سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

فتح بیسان

بیسان کے قریب پہنچ کر معلوم ہوا کہ یہاں بھی سخت مقابلہ کرنا پڑے گا‘ اسلامی لشکر نے شہر و قلعہ کا محاصرہ کر لیا‘ اسی حالت میں خبر پہنچی کہ ایک رومی سردار زبردست فوج لیے ہوئے دمشق کی جانب گیا ہے تاکہ اس کو مسلمانوں کے قبضے سے نکال لے‘ یہ خبر سن کر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو سواروں کا ایک دستہ دے کر دمشق کی جانب روانہ کیا‘ رومی سردار جب دمشق کے قریب پہنچا تو یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ عامل دمشق اس کے مقابلہ کو نکلے اور ہنگامہ جدال و قتال گرم ہوا‘ عین معرکہ جنگ میں رومیوں پر پیچھے سے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ پہنچ کر حملہ آور ہوئے اور اس رومی لشکر سے ایک شخص بھی بچ کر بھاگنے کا موقعہ نہ پا سکا‘ سب کے سب میدان جنگ میں کھیت رہے‘ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ یہاں سے فارغ ہوتے ہی واپس ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچ گئے۔ بیسان والوں نے اول مسلمانوں کا مقابلہ کرنے اور حملہ آور ہونے میں کمی نہیں کی‘ لیکن بالآخر اپنے آپ کو اسلامی لشکر کے مقابلے کے قابل نہ پا کر صلح کی درخواست کی اور اسلامی سپہ سالار نے بخوشی اس درخواست کو منظور کر کے اہل بیسان پر جزیہ مقرر کر دیا اور ایک عامل وہاں مقرر فرما دیا‘ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے ابولاعور اسلمیٰ رضی اللہ عنہ کو ایک دستہ فوج دے کر طبریہ کی جانب روانہ کیاتھا‘ اہل طبریہ نے بیسان والوں کا انجام دیکھ کر ابوالاعور رضی اللہ عنہ کو بمصالحت شہر سپرد کر دیا۔