سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ
جنگ فحل
یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو دمشق میں ضروری جمعیت کے ساتھ چھوڑ کر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بن جراح دمشق سے مقام فحل کی جانب بڑھے‘ جہاں ہرقل کا نامی سردار سقلاربن مخراق لاکھوں آدمیوں کا لشکر لیے ہوئے پڑا تھا‘ دمشق سے روانہ ہوتے وقت سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو مقدمۃ الجیش کا‘ شرجیل بن حسنہ کو قلب کا‘ عمروبن عاص کو میمنہ کا‘ ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کو سواروں اور عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ کو پیادوں کا افسر مقرر کیا اور خود میسرہ میں رہے۔
فحل کے قریب پہنچ کر اسلامی لشکر اپنے اپنے سرداروں کی ماتحتی میں مناسب موقعوں پر خیمہ زن ہوا‘ آدھی رات کے وقت رومیوں نے مسلمانوں کے قلب لشکر پر حملہ کیا‘ شرجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ مقابل ہوئے‘ لڑائی کا شور و غل سن کر تمام مسلمان سردار اپنا اپنا لشکر لے کر میدان میں آ گئے‘ اور ہنگامہ زد و خورد پوری شدت اور تیزی سے گرم ہوا‘ یہ لڑائی کئی دن تک جاری رہی‘ جس طرح دن کو معرکہ کارزار گرم رہتا تھااس طرح رات کو بھی جاری رہتا تھا‘ آخر رومی سردار سقلار میدان جنگ میں اسی ہزار رومیوں کو مسلمانوں کے ہاتھ سے قتل کرا کر خود بھی مقتول ہوا‘ بقیتہ السیف نے راہ فرار اختیار کی اور مسلمانوں کے لیے بے شمار مال غنیمت چھوڑ گئے‘ فتح فحل کے بعد اسلامی لشکر بسیان کی جانب بڑھا۔