نام سے موسوم ہے جس کا رقبہ ڈھائی لاکھ میل مربع ہے اور وسط عرب میں مائل بجنوب و مشرق واقع ہے‘ اس ریگستان عظیم کے شمال میں الحسایا بحرین کا صوبہ ہے جو خلیج فارس کے ساحل پر واقع ہے۔
ربع خالی کے شمال و مشرق میں عمان کا صوبہ۱؎ ہے جس کا دارالصدر اور مشہور شہر مسقط ہے‘ یہ صوبہ بحر عمان کے ساحل پر واقع ہے۔
ربع خالی کے جنوب مشرق میں حضر موت اور مہرہ کے صوبے ہیں جو بحرعرب اور بحر ہند کے ساحل پر واقع ہیں۔
ربع خالی کے مزید جنوب و مغرب میں یمن کا مشہور صوبہ۲؎ ہے جس کا سب سے مشہور شہر صنعاء ہے‘ یہ صوبہ بحر ہند اور بحرقلزم کے ساحل پر واقع ہے‘ اسی میں عدن اور یدہ کی بندرگاہ ہیں۔
ربع خالی کے مغرب اور یمن کے شمال میں نجران کا صوبہ ہے جو بحر قلزم کے ساحل پر واقع ہے ظہور اسلام کے وقت یہ صوبہ ملک عرب میں عیسائیوں کا مرکزی مقام تھا۔
ربع خالی کے مغرب اور نجران کے شمال میں عسیر کا صوبہ ہے جو بحر قلزم کے ساحل پرواقع ہے‘ نجران اور عسیر دونوں صوبے صوبہ یمن کے حصے سمجھے جاتے ہیں‘ عسیر کے شمال میں بحر قلزم کے ساحل پرایک چھوٹا سا علاقہ تہامہ ہے وہ حجاز میں شامل یعنی حجاز کا جنوبی حصہ سمجھا جاتا ہے۔
ربع خالی کے شمال میں بہ شکل مربع نجد کا وسیع صوبہ ہے جس کے مشرق میں صوبہ بحرین ‘ مغرب میں صوبہ حجاز اور شمال میں صحرائے شام واقع ہے‘ نجد کے جنوبی و مشرقی حصہ کا نام یمامہ ہے‘ نجد کے مغرب اور بحرقلزم کے مشرق میں صوبہ حجاز واقع ہے جس میں مکہ‘ مدینہ اور جدہ و ینبوع کے بندرگاہ واقع ہیں‘ حجاز کے شمال اور نجد کے شمال و مغرب میں ایک چھوٹا سا علاقہ خیبر ہے‘ شام ‘ حجاز اور نجد کے مابین ایک علاقہ حجر ہے۔
ربع خالی کے اندر حضر موت کے یمامہ کے درمیان الاحقاف ایک مشہور و غیر آباد رقبہ ہے جوکسی زمانہ میں قوم عاد کا مسکن تھا۔ ان تمام مذکورہ بالا مقامات پر نقشہ میں نظر ڈال لینے سے ملک عرب کے صوبوں اور مشہور علاقوں کا صحیح تصور ذہن میں قائم ہو سکتا ہے۔