سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت
بلوائیاں مصر نے جب مدینہ میں دوبارہ واپس آ کر خط لوگوں کو دکھایا اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حلفیہ اس خط سے اپنی لا علمی کا اظہار کیا‘ تو عبدالرحمن بن عدیس نے جو بلوائی سرغنہ تھا کہا کہ تم اپنے اس قول اور حلف میں جھوٹے ہو تب بھی اور سچے ہو تب بھی تمہارا خلیفہ رکھنا کسی طرح جائز نہیں کیونکہ اگر تم جھوٹ بول رہے ہو تو جھوٹے کو مسلمانوں کا خلیفہ نہیں ہونا چاہیے اور اگر سچے ہو تو ایسے ضعیف خلیفہ کو جس کی اجازت و اطلاع کے بغیر جو جس کا جی چاہے حکم لکھ کر بھیج دے خلیفہ نہیں رکھنا چاہیے۔
عبدالرحمن بن عدیس نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ خود ہی خلافت کو چھوڑ دیں‘ انہوں نے جواب دیا کہ میں اس کرتے کو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پہنایا ہے خود نہیں اتاروں گا‘ یعنی خلافت کے منصب کو خود نہیں چھوڑوں گا‘ اس کے بعد بلوائیوں نے ان کے مکان کا محاصرہ کر لیا اور سختی شروع کی‘ جب خلیفہ وقت پر پانی بھی بند کر دیا گیا اور پانی کی نایابی سے تکلیف و اذیت ہوئی تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اپنے مکان کی چھت پر چڑھے اور اپنے حقوق جتائے اور اپنا سابق الایمان ہونا بھی لوگوں کو یاد دلایا‘ اس تقریر کا بلوائیوں پر کچھ ایسا اثر ہوا کہ ان میں سے اکثر یہ کہنے لگے کہ بھائی اب ان کو جانے دو اور ان سے درگذر کرو‘ لیکن اتنے میں مالک بن اشتر آ گیا‘ اس نے لوگوں کے مجمع کو پھر سمجھایا کہ دیکھو کہیں دام فریب میں نہ آ جانا‘ چنانچہ لوگ پھر مخالفت پر آمادہ ہو گئے۔
بلوائیوں کو جب یقین ہو گیا کہ ممالک اسلامیہ سے جو فوجیں آئیں گی وہ ضرور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی حامی اور ہماری مخالف ہوں گی‘ تو انہوں نے یعنی ان کے سرداروں نے سیدنا عثمان غنی کے شہید کر دینے کا مصمم ارادہ کر لیا۔
انہیں ایّام میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے حج کا ارادہ کیا اور اپنے بھائی محمد بن ابی بکر کو بلوایا کہ وہ ہمارے ساتھ چلیں تو محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ جانے سے صاف انکار کر دیا‘ کیوں کہ وہ بلوائیوں کے ساتھ شیروشکر ہو رہے تھے‘ سیدنا حنظلہ کاتب وحی نے کہا کہ تم ام المومنین کے ساتھ نہیں جاتے اور مفہاء عرب کی پیروی کرتے ہو‘ یہ تمہاری شان سے بعید ہے‘ محمد بن ابی بکر نے ان کی باتوں کا کوئی جواب نہ دیا‘ پھر حنظلہ کوفہ کی طرف چلے گئے۔
سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر اور دوسرے صحابیوں رضی اللہ عنھم نے اپنے اپنے دروازے بند کر لیے تھے‘ نہ گھر سے باہر نکلتے تھے نہ کسی سے ملتے تھے‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دروازے پر موجود رہ کر بلوائیوں کا مقابلہ کیا اور ان کو روکا‘ لیکن ان کو سیدنا عثمان غنی نے امیر الحاج بنا کر باصرار مکہ کی طرف روانہ کیا ورنہ وہ فرماتے تھے کہ مجھ کو ان بلوائیوں سے جہاد کرنا حج کرنے سے زیادہ محبوب ہے‘ حسن بن علی‘ عبداللہ بن زبیر‘ محمد بن طلحہ‘ سعید بن العاص رضی اللہ عنہم نے دروازہ کھولنے سے بلوائیوں کو روکا اور لڑ کر ان کو پیچھے ہٹا دیا۔
لیکن سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو قسمیں دے کر لڑنے سے روکا اور گھر کے اندر بلا لیا‘ بلوائیوں نے دروازے کو آگ لگا دی اور اندر گھس آئے‘ ان لوگوں نے ان کو پھر مقابلہ کر کے باہر نکال دیا‘ اس وقت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ قرآن شریف پڑھ رہے تھے جب اس آیت پر پہنچے۔
{اَلَّذِیْنَ قَالَ لَھُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَکُمْ فَاخْشَوْھُمْ فَزَادَھُمْ اِیْمَانًا وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ} (آل عمران : ۳/۱۷۳)
(یہ وہ لوگ ہیں جن کو لوگوں نے آ کر خبر دی کہ مخالف لوگوں نے تمہارے ساتھ لڑنے کے لیے بھیڑ جمع کی ہے‘ ذرا ان سے ڈرتے رہنا‘ تو اس خبر کو سن کر ان کے ایمان اور بھی زیادہ مضبوط ہو گئے اور بول اٹھے کہ ہم کو اللہ ہی کافی ہے‘ اور وہ بہترین کار ساز ہے)
تو حاضرین سے مخاطب ہو کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ سے ایک عہد لیا ہے‘ میں اپنے اس عہد پر قائم ہوں‘ اور تم ہرگز ان بلوائیوں کا مقابلہ اور ان سے قتال بالکل نہ کرو‘ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ تم ابھی اپنے باپ کے پاس چلے جائو‘ لیکن انہوں نے جانا پسند نہ کیا اور دروازے پر بلوائیوں کو روکتے رہے۔
مغیرہ بن الاخنس رضی اللہ عنہ یہ حالت دیکھ کر تاب نہ لا سکے‘ اپنے چند آدمیوں کو لے کر بلوائیوں کے مقابلے پر آئے اور لڑ کر شہید ہوئے‘ اسی طرح سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی یہ کہتے ہوئے {وَیَاقَوْمِ مَا لِی اَدْعُوْکُمْ اِِلَی النَّجَاۃِ وَتَدْعُوْنَنِی اِِلَی النَّارِ}(المؤمن : ۴۰/۴۱) (لوگو! مجھے کیا ہوا ہے کہ میں تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے آگ کی طرف بلاتے ہو) بلوائیوں پر ٹوٹ پڑے‘ سیدنا عثمان غنی کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے باصرار سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو واپس بلوایا اور لڑائی سے باز رہنے کاحکم دیا‘ اسی عرصہ میں سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تشریف لائے‘ انہوں نے بلوائیوں کو سمجھانا اور فتنہ سے باز رکھنا چاہا‘ لیکن بجائے اس کے کہ ان کی نصیحت کا بلوائیوں پر کچھ اثر ہوتا وہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے بھی لڑنے پر آمادہ ہو گئے۔
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے مکان میں جس قدر آدمی تھے ان میں سے کچھ تو کوٹھے پر چڑھے ہوئے تھے اور باغیوں کی کوشش اور نقل و حرکت کے نگراں تھے کچھ لوگ دروازے پر تھے اور باہر سے داخل ہونے اور گھسنے والے بلوائیوں کو اندر آنے سے روک رہے تھے‘ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی نائلہ بنت الفرافصہ گھر میں تھے
بلوائیوں نے ہمسایہ کے ایک گھر میں داخل ہو کر اور دیوار کود کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا‘ سب سے پہلے محمد بن ابی بکر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے قریب پہنچا اور ان کی داڑھی پکڑ کر کہا کہ اے نعثل (احمق بوڑھے) اللہ تعالیٰ تجھ کو رسوا کرے‘ سیدنا عثمان نے کہا کہ میں نعثل نہیں‘ بلکہ عثمان امیر المومنین ہوں‘ محمد بن ابی بکر نے کہا کہ تجھ کو اس بڑھاپے میں بھی خلافت کی ہوس ہے‘ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تمہارے باپ ہوتے تو وہ میرے اس بڑھاپے کی قدر کرتے اور میری اس ڈاڑھی کو اس طرح نہ پکڑتے‘ محمد بن ابی بکر یہ سن کر کچھ شرما گیا اور ڈاڑھی چھوڑ کر واپس چلا آیا۔
اس کے واپس چلے جانے کے بعد بدمعاشوں کا ایک گروہ اسی طرف سے دیوار کود کر اندر آیا جس میں بلوائیوں کا ایک سرغنہ عبدالرحمن بن عدیس‘ کنانہ بن بشر‘ عمروبن حمق‘ عمیر بن جنابی‘ سودان بن حمران‘ غافقی تھے‘ کنانہ بن بشر نے آتے ہی سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر تلوار چلائی‘ ان کی بیوی نائلہ نے فوراً آگے بڑھ کر تلوار کو ہاتھ سے روکا‘ ان کی انگلیاں کٹ کر الگ جا پڑیں پھر دوسرا وار کیا‘ جس سے آپ شہید ہو گئے‘ اس وقت آپ قرآن کی تلاوت میں مصروف تھے‘ خون کے قطرات قرآن شریف کی اس آیت پر گرے {فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللّٰہُ وَ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ} (البقرۃ : ۲/۱۳۷) عمرو بن حمق نے آپ پر نیزے کے نو زخم پہنچائے۔
عمیر بن جنابی نے آگے بڑھ کر ٹھوکریں ماریں جس سے آپ کی پسلیاں ٹوٹ گئیں‘ وہ ہر ٹھوکر لگاتے ہوئے کہتا جاتا تھا‘ کیوں تم نے ہی میرے باپ کو قید کیا تھا جو بے چارہ حالت قید ہی میں مر گئے تھے‘ گھر کے اندر یہ قیامت برپا ہو گئی‘ چھت والوں اور دروازے والوں کو خبر ہی نہ ہوئی‘ آپ کی بیوی نائلہ نے آوازیں دیں تو لوگ چھت پر سے اترے اور دروازے کی طرف سے اندر متوجہ ہوئے‘ بلوائی اپنا کام کر چکے تھے‘ وہ بھاگے‘ بعض ان میں سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے غلاموں کے ہاتھ سے مارے گئے‘ اب نہ کسی کو دروازے پر رہنے کی ضرورت تھی نہ کسی کی حفاظت باقی رہی تھی‘ چاروں طرف سے بلوائیوں بدمعاشوں نے زور کیا‘ گھر کے اندر داخل ہو کر تمام گھر کا سامان لوٹ لیا‘ حتی کہ جسم کے کپڑے تک بھی نہ چھوڑے‘ اس بدامنی اور ہلچل کے عالم میں بجلی کی طرح تمام مدینہ میں عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر پھیل گئی۔
یہ حادثہ ۱۸ ذی الحجہ ۳۵ ھ یوم جمعہ کو وقوع پذیر ہوا‘ تین دن تک سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی لاش بے گورو کفن پڑی رہی‘ آخر حکیم بن حزام اور جبیر بن مطعم دونوں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے‘ انہوں نے دفن کرنے کی اجازت دی‘ رات کے وقت عشاء و مغرب کے درمیان جنازہ لے کر نکلے‘ جنازہ کے ساتھ زبیر‘ حسن‘ ابوجہم بن حذیفہ‘ مردان وغیرہ تھے‘ بلوائیوں نے جنازہ کی نماز پڑھنے اور دفن کرنے میں بھی رکاوٹ پیدا کرنا چاہی مگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے سختی سے ان کو منع کیا‘ جبیر بن مطعم نے جنازہ کی نماز پڑھائی‘ بغیر غسل کے انہیں کپڑوں میں جو پہنے ہوئے تھے دفن کئے گئے۔
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت مندرجہ ذیل عامل و امیر ممالک اسلامیہ میں مامور تھے‘ عبداللہ بن الحضرمی مکہ میں‘ قاسم بن ربیعہ ثقفی طائف میں‘ یعلیٰ بن منیہ صنعاء یمن میں ‘ عبداللہ بن ربیعہ ھمدان میں‘ عبداللہ بن عامر بصرہ میں ‘ معاویہ بن ابی سفیان ملک شام میں‘ عبدالرحمن بن ابی خالد حمص میں‘ حبیب بن مسلمہ قنسرین میں (ابوالاعور سلمی اردن میں‘ عبداللہ بن قیس فزاری بحرین میں‘ علقمہ بن حکیم کندی معاویہ کی طرف سے فلسطین میں‘ ابوموسیٰ اشعری کوفہ میں امام اور قعقاع بن عمروسالار لشکر تھے‘ جابر مزنی اور سماک انصاری دونوں خراج سواد پر مامور تھے‘ جریر بن عبداللہ قرقیسیا میں‘ اشعث بن قیس آذربائیجان میں‘ سائب بن اقرع اصفہان میں‘ گورنر مقرر تھے مدینہ منورہ میں بیت المال کے افسر عقبہ بن عمرو اور قضا پر زید بن ثابت مامور تھے۔
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ۸۲ سال کی عمر میں بارہ سال خلافت کر کے فوت ہوئے جنتہ البقیع کے قریب مدفون ہوئے‘ آپ کے کل گیارہ بیٹے اور چھ بیٹیاں ہوئی تھیں۔