سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

عبداللہ بن سبا کی سازش

عبداللہ بن سبا نے مصر میں بیٹھے بیٹھے اپنے تمام انتظامات خفیہ طور پر مکمل کر لیے تھے اور سیدنا عمار بن یاسر اور ورقا بن رافع انصاری جیسے صحابیوں کو بھی اس نے اپنے دام تزویر میں لے لیا تھا‘ لیکن اس کی اصل تحریک اور مقصود حقیقی کا حال سوائے اس کے چند خاص الخاص مسلم نما یہودیوں کے اور کسی کو معلوم نہ تھا‘ بظاہر اس نے حب علی اور حب اہل بیت کو خلافت عثمانی کے درہم برہم کرنے کے لیے ایک ذریعہ بنایا تھا‘ مذکورہ بالا فوجی مقاموں سے بہت سے سادہ لوح عرب اس کے فریب میں آ چکے تھے‘ چنانچہ عبداللہ بن سبا کی تحریک و اشارے کے موافق ہر ایک مقام پر مہم عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے لوگوں نے تیاریاں کیں‘ ہر مقام اور ہر گروہ کے آدمی اس بات پر تو متفق تھے کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو معزول یا قتل کر دیا جاوے لیکن ان کے بعد کس کو خلیفہ بنایا جائے اس میں اختلاف تھا‘ کوئی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نام لیتا تھا‘ کوئی سیدنا زبیر بن العوام کو بہتر سمجھتا اور کوئی سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو خلافت کے لیے سب سے موزوں سمجھتا تھا۔ چونکہ عبداللہ بن سبا کو اسلام سے کوئی ہمدردی تو تھی ہی نہیں‘ اس کا مقصد سیدنا عثمان غنی کی مخالفت تھی‘ لہذا اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حمایت و محبت کے بہانے کو اس موقعہ پر زیادہ استعمال کرنا ترک کر دیا‘ اور لوگوں کو آئندہ خلیفہ کے انتخاب میں مختلف الخیال دیکھ کر ان کے حال پر چھوڑ دیا۔