سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

جنگ قادسیہ

سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کے رخصت ہوتے ہی رستم نے اپنی فوج کو تیاری کا حکم دے دیا‘ دونوں لشکروں کے درمیان ایک نہر حائل تھی‘ رستم نے نہر پر پل بنانے کا حکم دیا اور پل فوراً بن کر تیار ہو گیا‘ اگلے دن علی الصبح رستم نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس پیغام بھیجا کہ تم نہر کے اس طرف آ کر لڑو گے یا ہم کو نہر کے اس طرف آنا چاہیے‘ سیدنا سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ نے کہلا بھیجا کہ تم ہی نہر کے اس طرف آ جائو‘ چنانچہ تمام ایرانی لشکر نہر کو عبور کر کے میدان میں آ کر جم گیا‘ میمنہ و میسرہ اور ہر اول و ساقہ وغیرہ لشکر کے ہر ایک حصہ کو رستم نے جنگی ہاتھیوں اور زرہ پوش سواروں سے ہر طرح مضبوط و مکمل بنایا‘ خود قلب لشکر میں قیام کیا‘ یہ ایرانی لشکر جو زیادہ سے زیادہ تیس ہزار کے اسلامی لشکر کے مقابلہ یں آمادہ جنگ ہوا‘ پونے دولاکھ سے زیادہ اور ہر طرح اسلامی لشکر کی نسبت سامان حرب سے مسلح تھا‘ سپہ سالارلشکر اسلام سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے دنبل (پھوڑے) نکل رہے تھے‘ اور عرق النساء کے درد کی بھی آپ کو شکایت تھی‘ لہذا نہ گھوڑے پر سوار ہو سکتے تھے‘ نہ چل پھر سکتے تھے‘ میدان جنگ میں اسلامی لشکر گاہ کے سرے پر ایک پرانے زمانے کی بنی ہوئی پختہ عمارت کھڑی تھی‘ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ خود اس عمارت کی چھت پر گائو تکیہ کے سہارے بیٹھ گئے‘ اور اپنی جگہ میدان جنگ کا سردار خالد بن عرفطہ کو تجویز کیا‘ لیکن لڑائی کے نقشے اور میدان جنگ کے اہم تغیر و تبدل کو سیدنا سعد نے اپنے ہی ہاتھ میں رکھا‘ یعنی برابر سیدنا خالد بن عرفطہ کے پاس ہدایات روانہ کرتے رہے۔ ایرانی لشکر کی تیاریوں کی خبر سن کر اسلامی لشکر بھی جنگ کی تیاری میں مصروف ہو گیا تھا‘ سیدنا عمرو بن معدیکرب رضی اللہ عنہ ‘ سیدنا عاصم بن عمرو رضی اللہ عنہ ‘ سیدنا ربعی رضی اللہ عنہ عامر وغیرہ حضرات نے سیدنا سعد کے حکم کے موافق تمام لشکر اسلام میں گشت لگا کر لوگوں کو جہاد اور جنگ پر آمادہ کیا‘ شعراء نے رجز خوانی شروع کی‘ قاریوں نے سورہ انفال کی تلاوت سے تمام لشکر میں ایک جوش اور ہیجانی کیفیت پیدا کر دی۔ بہرحال دونوں فوجیں مسلح ہو کر ایک دوسرے کے مقابل صف آراء ہو گئیں‘ سب سے پہلے لشکر ایران کی طرف سے ہرمزنامی ایک شہزادہ میدان میں نکلا جو زریں تاج پہنے ہوئے تھا‘ اور ایران کے مشہور پہلوانوں میں شمار ہوتا تھا‘ اس کے مقابلے کے لیے سیدنا غالب بن عبداللہ اسدی اسلامی لشکر سے نکلے‘ سیدنا غالب نے میدان میں جاتے ہی ہرمز کو گرفتار کر لیا اور گرفتار کر کے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس لا کر ان کے سپرد کر گئے‘ اس کے بعد ایک اور زبردست شہسوار اہل فارس کی جانب سے نکلا‘ ادھر سے سیدنا عاصم اس کے مقابلے کو پہنچے‘ طرفین سے ایک ایک دو دو وار ہی ہونے پائے تھے کہ ایرانی شہسوار بھاگا سیدنا عاصم نے اس کا تعاقب کیا لشکر فارس کی صف اول کے قریب پہنچ کر اس کے گھوڑے کی دم پکڑ کر روک لیا اور سوار کو اس کے گھوڑے سے اٹھا کر اور اپنے آگے زبردستی بٹھا کر گرفتار کر لائے‘ یہ بہادری دیکھ کر لشکر ایران سے ایک اور بہادر چاندی کا گرز لیے ہوئے نکلا‘ اس کے مقابلہ پر سیدنا عمروبن معدیکرب نکلے اور گرفتار کر کے لشکر اسلام میں لے آئے۔ رستم نے اپنے کئی سرداروں کو اس طرح گرفتار ہوئے دیکھ کر فوراً جنگ مغلوبہ شروع کر دی اور سب سے پہلے ہاتھیوں کی صف کو مسلمانوں کی طرف ریلا ہاتھیوں کے اس حملہ کو قبیلہ بجیلہ نے روکا‘ لیکن ان کا بہت نقصان ہوا‘ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے جو بڑے غور سے میدان جنگ کا رنگ دیکھ رہے تھے‘ فوراً بنی اسد کے لوگوں کو بجیلہ کی کمک کے لیے حکم دیا‘ بنو اسد نے آگے بڑھ کر خوب خوب داد مردانگی دی‘ لیکن جب ان کی بھی حالت نازک ہوئی‘ تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فوراً قبیلہ کندہ کے بہادروں کو آگے بڑھنے کا حکم دیا‘ بنو کندہ نے آگے بڑھ کر اس شان سے حملہ کیا کہ اہل فارس کے پائوں اکھڑ گئے اور وہ پیچھے ہٹنے لگے‘ رستم نے یہ رنگ دیکھ کر تمام لشکر ایران کو مجموعی طاقت سے یک بارگی حملہ کرنے کا حکم دیا‘ اس متفقہ سخت حملے کو دیکھ کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی‘ اور تمام اسلامی لشکر نے سیدنا سعد کی تقلید میں تکبیر کہہ کر ایرانیوں پر حملہ کیا ‘ گویا دو سمندر ایک دوسرے پر امنڈ آئے یا دو پہاڑ ایک دوسرے سے ٹکرائے‘ فریقین کی فوجیں ایک دوسرے میں خلط ملط ہو گئیں‘ اس حالت میں ایرانیوں کے جنگی ہاتھیوں نے اسلامی لشکر کو سخت نقصان پہنچانا شروع کیا‘ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فوراً تیر اندازوں کو حکم دیا کہ ہاتھیوں پر اور ہاتھیوں کے سواروں پر تیر اندازی کرو‘ سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ نے نیزہ لے کر ہاتھیوں پر حملہ کیا‘ ان کی تقلید میں دوسرے بہادروں نے بھی ہاتھیوں کی سونڈوں پر تلواروں اور نیزوں سے زخم پہنچانے شروع کئے‘ تیر اندازوں نے ایسے تیر برسائے کہ فیل نشینوں کو جوابی تیر اندازی کی مہلت ہی نہ ملی‘ نتیجہ یہ ہوا کہ ہاتھی پیچھے ہٹے اور بہادروں کے لیے میدان میں شمشیر زنی کے جوہر دکھانے کے مواقع ملے‘ صبح سے شام تک میدان کارزار گرم رہا‘ رات کی تاریکی نے لڑائی کو کل کے لیے ملتوی کر دیا‘ یہ دو شنبہ کا روز تھا محرم ۱۴ ھ کا واقعہ ہے۔ اگلے دن علی الصبح بعد نماز فجر سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے کل کے شہداء کو قادسیہ کے مشرق کی جانب دفن کرایا‘ کل کے شہدا کی تعداد پانچ سو تھی زخمیوں کی مرہم پٹی کا سامان رات ہی میں کر دیا گیا تھا‘ شہداء کے دفن سے فارغ ہو کر اسلامی لشکر نے اپنی صفیں مرتب کیں‘ ایرانی بھی میدان مین آڈٹے‘ ابھی لڑائی شروع نہیں ہوئی تھی کہ ملک شام سے روانہ کئے ہوئے لشکر کے قریب پہنچنے کی خبر پہنچی‘ ملک شام سے سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح نے سیدنا ہاشم بن عتبہ کی سرداری میں لشکر عراق کو واپس بھیجا تھا‘ اس لشکر کے مقدمۃ الجیش پر سیدنا قعقاع بن عمرو افسر تھے اور وہ ایک ہزار کا مقدمۃ الجیش لیے ہوئے سب سے پہلے قادسیہ پہنچے اور سیدنا سعد کو بڑے لشکر کے قریب پہنچنے کی خوش خبری سنا کر خود اجازت لے کر میدان میں نکلے اور مبارز طلب کیا‘ ان کے مقابلہ پر بہمن جادویہ آیا‘ طرفین سے داد سپہ گری دی گئی اور جوہر مردانگی دکھائے گئے لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ سیدنا قعقاع کے ہاتھ سے بہمن جادویہ ہلاک ہوا اس کے بعد کئی مشہور و نامور ایرانی بہادر میدان میں نکلے اور مقتول ہوئے۔ بالآخررستم نے عام حملہ کا حکم دیا اور بڑے زور و شور سے لڑائی ہونے لگی۔ ہاشم بن عتبہ نے میدان جنگ کے گرم ہونے کا حال سن کر اپنی چھ ہزار فوج کے بہت سے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر دئے اور حکم دیا کہ تھوڑے تھوڑے وقفہ سے ایک ایک حصہ تکبیر کہتا ہوا داخل ہو‘ اس طرح شام تک یکے بعد دیگرے یہ دستے لشکر اسلام میں داخل ہوتے‘ اور ایرانی اس طرح پیہم کمکی دستوں کی آمد دیکھ کر خوف زدہ ہوتے رہے۔ آج بھی ہاتھیوں کا فتنہ لشکر اسلام کے لیے بہت سخت تھا لیکن مسلمانوں نے ایک نئی تدبیر یہ کی کہ اونٹوں پر بڑی بڑی جھولیں ڈالیں‘ وہ بھی ہاتھیوں کی طرح مہیب نظر آتے اور ایرانیوں کے گھوڑے ان کو دیکھ دیکھ کر بدکنے لگے‘ جس قدر ہاتھیوں سے اسلامی لشکر کو نقصان پہنچتا تھا‘ اسی قدر ایرانی لشکر کو ان مصنوعی ہاتھیوں سے نقصان پہنچنے لگا‘ آج سیدنا قعقاع نے بہت سے ایرانی سرداروں اور مشہور شہسواروں کو قتل کیا‘ شام تک بازار جنگ گرم رہا‘ آج ایک ہزار مسلمان اور دس ہزار ایرانی میدان جنگ میں کام آئے۔ تیسرے روز سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے نماز فجر سے فارغ ہوتے ہی اول شہداء کی لاشوں کے دفن کرنے کا انتظام کیا‘ مجروحوں کو عورتوں کے سپرد کیا گیا کہ وہ مرہم پٹی کریں‘ اس کے بعد دونوں فوجیں میدان جنگ میں ایک دوسرے کے مقابل ہوئیں‘ آج بھی ایرانیوں نے ہاتھیوں کو آگے رکھا لیکن قعقاع و عاصم نے مل کر فیل سفید پر جو تمام ہاتھیوں کا سردار تھا حملہ کیا اور اس کو مار ڈالا فیل سفید کے مارے جانے کے بعد ایک دوسرے ہاتھی پر حملہ ہوا تو وہ میدان سے اپنی جان بچا کر بھاگا‘ اس کو بھاگتے ہوئے دیکھ کر دوسرے ہاتھیوں نے بھی تقلید کی اور اس طرح آج ہاتھیوں کا وجود بجائے اس کے اسلامی لشکر کو نقصان پہنچاتا خود ایرانیوں کے لیے نقصان رساں ثابت ہوا۔ آج بھی بڑے زور کی لڑائی ہوئی اور صبح سے شام تک جاری رہی‘ غروب آفتاب کے بعد تھوڑی دیر کے لیے دونوں فوجیں ایک دوسرے سے جدا ہوئیں اور پھر فوراً مستعد ہو کر ایک دوسرے کے مقابل صف آرا ہو گئیں‘ مغرب کے وقت سے شروع ہو کر صبح تک لڑائی جاری رہی‘ تمام رات لڑائی کا شور و غل اور ہنگامہ برپا رہا‘ نہ پوری کیفیت سیدنا سعد کو معلوم ہو سکتی تھی نہ رستم کو‘ غرض یہ رات بھی ایک عجیب قسم کی رات تھی‘ سپہ سالار اسلام سیدنا سعد رات بھر دعا میں مصروف رہے‘ آدھی رات کے بعد انہوں نے میدان جنگ کے شور و غل میں سیدنا قعقاع کی آواز سنی کہ وہ اپنے لوگوں کو کہہ رہے ہیں کہ سب سمٹ کر قلب پر حملہ کرو اور رستم کو گرفتار کر لو‘ اس آواز نے نہ صرف سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو تسکین دی بلکہ تمام مسلمانوں میں از سر نو طاقت پیدا کر دی‘ تمام دن اور تمام رات لڑتے ہوئے غازیان اسلام تھک کر چور چور ہو گئے تھے‘ مگر اب پھر ہر قبیلہ کے سردار نے اپنی اپنی قوم کو مقابلہ کے لیے برانگیختہ کیا‘ بڑے زور شور سے تلوار چلنے لگی۔ سیدنا قعقاع کی رکابی فوج لڑتی ہوئی اس مقام تک پہنچ گئی جہاں رستم ایک زریں تخت پر بیٹھا ہوا اپنی فوج کو لڑا رہا‘ اور حصہ فوج کو احکام بھیج رہا تھا۔ اسلامی حملہ آوروں کے قریب پہنچنے پر رستم خود تخت سے اتر کر لڑنے لگا‘ جب زخمی ہوا تو پیٹھ پھیر کر بھاگا‘ سیدنا ہلال بن علقمہ نے فوراً آگے بڑھ کر بھاگتے ہوئے برچھے کا وار کیا‘ جس سے اس کی کمر ٹوٹ گئی اور نہر میں گر پڑا‘ ہلال نے فوراً گھوڑے سے کود کر اور جھک کر رستم کی ٹانگیں پکڑ کر باہر کھینچ لیا‘ اور اس کا کام تمام کر کے فوراً رستم کے تخت پر کھڑے ہو کر بلند آواز سے پکارا کہ ’’اللہ تعالیٰ کی قسم میں نے رستم کو قتل کر دیا ہے‘‘ اس آواز کے سنتے ہی اسلامی فوجوں نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور ایرانیوں کے ہوش و حواس باختہ ہو گئے‘ ایرانی میدان سے بھاگے‘ لشکر ایران میں سواروں کی تعداد تیس ہزار تھی جن میں سے بمشکل تیس سوار بھاگ کر اپنی جان بچا کر جا سکے‘ باقی سب میدان جنگ میں مارے گئے۔ سیدنا ضرار بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے درفش کاویانی ایرانیوں کے مشہور جھنڈے پر قبضہ کیا جس کے عوض انہوں نے تیس ہزار دینار لیے حالانکہ وہ دو لاکھ دس ہزار دینار کر مالیت کا تھا۔ اس لڑائی میں مسلمانوں کے کل چھ ہزار آدمی شہید ہوئے‘ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے رستم کا تمام سامان و اسلحہ ہلال بن علقمہ کو دیا اور قعقاع و شرجیل کو تعاقب کے لیے روانہ کیا‘ لیکن ان سے بھی پہلے سیدنا زہرہ بن حیوۃ ایک دستہ فوج لے کر ایرانیوں کے پیچھے روانہ ہو چکے تھے‘ راستے میں جالینوس مفروروں کو روک روک کر مجتمع کر رہا تھا‘ سیدنا زہرہ نے اس کو حملہ کر کے قتل کر دیا اور اس کے تمام مال و سامان پر قبضہ کر کے سیدنا سعد کی خدمت میں حاضر ہوئے‘ سیدنا سعد کو جالینوس کا سامان ان کے حوالہ کرنے میں تامل ہوا‘ اور اس معاملہ میں دربار خلافت سے اجازت طلب کی‘ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے سیدنا زہرہ کی ستائش کی اور جالینوس کا سامان انہیں کو دے دینے کا حکم دیا۔ سیدنا سعد نے میدان جنگ کا ہنگامہ فرو ہونے کے بعد مال غنیمت فراہم کیا‘ فوراً سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں فتح کی خوش خبری کا خط لکھا اور ایک تیز رفتار شتر سوار کو دے کر مدینہ کی طرف روانہ کیا‘ یہاں فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا یہ حال تھا کہ روزانہ صبح اٹھ کر مدینے سے باہر دور تک نکل جاتے اور قادسیہ کے قاصد کا انتظار کر کے دوپہر کے بعد مدینہ میں واپس آ جاتے تھے‘ ایک روز حسب دستور وہ باہر تشریف لے گئے‘ دور سے ایک شتر سوار نظر پڑا‘ اس کی طرف لپکے‘ قریب پہنچ کر دریافت کیا کہ کہاں سے آتے ہو‘ اس نے کہا کہ میں قادسیہ سے آ رہا ہوں اور خوش خبری لایا ہوں کہ خدائے تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عظیم عطا کی‘ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اس لڑائی کی کیفیت اور فتح کے تفصیلی حالات دریافت کرنے شروع کئے اور شتر سوار کی رکاب پکڑے ہوئے اس کے ساتھ ساتھ دوڑتے ہوئے مدینے میں داخل ہوئے‘ شتر سوار حالات سناتا جاتا تھا اور اپنے اونٹ پر سوار مدینہ میں دربار خلافت کی جانب چلا جاتا تھا۔ شہر میں داخل ہو کر شتر سوار نے دیکھا کہ ہر شخص جو سامنے آتا ہے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو امیرالمومنین کہہ کر سلام علیک کرتا ہے‘ تب اس کو معلوم ہوا کہ جو شخص میرے ساتھ پیدل چل رہا ہے وہ خلیفہ وقت ہے‘ یہ معلوم کر کے وہ ڈرا اور اونٹ سے اترنا چاہا لیکن فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم حالات سناتے جائو اور بدستور اپنے اونٹ پر سوار چلے چلو‘ چنانچہ اسی طرح گھر تک آئے‘ مسجد نبوی میں پہنچ کر لوگوں کو جمع کیا اور فتح کی خوش خبری سب کو سنائی‘ ایک نہایت پر اثر تقریر فرمائی جس کا خاتمہ اس طرح تھا۔ ’’بھائیو! میں بادشاہ نہیں ہوں کہ تم کواپنا غلام بنانا چاہوں‘ میں تو خود اللہ تعالیٰ کا غلام ہوں‘ البتہ خلافت کا کام میرے سپرد ہے‘ اگر میں یہ کام اس طرح انجام دوں کہ تم آرام سے اپنے گھروں میں اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کرو تو یہ میری خوش نصیبی ہے اور اگر خدانخواستہ میری یہ خواہش ہو کہ تم لوگ میرے دروازے پر حاضری دیا کرو تو یہ میری بدبختی ہو گی‘ میں تم کو تعلیم دیتا ہوں اور نصیحت کرتا ہوں لیکن صرف قول سے نہیں بلکہ عمل سے بھی‘‘