سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

اعتراض

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے یہیں تک فرمایا تھا‘ کہ ایک شخص نے اٹھ کر اعتراض کیا‘ کہ آپ اپنے رشتہ داروں کو ناجائز طور پر مال دیتے ہیں مثلاً عبداللہ بن سعد کو آپ نے تمام مال غنیمت بخش دیا‘ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں نے اس کو مال غنیمت کے خمس میں سے صرف پانچواں حصہ دیا ہے‘ مجھ سے پہلے خلافت صدیقی اور خلافت فاروقی میں بھی اس کی مثال موجود ہیں۔ اس کے بعد ایک اور شخص اٹھا اور اس نے کہا کہ تم نے اپنے عزیزو اقارب کو امارتیں اور حکومتیں دے رکھی ہیں مثلاً معاویہ رضی اللہ عنہ بن ابی سفیان کو تمام ملک شام پر امیر بنا رکھا ہے‘ بصرے کی امارت سے ابو موسیٰ اشعری کو معزول کر کے ان کی جگہ عبداللہ بن عامر کو امیر بنایا‘ کوفہ کی امارت سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو جدا کر کے ولید بن عقبہ کو اور اس کے بعد سعید بن العاص کو امیر بنایا‘ یہ سن کر سیدنا عثمان نے جواب دیا کہ جن لوگوں کو میں نے امارتیں دے رکھی ہیں وہ میرے اقارب نہیں ہیں‘ اور وہ اپنے عہدوں کے کام کو بحسن و خوبی انجام دینے کی قابلیت رکھتے ہیں‘ اگر وہ آپ لوگوں کی رائے میں امارت کے قابل نہیں اور مجھ پر ان کی بے جا رعایت کا الزام عائد ہوتا ہے تو میں ان لوگوں کی جگہ دوسروں کو مقرر کرنے کے لیے تیار ہوں‘ چنانچہ میں نے سعید بن العاص کو ان کی امارت سے جدا کر کے ابوموسیٰ اشعری کو کوفہ کا گورنر بنا دیا ہے۔ اس کے بعد ایک شخص نے کہا کہ تم نے بلا استحقاق اور ناقابل رشتہ داروں کو امارتیں دی ہیں جو ان امارتوں کے اہل نہ تھے مثلاً عبداللہ بن عامر ایک نوجوان شخص ہیں‘ ان کو والی نہیں بنانا چاہیے تھا۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ عبداللہ بن عامر عقل و فراست‘ دین داری و قابلیت میں خاص طور پر ممتاز ہے‘ محض نوجوان ہونا کوئی عیب کی بات نہیں ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسامہ بن زید کو صرف ۱۷ سال کی عمر میں کیوں امیر بنایا تھا۔ اس کے بعد ایک اور شخص اٹھا اور اس نے کہا کہ آپ کو اپنے کنبے والوں سے بڑی محبت ہے‘ آپ ان کو بڑے بڑے عطیات دیتے ہیں‘ سیدنا عثمان نے جواب دیا کہ اہل خاندان سے محبت کا ہونا کوئی گناہ نہیں ہے‘ میں ان کو اگر عطیات دیتا ہوں تو بیت المال سے نہیں‘ بلکہ اپنے ذاتی مال سے دیتا ہوں‘ بیت المال سے تو میں نے اپنے خرچ کے لیے بھی ایک کوڑی نہیں لی‘ اپنے رشتہ دار کے لیے بلا استحقاق کیسے لے سکتا تھا‘اپنے ذاتی مال کا مجھ کو اختیار ہے جس کو چاہوں دوں۔ اس کے بعد ایک شخص اٹھا اور اس نے کہا کہ تم نے چراگاہ کو اپنے لیے مخصوص کر لیا ہے‘ سیدنا عثمان غنی نے جواب دیا‘ کہ میں جب خلیفہ منتخب ہوا تھا‘ تو مدینہ میں مجھ سے زیادہ نہ کسی کے اونٹ تھے نہ بکریاں‘ لیکن آج کل میرے پاس صرف دو اونٹ ہیں جو صرف حج کی سواری کے لیے رکھ لیے ہیں‘ میں ان کو چرائی پر بھی نہیں بھیجتا‘ البتہ بیت المال کے اونٹوں کی چراگاہ ضرور مخصوص ہے اور وہ میرے زمانہ میں نہیں‘ بلکہ پہلے سے مخصوص چلی آتی ہے‘ اس کا مجھ پر کوئی الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ پھر ایک شخص نے کہا‘ کہ تم یہ بتائو کہ تم نے منیٰ میں پوری نماز کیوں پڑھی‘ حالانکہ قصر کرنی چاہیے تھی‘ سیدنا عثمان غنی نے جواب دیا کہ میرے اہل و عیال مکہ میں مقیم تھے‘ لہذا میرے لیے نماز کا قصر نہ کرنا جائز تھا۔ غرض اس قسم کے اعتراضات۱؎ سر مجلس لوگوں نے کئے اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ہر ایک کا کافی و شافی جواب دیا‘ اس کے بعد جلسہ برخاست ہوا اور لوگ خاموشی کے ساتھ اٹھ کر منتشر ہو گئے‘ سیدنا عمروبن العاص رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کی طرف سے لوگوں کے ساتھ نرمی کا ضرورت سے زیادہ اظہار ہو رہا ہے‘ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا یہ طریقہ نہیں تھا‘ ان سے سینکڑوں کوس کے فاصلہ پر بیٹھے ہوئے عامل ان کے پیش خدمت غلام سے بھی زیادہ ڈرتے اور خائف رہتے تھے‘ لوگوں کے ساتھ نرمی صرف اسی حد تک برتنی چاہیے جہاں تک کہ فتنہ و فساد کے پیدا ہونے کا اندیشہ نہ ہو‘ آپ جن لوگوں کو جانتے ہیں کہ وہ مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کو قتل نہیں کرا دیتے‘ سیدنا عثمان غنی نے سیدنا عمرو کے اس مشورے کو سنا اور خاموش ہو گئے۔