سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

فاروق اعظم کا سفر فلسطین

فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی کی رائے کو پسند کیا اور روٹیوں کا ایک تھیلا‘ ایک اونٹ‘ ایک غلام‘ ایک لکڑی کا پیالہ ہمراہ لے کر اور اپنی جگہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو مدینہ کا عامل مقرر فرما کر روانہ ہو گئے‘ آپ کے اس سفر کی سادگی و جفاکشی عام طور پر مشہور ہے‘ کبھی غلام اونٹ کی مہار پکڑ کر چلتا اور سیدنا فاروق اعظم اونٹ پر سوار ہوتے اور کبھی غلام اونٹ پر سوار ہوتا اور فاروق اعظم اونٹ کی مہار پکڑے ہوئے آگے چلتے‘ یہ اس عظیم الشان شہنشاہ اور خلیفہ اسلام کا سفر تھا جس کی فوجیں قیصرو کسریٰ کے محلات اور تخت و تاج کو اپنے گھوڑوں کی ٹاپوں میں روند چکی تھیں۔ یہ مہینہ جس میں فاروق اعظم کا یہ سفر شروع ہوا ہے رجب کا مہینہ تھا اور ۱۶ ھ جب کہ مدائن و انطاکیہ فتح ہو چکے تھے‘ عزم روانگی کے ساتھ ہی روانگی سے پہلے آپ نے دمشق و بیت المقدس کی اسلامی افواج کے سردار کو اطلاع دے دی تھی‘ سب سے پہلے یزید بن ابی سفیان‘ ان کے بعد ابوعبیدہ بن جراح‘ ان کے بعد سیدنا خالد بن ولید نے آپ کا استقبال کیا‘ آپ نے ان سرداروں کو خوبصورت اور شان و شوکت کے لباس میں اپنے استقبال کو آتے دیکھا‘ دیکھ کر طیش و غضب کا اظہارفرمایا اور فرمایا کہ تم لوگوں نے دو ہی برس میں عجمیوں کی خوبو اختیار کر لی‘ مگر جب ان سرداروں نے فرمایا کہ ہماری ان پر تکلف قبائوں کے نیچے سلاح حرب موجود ہیں اور ہم عربی اخلاق پر قائم ہیں تب آپ کو اطمینان ہوا۔