سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ
معرکہ جلولاء
جب مدائن پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا تو یزدجرد مدائن سے بھاگ کر مقام حلوان میں مقیم ہوا‘ رستم بن فرخ زاد کے بھائی خرزاد بن فرخ زاد نے مقام جلولاء میں لشکر اور سامان حرب بڑی قابلیت اور حوصلے کے ساتھ فراہم کرنا شروع کیا‘ قلعہ اور شہر کے گرد خندق کھدوائی‘ گوکھرو بنوا کر مسلمانوں کی آمد اور حملے کے راستوں پر بچھوائے‘ یہ جنگی تیاری اور فوجی اجتماع اس قدر عظیم و اہم تھا کہ ایک طرف ایرانیوں کی آنکھیں اس طرف لگی ہوئی تھیں تو دوسری طرف مسلمانوں کو بھی اس کا خاص طور پر خیال تھا‘ چنانچہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے یہ تمام کیفیت مدینہ منورہ میں سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے پاس لکھ کر بھیجی۔
دربار فاروقی سے حکم آیا کہ ہاشم بن عتبہ بارہ ہزار کی فوج لے کر جلولاء کی مہم پر روانہ ہوں‘ مقدمۃ الجیش سیدنا قعقاع کو سپرد کیا جائے‘ معشربن مالک کو میمنہ کی اور عمرو بن مالک کو میسرہ کی سرداری دی جائے اور ساقہ پر عمروبن مرہ کو مقرر کیا جائے‘ اس حکم فاروقی کے موافق سیدنا ہاشم مدائن سے روانہ ہو کر چوتھے روز جلولاء پہنچے اور شہر کا محاصرہ کیا‘ یہ محاصرہ کئی مہینے جاری رہا‘ ایرانی قلعہ سے نکل کر حملہ آور بھی ہوتے رہتے تھے۔ اس طرح مسلمانوں اور ایرانیوں میں جلولاء کے محاصرہ کے ایام میں بہت سے معرکے ہوئے اور ہر معرکہ میں ایرانی مغلوب ہوتے رہے‘ جلولاء میں لاکھوں ایرانی جنگ جو موجود تھے‘ مسلمانوں کی تعداد ہزاروں سے متجاوز نہ تھی‘ اپنی جمعیت کی کثرت اور سامان حرب کی فراوانی پر اعتماد کر کے ایرانیوں نے خوب جی توڑ کر مقابلہ کیا مگر آخر مسلمانوں کے مقابلہ میں ناکام و نامراد ثابت ہوئے‘ ایک لاکھ ایرانی اس معرکہ میں مسلمانوں کے ہاتھ سے مارے گئے‘ تین کروڑ کا مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔
یزدجرد نے حلوان میں جب جلولاء کے سقوط کا حال سنا تو وہ حلوان میں نہ ٹھہر سکا۔ وہاں سے بھاگ کر رے کی جانب روانہ ہوا اور حلوان میں خسرو شنوم کو ایک مناسب جنگی جمعیت کے ساتھ چھوڑ گیا‘ سیدنا قعقاع معرکہ جلولاء کے بعد مقام حلوان کی طرف روانہ ہوئے‘ خسرو شنوم سے حلوان سے نکل کر مقابلہ کیا‘ مگر شکست کھا کر بھاگا اور قعقاع نے حلوان پر قبضہ کیا۔
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ان فتوحات کے بعد مال غنیمت کا خمس اور فتح کی خوش خبری سیدنا زیاد کے ہاتھ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجی‘ اور ملک ایران میں آگے بڑھنے کی اجازت طلب کی‘ سیدنا زیاد رضی اللہ عنہ یہ مال غنیمت لے کر شام کے وقت مدینہ منورہ میں داخل ہوئے‘ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فتوحات کا حال سن کر لوگوں کو جمع کیا اور زیاد کو حکم دیا کہ اب ان سب کو وہ حالات جو مجھ کو سنا چکے ہو سنائو‘ چنانچہ سیدنا زیاد رضی اللہ عنہ نے نہایت طاقت و فصاحت کے ساتھ مسلمانوں کی بہادریوں کے نقشے کھینچ کر سامعین کے سامنے رکھ دئیے‘ پھر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مال غنیمت کا انبار صحن مسجد میں اسی طرح موجود ہے‘ اس کی چوکسی و نگرانی کا انتظام کر دیا اگلے دن فجر کے بعد آپ نے وہ تمام مال و اسباب لوگوں کو تقسیم فرما دیا‘ جواہرات کے انبار اور مال غنیمت کی بیش قیمتی و کثرت دیکھ کر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ رو پڑے تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف نے کہا کہ امیر المومنین یہ تو مقام شکر تھا‘ آپ روتے کیوں ہیں؟ سیدنا عمر فاروق اعظم نے جواب دیا کہ خدائے تعالیٰ جس قوم کو دنیا کی دولت عطا فرماتا ہے اس میں رشک اور حسد بھی پیدا ہو جاتا ہے اور اس لیے اس قوم میں تفرقہ پڑ جاتا ہے‘ پس مجھ کو اس وقت اسی تصور نے رولا دیا۔
اس کے بعد فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد کے جواب میں ان کے پاس حکم بھیجا‘ کہ مسلمانوں نے پیہم صعوبات برداشت کی ہیں‘ ابھی چند روز اپنے لشکر کو آرام کرنے کا موقع دو۔
جنگ جلولا ۱۶ ھ میں واقع ہوئی‘ یہاں تک حالات کے بیان کرنے میں دانستہ تاریخ ‘ مہینہ اور سال کا ذکر اس لیے ترک کر دیا ہے کہ بعض واقعات کی تاریخ اور سنہ ایک مورخ کچھ بیان کرتا اور دوسرا کچھ اور‘ اندریں صورت واقعات کی ترتیب کا صحیح ہونا کافی سمجھا گیا‘ عراق کے حالات ۱۶ ھ یعنی معرکہ جلولا تک اسی ترتیب سے وقوع پذیر ہوئے‘ جو اوپر مذکور ہوئے۔ اب ان حالات کو یہیں تک چھوڑ کر پھر ملک شام کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔