سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا فرمان
ایک ایک حکم ہر ایک عامل کے نام بھی پہنچ گیا کہ ضرور شریک حج ہونا چاہیے چنانچہ عبداللہ بن سعد والی مصر‘ معاویہ ابن ابی سفیان والی شام‘ عبداللہ بن عامر وغیرہ تمام عمال مکہ معظمہ میں حج کے موقعہ پر جمع ہو گئے‘ عبداللہ بن سبا کی تجویز کے موافق لوگ ہر ایک صوبے اور ہر ایک مرکز سے روانہ ہوئے اور وہ بجائے اس کے کہ مکہ معظمہ میں آتے‘ مدینہ منورہ میں آ کر جمع ہو گئے‘ حج کے ایام میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اعلان کرایا کہ تمام عامل موجود رہیں جس کا جی چاہے آ کر اپنی شکایت پیش کرے‘ مگر کوئی شخص کسی عامل کی شکایت لے کر نہ آیا۔
خلیفہ وقت کی مجلس میں جو لوگ موجود تھے وہ اس فساد و فتنے کے مٹانے کی نسبت باہم مشورہ کرنے لگے اور اس طرح ان کی باتوں نے طول کھینچا‘ سیدنا عثمان غنی نے سب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ فتنہ تو ضرور برپا ہونے والا ہے اور اس کا دروازہ عنقریب کھل جائے گا‘ میں یہ نہیں چاہتا کہ فتنے کے اس دروازے کے کھولنے کا الزام مجھ پر عائد ہو‘ خدائے تعالیٰ خوب آگاہ ہے کہ میں نے لوگوں کے ساتھ سوائے بہتری اور بھلائی کے اور کچھ نہیں کیا‘‘ اس کے بعد سب خاموش ہو گئے اور حج سے فارغ ہو کر خلیفہ وقت مدینہ منورہ میں آ گئے یہاں آ کر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو جو باہر سے آئے تھے ایک جلسہ میں طلب کیا‘ اور اسی جلسہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ ‘ سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو بھی بلوایا‘ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی مکہ سے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ آئے تھے اور وہ بھی اس وقت موجود تھے‘ اس مجلس میں سب سے پہلے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور حمدو نعت کے بعد کہا کہ
’’آپ سب حضرات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اصحاب اور صاحب حل و عقد ہیں اور اس امت کے سرپرست ہیں‘ آپ حضرات نے اپنے دوست یعنی عثمان غنی کو بلا رو رعایت خلیفہ منتخب کیا‘ اب وہ بوڑھے ہو گئے ہیں‘ ان کی نسبت قسم قسم کی باتیں لوگوں کی زبان پر جاری ہیں‘ آپ لوگوں نے اس معاملہ میں اگر کوئی فیصلہ کیا ہے‘ تو اس کو ظاہر کیجئے میں جواب دینے کے لیے تیار ہوں‘ ہاں یہ بھی بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر کسی کو خلافت و امارت کی طمع ہو تو یاد رکھو کہ تم لوگ سوائے پیٹھ پھیر کر بھاگنے کے اور کچھ نہ حاصل کر سکو گے‘‘۔
اس تقریر کے آخری فقرے کو سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو جھڑک دیا‘ وہ بیٹھ گئے اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے‘ انہوں نے فرمایا کہ
’’اس میں شک نہیں کہ سیدنا ابوبکرصدیق اور سیدنا عمر فاروق نے خلیفہ ہو کر احتیاط اور احتساب کی وجہ سے اپنے عزیز و اقارب کی مطلق بات نہ پوچھی‘ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے رشتہ داروں کا لحاظ فرماتے‘ اوران کو مدد دیتے تھے‘ میرے عزیز و اقارب غریب لوگ ہیں‘ میں ان کے ساتھ سلوک کرتا ہوں‘ اگر تم اس کو ناجائز ثابت کر دو‘ تو میں اس طرز عمل سے دست کش ہونے کو تیار ہوں‘‘۔