سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

فتح قیساریہ(قیرہ) و فتح اجنادین

انہیں ایام میں انطاکیہ و علاقہ انطاکیہ کو اسلامی لشکر فتح کر رہا تھا‘ دمشق کے عامل سیدنا یزید بن ابی سفیان نے اپنے بھائی معاویہ بن ابی سفیان کو حکم فاروق کی بنا پر فوج دے کر قیساریہ کی طرف بھیجا‘ وہاں سخت معرکہ پیش آیا اور اسی ہزار عیسائی میدان جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھ مارے گئے اور قیساریہ پر مسلمانوں کا قبضہ ہوا۔ مہم مرج روم اور فتح بیسان کے بعد قیصر ہرقل نے ارطبون نامی بطریق کو جو نہایت بہادر اور مشہور سپہ سالار تھا مقام اجنادین میں فوجیں جمع کرنے کا حکم دیا‘ ارطبون نے ایک زبردست فوج تو اپنے پاس مقام اجنادین میں رکھی اور ایک فوج مقام رملہ میں اور ایک بیت المقدس میں تعینات کی‘ یہ افواج اسلامی حملہ آوروں کی منتظر اور ہر طرح کیل کانٹے سے لیس اور تعداد میں بے شمار تھیں‘ سیدنا عمروبن العاص رضی اللہ عنہ نے جو اس سمت کے حصہ افواج کی سرداری رکھتے تھے بحکم ابوعبیدہ‘ علقمہ بن حکیم فراسی اور مسرور بن العکی کو بیت المقدس کی طرف‘ اور ابوایوب المالکی کورملہ کی جانب روانہ کیا‘ عمروخود ارطبون کے مقابلہ کو اجنادین کی جانب بڑھے‘ اجنادین میں نہایت سخت معرکہ آرائی ہوئی‘ یہ لڑائی جنگ یرموک کی مانند تھی‘ بالآخر ارطبون سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کے مقابلہ سے شکست کھا کر بیت المقدس کی طرف بھاگا‘ سیدنا علقمہ بن حکیم فراسی نے جو بیت المقدس کا محاصرہ کئے ہوئے تھے راستہ دے دیا‘ ارطبون بیت المقدس میں داخل ہو گیا اور اجنادین پر سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کا قبضہ ہوا۔