سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

۳۵ ھ کے واقعات

مدینہ منورہ میں جو صوبوں کے والی سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مکہ معظمہ میں آئے تھے وہ سب یکے بعد دیگرے اپنے اپنے صوبوں کی طرف رخصت ہو گئے‘ آخر میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بھی رخصت ہونے کے لیے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ مجھ کو اندیشہ معلوم ہوتا ہے کہ کہیں آپ پر حملہ نہ ہو اور آپ اس کی مدافعت نہ کر سکیں‘ مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ میرے ساتھ ملک شام کی جانب چلیں‘ وہاں تمام اہل شام میرے فرماں بردار اور شریک کار ہیں‘ سیدنا عثمان غنی نے جواب دیا کہ میں کسی حالت میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا قرب و ہمسائیگی ترک نہیں کر سکتا‘ یہ سن کر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اچھا آپ اجازت دیجئے کہ میں ایک زبردست لشکر ملک شام سے آپ کی حفاظت کے لیے یہاں بھیج دوں کہ وہ مدینہ میں مقیم رہے‘ سیدنا عثمان نے فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پڑوسیوں یعنی مدینہ والوں کو تنگ کرنا نہیں چاہتا‘ یہ سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ ضرور دھوکا کھائیں گے‘ سیدنا عثمان غنی اس کے جواب میں حسبی اللٰہ و نعم الوکیل کہہ کر خاموش ہو گئے‘ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پھر وہاں سے اٹھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ ‘ طلحہ رضی اللہ عنہ ‘ زبیر رضی اللہ عنہ کی خدمتوں میں حاضر ہوئے اور بوقت ضرورت عثمان غنی کی امداد کرنے کی سفارش و فرمائش کر کے شام کی جانب روانہ ہو گئے۔