سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ
فتح بیت المقدس
ارطبون جب بیت المقدس میں داخل ہو گیا تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے غزہ سبنطیہ‘ نابلس‘ لد‘ عمواس‘ بیت جبرین‘ یافا وغیرہ مقامات پر قبضہ کیا‘ اور بیت المقدس کے اردگرد کے تمام علاقے پر قابض ہو کر بیت المقدس کی طرف بڑھے‘ اور محاصرہ کو سختی سے جاری رکھا‘ انہیں ایام میں سیدنا ابوعبیدہ شام کے انتہائی اضلاع قنسرین وغیرہ کی فتح سے فارغ ہو کر فلسطین و بیت المقدس کی طرف روانہ ہو چکے تھے‘ عیسائی قلعہ بند ہو کر نہایت سختی سے محاصرین کی مدافعت اور مقابلہ کررہے تھے‘ ابوعبیدہ کے آ جانے کی خبر سن کر ان کی ہمت کچھ پست سی ہو گئی اور سپہ سالاراعظم یعنی سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے پہنچنے پر انہوں نے صلح کے سلام و پیام جاری کئے‘ مسلمانوں کی طرف سے صلح میں کوئی تامل ہوتا ہی نہ تھا‘ مسلمانوں کی طرف سے جو شرائط پیش ہوتے تھے وہ بہت سادہ اور ایسے مقررہ معینہ تھے کہ تمام عیسائی ان سے واقف تھے‘ لیکن بیت المقدس کے عیسائیوں نے صلح کی شرائط میں ایک خاص شرط کا اضافہ ضروری و لازمی قرار دیا‘ وہ یہ کہ عہد نامہ خود خلیفہ وقت آ کر لکھے۔
ارطبون بطریق بیت المقدس سے نکل کر مصر کی طرف بھاگ گیا تھا‘ رئوسا شہر اور شرفائے بیت المقدس ہی مدافعت میں استقامت دکھا رہے تھے اور اب شہر کا قبضہ میں آ جانا کچھ بھی دشوار نہ تھا‘ لیکن سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح نے یہی مناسب سمجھا کہ جہاں تک ہو سکے کشت و خون کا امکان محدود کیا جائے اور جنگ پر صلح کو فوقیت دی جائے۔
چنانچہ انہوں نے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو ان حالات کا ایک خط لکھا اور اس میں تحریر کیا کہ آپ کے یہاں تشریف لانے سے بیت المقدس بلا جنگ قبضہ میں آ سکتا ہے‘ فاروق اعظم نے اس خط کے پہنچنے پر اھل الرائے حضرات کو مسجد نبوی میں بغرض مشورہ طلب کیا‘ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ عیسائی اب مغلوب ہو چکے ہیں‘ ان میں مقابلے اور مدافعت کی ہمت و طاقت نہیں رہی‘ آپ بیت المقدس کا سفر اختیار نہ کریں‘ خدائے تعالیٰ عیسائیوں کو اور بھی زیادہ ذلیل کرے گا اور وہ بلاشرط شہر کو مسلمانوں کے سپرد کر دیں گے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میری رائے میں آپ کو ضرور جانا چاہیے۔