سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

قیس بن زرارہ کی تقریر

یزدجرد اس گفتگو کو سن کر برافروختہ ہوا‘ لیکن ضبط کر کے بولا کہ تم لوگ محض وحشی اور جنگلی لوگ ہو‘ تمہاری تعداد بھی کم ہے‘ تم ہمارے ملک کے کسی حصہ کی طمع نہ کرو‘ ہم تم پر اس قدر احسان کر سکتے ہیں کہ تم کو کھانے کے لیے غلہ اور پہننے کے لیے کپڑا دے دیں‘ اور تمہارے اوپر کوئی ایسا حاکم مقرر کر دیں‘ جو تمہارے ساتھ نرمی کا برتائو کرے‘ اس بات کو سن کر سیدنا قیس بن زرارہ فوراً آگے بڑھے اور کہا کہ یہ لوگ جو تمہارے سامنے موجود ہیں‘ رئوساء و شرفا عرب ہیں اور شرفائے عرب ایسی لغو باتوں کا جواب دینے سے شرم کرتے ہیں‘ میں تمہاری باتوں کا جواب دیتا ہوں اور یہ سب میری باتوں کی تصدیق کرتے جائیں گے‘ سنو! تم نے جو عرب کی حالت اور اہل عرب کی کیفیت بیان کی‘ درحقیقت ہم اس سے بھی بہ درجہا زیادہ خراب و ناقص حالت میں تھے‘ لیکن خدائے تعالیٰ نے ہم پر بڑا فضل و احسان کیا کہ ہماری ہدایت کے لیے نبی بھیجا جس نے ہم کو صراط مستقیم کی ہدایت کی اور حق و صداقت کے دشمنوں کو مغلوب و ذلیل کیا اور دنیا میں فتوحات حاصل ہونے کا ہم کو وعدہ دیا ‘ پس تمہارے لیے اب مناسب یہی ہے کہ تم ہم کو جزیہ دینا منظور کرو یا اسلام قبول کرو‘ ورنہ ہمارے تمہارے درمیان تلوار فیصلہ کر دے گی۔ یزدجرد اس کلام کو سن کر آپے سے باہر ہو گیا‘ اس نے کہا اگر سفیروں کا قتل کرنا جائز ہوتا تو میں تم کو ضرور قتل کر دیتا‘ پھر اپنے نوکروں کو حکم دیا کہ ایک مٹی کی ٹوکری بھر کر لائو اور جو شخص ان میں سردار ہے اس کے سر پر رکھ دو اور اسی حالت میں اس کو مدائن سے باہر نکال دو‘ پھر بولا کہ رستم بہت جلد تم سب کو قادسیہ کی خندق میں دفن کر دے گا‘ اتنے میں مٹی کی ٹوکری آ گئی‘ سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ نے فوراً اٹھ کر وہ ٹوکری اپنے کاندھے پر اٹھالی اور کہا کہ میں اس وفد کا سردار ہوں ‘ یہ سب حضرات یزد جرد کے دربار سے نکلے اور اپنے گھوڑوں پر سوار ہو کر مٹی کی وہ ٹوکری لیے ہوئے سیدنا سعد بن ابی وقاص کے پاس پہنچے اور کہا کہ ملک ایران کی فتح مبارک ہو‘ خدائے تعالیٰ نے ان کے ملک کی مٹی ہم کو عطا کی ہے‘ سیدنا سعد بن ابی وقاص بھی اس تفاول (یعنی نیک فال لینا) سے بہت ہی خوش ہوئے۔ ان سفراء کی واپسی کے بعد دربار ایران سے رستم کے پاس ساباط میں تازہ احکام پہنچے اور کمکی سردار بھی روانہ کئے گئے‘ ساٹھ ہزار فوج کا بڑا حصہ خاص رستم کے زیرکمان تھا‘ مقدمۃ الجیش کا سردار جالینوس تھا‘ جس کے ہمراہ چالیس ہزار کا لشکر تھا‘ بیس ہزار فوج ساقہ میں تھی‘ میمنہ پر تیس ہزار کی جمعیت کے ساتھ ہرمزان‘ اور میسرہ پر تیس ہزار کی جمعیت کے ساتھ مہران بن بہرام رازی تھا‘ اس طرح کل ایرانی لشکر کی تعداد ایک لاکھ اسی ہزار تک پہنچ گئی‘اس کے علاوہ ایک سو جنگی ہاتھی قلب میں رستم کے ساتھ تھے‘ پچھتر ہاتھی میمنہ میں اور پچھتر میسرہ میں ‘ بیس ہاتھی مقدمۃ الجیش میں اور تیس ساقہ میں تھے‘ اس ترتیب و سامان کے ساتھ رستم ساباط سے روانہ ہو کر مقام کوثا میں پہنچا اور وہاں خیمہ زن ہوا۔ قادسیہ اور مدائن کے درمیان تیس چالیس کوس کا فاصلہ تھا‘ ایرانی اور اسلامی لشکروں کا فاصلہ اب بہت ہی کم رہ گیا تھا‘ طرفین سے چھوٹے چھوٹے دستے ایک دوسرے پر چھاپہ مارنے اور سامان رسد لوٹنے کے لیے ہر روز روانہ ہوتے رہتے تھے‘ رستم لڑائی کو ٹالنا چاہتا تھا‘ اس لیے اس نے مدائن سے قادسیہ تک پہنچنے میں چھ مہینے صرف کر دئے‘ مقام کوثا سے روانہ ہو کر رستم قادسیہ کے سامنے پہنچا اور مقام عتیق میں خیمہ زن ہوا‘ دربار ایران سے بار بار رستم کے پاس تقاضوں کے پیغام آتے تھے کہ جلد عربوں کا مقابلہ کرو لیکن رستم یہ چاہتا تھا کہ بلا مقابلہ کام چل جائے تو اچھا ہے‘ چنانچہ اس نے قادسیہ پہنچ کر سیدنا سعد بن ابی وقاص کے پاس پیغام بھیجا کہ تم اپنے کسی سفیر کو ہمارے پاس بھیج دو تاکہ ہم اس سے مصالحت کی گفتگو کریں۔ سیدنا سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ نے سیدنا ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ کو سفیر بنا کر رستم کے پاس روانہ کیا‘ رستم نے بڑے تکلف اور شان و تجمل کے ساتھ دربار کیا‘ سونے کا تخت بچھوایا اور اس کے چاروں طرف دیباو حریر اور رومی قالینوں کا فرش کرایا‘ تکیوں اور شامیانوں کی جھالریں سچے موتیوں کی تھیں‘ غرض سیدنا ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ اس شان و شوکت والے دربار میں داخل ہوئے اور گھوڑے کو ایک گائو تکیے سے جو لب فرش پڑا ہوا تھا باندھ کر تیر کی آنی ٹیکتے اور اس فرش کو چاک و سوراخ دار بناتے ہوئے تخت کی طرف بڑھے اور بڑھ کر رستم کے برابر جا بیٹھے‘ لوگوں نے ربعی کو تخت سے نیچے اتارنا اور ان کے ہتھیاروں کو علیحدہ کرنا چاہا‘ تو سیدنا ربعی نے جواب دیا کہ میں تمہارے یہاں تمہارا بلایا ہوا آیا ہوں‘ خود اپنی کوئی استدعا لے کر نہیں آیا‘ ہمارے مذہب میں اس کی سخت ممانعت ہے کہ ایک شخص اللہ تعالیٰ بن کر بیٹھے اور باقی آدمی بندوں کی طرح ہاتھ باندھ کر اس کے سامنے کھڑے ہوں۔ رستم نے اپنے آدمیوں کو خود منع کر دیا کہ کوئی شخص اس کے حال سے معترض نہ ہو مگر کچھ سوچ کر سیدنا ربعی خود رستم کے پاس سے اٹھے اور تخت سے اتر کر خنجر سے زمین پر بچھے ہوئے قالین اور فرش کو چاک کر کے نیچے سے خالی زمین نکال کر اس پر بیٹھ گئے اور رستم سے مخاطب ہو کر کہا کہ ہم کو تمہارے اس پر تکلف فرق کی بھی ضرورت نہیں ہمارے لیے خدائے تعالیٰ کا بچھایا ہوا فرش یعنی زمین کافی ہے‘ اس کے بعد رستم نے ترجمان کے ذریعہ سیدنا ربعی سے سوال کیا کہ اس جنگ و پیکار سے تمہارا مقصد کیا ہے؟ سیدنا ربعی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہم خدائے تعالیٰ کے بندوں کو دنیا کی تنگی سے دار آخرت کی وسعت میں لانا‘ ظلم اور مذاہب باطلہ کی جگہ عدل اور اسلام کی اشاعت کرنا چاہتے ہیں‘ جو شخص عدل اور اسلام پر قائم ہو جائے گا ہم اس سے اور اس کے ملک و اموال سے متعرض نہ ہوں گے‘ جو شخص ہمارے راستے میں حائل ہو گا ہم اس سے لڑیں گے یہاں تک کہ جنت میں پہنچ جائیں گے یا فتح مند ہوں گے‘ اگر تم جزیہ دینا منظور کرو گے تو ہم اس کو قبول کر لیں گے اور تم سے متعرض نہ ہوں گے اور جب کبھی تم کو ہماری ضرورت ہو گی تمہاری مدد کو موجود ہوں گے‘ اور تمہارے جان و مال کی حفاظت کریں گے۔ یہ باتیں سن کر رستم نے سوال کیا کہ کیا تم مسلمانوں کے سردار ہو؟ سیدنا ربعی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ نہیں میں ایک معمولی سپاہی ہوں‘ لیکن ہم میں ہر ایک شخص خواہ وہ ادنیٰ ہو اعلیٰ کی طرف سے اجازت دے سکتا اور ہر متنفس ہر معاملہ میں پورا اختیار رکھتا ہے‘ یہ سن کر رستم اور اس کے درباری دنگ رہ گئے‘ پھر رستم نے کہا کہ تمہاری تلوار کا نیام بہت بوسیدہ ہے‘ سیدنا ربعی رضی اللہ عنہ نے فوراً تلوار نیام سے کھینچ کر کہا کہ اس پر آب ابھی رکھائی گئی ہے‘ پھر رستم نے کہا تمہارے نیزے کا پھل بہت چھوٹا ہے‘ یہ لڑائی میں کیا کام دیتا ہوگا‘ سیدنا ربعی نے فرمایا کہ یہ پھل سیدھا دشمن کے سینے کو چھیدتا ہوا پار ہو جاتا ہے‘ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ آگ کی چھوٹی سی چنگاری تمام شہر کو جلا ڈالنے کے لیے کافی ہوتی ہے‘ اسی قسم کی نوک جھوک کی باتوں کے بعد رستم نے کہا کہ اچھاہم تمہاری باتوں پر غور کر لیں اور اپنے اہل الرائے اشخاص سے بھی مشورہ لے لیں‘ ربعی وہاں سے اٹھے اور اپنے گھوڑے کے پاس آ کر اس پر سوار ہو کر سیدنا سعد بن ابی وقاص کی خدمت میں پہنچے۔ دوسرے روز رستم نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس پیغام بھیجا کہ آج بھی میرے پاس اپنے ایلچی کو بھیج دیجئے‘ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے سیدنا حذیفہ بن محصن کو روانہ کیا‘ سیدنا حذیفہ بھی اسی انداز اور اسی آزادانہ روش سے گئے جیسے کہ سیدنا ربعی گذشتہ روز گئے تھے‘ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ رستم کے سامنے پہنچ کر اپنے گھوڑے سے نہ اترے بلکہ گھوڑے پر چڑھے ہوئے اس کے تخت کے قریب پہنچ گئے‘ رستم نے کہا کیا سبب ہے کہ آج تم بھیجے گئے اور کل والے صاحب نہیں آئے؟ سیدنا حذیفہ نے کہا کہ ہمارا سردار عدل کرتا ہے‘ ہر خدمت کے لیے ہر ایک شخص کو موقعہ دیتا ہے‘ کل ان کی باری تھی آج میری باری آ گئی‘ رستم نے کہا کہ تم ہم کو کتنے دنوں کی مہلت دے سکتے ہو؟ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آج سے تین روز تک کی‘ رستم یہ سن کر خاموش ہوا اور سیدنا حذیفہ اپنے گھوڑے کی باگ موڑ کر سیدھے اسلامی لشکر گاہ کی طرف روانہ ہوئے۔ آج بھی سیدنا حذیفہ کی بے باکی اور حاضر جوابی سے تمام دربار حیران و ششدر رہ گیا‘ اگلے روز رستم نے پھر لشکر اسلام سے ایک سفیر کو طلب کیا‘ آج سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے مغیرہ بن شعبہ کو روانہ کیا‘ سیدنا مغیرہ کو رستم نے لالچ بھی دینا چاہا اور ڈرانے کی بھی کوشش کی لیکن سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے نہایت سخت اور معقول جواب دیا‘ جس سے رستم کو غصہ آیا‘ اور اس نے کہا میں اب تم سے ہرگز صلح نہ کروں گا اور تم سب کو قتل کر ڈالوں گا‘ سیدنا مغیرہ وہاں سے اٹھ کر اپنے لشکر گاہ کی جانب تشریف لے آئے۔