سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ
خلافت عثمانی پر ایک نظر
خلافت عثمانی کے واقعات پڑھ کر بے اختیار قلب پر یہ نمایاں اثر ہوتا ہے کہ ہم عہد نبوی اور خلافت صدیقی و فاروقی کے زمانے کو طے کر کے کسی نئے زمانے میں داخل ہوتے ہیں‘ اس زمانے کی آب و ہوا بھی نئی ہے اور لوگوں کی وضع قطع میں بھی غیر معمولی تغیر پیدا ہو گیا ہے‘ زمین و آسمان غرض ہر چیز کی کیفیت متغیر ہے‘ خلافت فاروقی تک مسلمانوں کی نگاہ میں مال و دولت کی کوئی وقعت و قیمت نہ تھی‘ خود خلیفہ کی یہ حالت ہوتی تھی کہ اپنے اہل و عیال کی ضروریات پورا کرنے کے لیے دوسرے لوگوں سے بھی بہت ہی کم روپیہ اس کے ہاتھ میں آتا تھا‘ اور اس بے زری و افلاس کو نہ خلیفہ وقت کوئی مصیبت تصور فرماتا تھا‘ نہ عام لوگ مال و دولت کی طرف خواہشمند نظر آتے تھے مسلمانوں کی سب سے بڑی خواہش اعلاء کلمتہ اللہ اور ان کی سب سے بڑی مسرت راہ اللہ تعالیٰ میں قربان ہو جانا تھا۔
عہد عثمانی میں یہ بات محسوس طور پر کم ہو گئی تھی‘ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تو پہلے ہی سے مال دار شخص تھے‘ خلیفہ ہونے کے بعد بھی ان کی اور سابقہ ہر دو خلفاء کی حالتوں میں نمایاں فرق نظر آنا چاہیے تھا‘ چنانچہ وہ فرق نظر آیا‘ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے آخر زمانے تک فتوحات کا سلسلہ جاری رہا اور دولت مند و زرخیز علاقے ان کے زمانے میں مسلمانوں نے مسخر و مفتوح کئے‘ ان کی دولت تو مسلمانوں کے قبضہ میں آ گئی اور آرہی تھی‘ لیکن وہ اس دولت کے استعمال اور عیش و راحت حاصل کرنے کے طریقوں سے نا آشنا تھے‘ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مسلمانوں نے حاصل شدہ دولت سے عیش حاصل کرنا شروع کیا‘ مدینہ کے معمولی چھپر محلوں اور ایوانوں کی شکل میں تبدیل ہونے لگے‘ لوگوں کے دلوں میں جائیداد حاصل کرنے اور روپیہ جمع رکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ اس شوق کے ساتھ ہی سپہ گری و مردانگی کا خصوصی جذبہ جو مسلمانوں اور عربوں کا امتیازی نشان تھا‘ کافور ہونے لگا‘ سپاہیانہ اخلاق کی جگہ آج کل کی اصطلاح کے مطابق رئیسانہ اخلاق پیدا ہونے لگے جن کو حقیقتاً زنانہ اخلاق کہنا چاہیے اور یہ سب سے بڑی مصیبت اور سب سے بڑی بدنصیبی تھی جو مسلمانوں پر وارد ہوئی۔
صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے زمانے تک قریشی اور حجازی عرب جن میں اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا زمانہ دیکھے ہوئے تھے ایک غالب عنصر کی حیثیت سے موجود تھے‘ وہ سب کے سب اسلام کو اپنی چیز سمجھتے اور اپنے آپ کو اسلام کا وارث جانتے تھے‘ اسلام کے مقابلے میں قبائلی امتیاز ان کے دلوں سے بالکل مٹ گئے تھے‘ اسلام کے رشتہ سے بڑھ کر ان کے نزدیک کوئی رشتہ نہ تھا اور اسلام سے بڑھ کر ان کے لیے کوئی محبوب چیز نہ تھی‘ فتوحات کے وسیع ہونے اور ممالک اسلامیہ کی تعداد کے کثیر ہونے سے مسلمانوں کی افواج اور مسلمانوں کی جمعیت میں ایسے لوگوں کی تعداد بہت بڑھ گئی جو ابھی چند روز سے اسلام میں داخل ہوئے تھے اور ان کے دلوں میں اسلامی محبت ‘ قبائلی امتیاز‘ اور قومی و خاندانی خصوصیات پر غالب نہیں ہونے پائی تھی۔
عہد فاورقی کی فتوحات کثیرہ و عظیمہ جن افواج کے ذریعہ ہوئیں ان میں بنی بکر‘ بنی وائل‘ بنی عبدالقیس‘ بنی ربیعہ‘ بنی ازد‘ بنی کندہ‘ بنی تمیم ‘ بنی قضاعہ وغیرہم قبائل کے لوگ زیادہ تھے‘ انہیں لوگوں نے ایرانی صوبوں‘ شامی علاقوں اور مصرو فلسطین وغیرہ کو فتح کیا تھا‘ انہیں کے ذریعہ ایرانی و رومی شہنشاہیوں کے پرخچے اڑے تھے‘ لیکن ان مذکورہ قبائل میں سے کوئی بھی قبیلہ ایسا نہ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی شرف صحبت سے فیض یاب ہوا ہو‘ ان میں سے اگر کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فیض صحبت پائے ہوئے تھا تو ایسے لوگوں کی تعداد و ’’الشاذ کالمعدوم‘‘ کے حکم میں تھی۔
یہ تمام قبائل جو اسلام کی جرار فوج ثابت ہوئے معصیت سوز ایمان اور مجنونانہ شیفتگیٔ اسلام میں قریشی اور حجازی صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتے تھے‘ مگر فاروق اعظم کی نگاہ اس قدر وسیع و عمیق تھی کہ ہر مسئلہ کی جزئیات تک ان کا احاطہ تھا‘ انہوں نے ایسا نظام قائم رکھا اور مہاجر و انصار کی سیادت کی ایسی حفاظت کی کہ ان کے عہد خلافت میں یہ ممکن ہی نہ ہوا کہ کوئی غیر‘ مہاجر یا انصار کی ہمسری کا خیال تک بھی لا سکے تمام مہاجرین و انصار کی حیثیت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک شاہی خاندان اور فاتح قوم کی تھی‘ فاروق اعظم نے ایک طرف بڑی کوشش اور احتیاط کے ساتھ اپنی فتح مند فوج اور صف شکن عربی سپاہیوں کے خصوصی سپاہیانہ اور جوانمردانہ جذبات کی حفاظت و نگرانی کی‘ حتی کہ شام کے خوش سواد شہروں اور سامان عیش رکھنے والی بستیوں میں‘ یا ان کے قریب بھی‘ عہد فاروقی میں اسلامی فوجوں کو قیام کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا تھا‘ دوسری طرف انہوں نے نہایت ہی اعلیٰ تدبر اور انتہائی مآل اندیشی کے ساتھ جلیل القدر اور صاحب اقتدار صحابیوں کو صحبت عوام بلکہ صحبت عام سے اس خوبی کے ساتھ بچا کر رکھا کہ کسی کو بھی محسوس نہ ہونے پایا اور ان جلیل القدر اصحاب کرام کے رعب و عظمت کی ایک طرف حفاظت ہوئی‘ دوسری طرف ہمہ وقت ان کے گرد مدینہ منورہ میں نہ صرف ملک عرب بلکہ تمام دنیا کی منتخب اور با اقتدار و صاحب اثر جماعت موجود رہتی تھی۔
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں یہ باتیں رفتہ رفتہ یکے بعد دیگرے مٹتی گئیں‘ مذکورہ بالا عربی قبائل اپنے آپ کو مہاجرین و انصار اور قریشی و حجازی لوگوں کا ہمسر بلکہ ان سے بڑھ کر سمجھنے لگے‘ صحابہ کرام جو شاہی خاندان کا مرتبہ رکھتے تھے‘ دور دراز صوبوں میں منتشر ہو گئے‘ مدینہ منورہ کی جمعیت درہم برہم ہو گئی اور خود دارالخلافہ قوت کا مرکز نہ رہ سکا‘ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ساتھ ہی ساتھ قومی و قبائلی امتیازات تازہ ہونے لگے‘ ہر ایک قبیلے اور ہر ایک خاندان کی الگ الگ عصبیت قائم ہو گئی‘ آپس میں وہی عہد جاہلیت کی رقابتیں تازہ ہونے لگی اور اسلامی رشتہ اور دینی اخوت کا اثر قومی و خاندانی امتیازات پر فائق نہ رہ سکا‘ مہاجرین و انصار نو مسلموں کی کثرت کے اندر درخور ہونے کی وجہ سے اپنے اقتدار و عظمت کو قائم و باقی نہ رکھ سکے۔
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نرم مزاج تھے‘ حکومت و انتظام کے باقی رکھنے کے لیے تنہا نرم مزاجی ہی کافی نہیں ہو سکتی‘ بلکہ اس کے لیے طاقت و سختی کے اظہار کی بھی ضرورت ہوا کرتی ہے‘ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک طرف تو مسلمانوں کے دلوں میں مال و دولت اور عیش و راحت جسمانی کی قدر پیدا ہونے لگی‘ دوسری طرف خلیفہ وقت کا رعب و اقتدار دلوں سے کم ہونے لگا‘ اس حالت میںشہرت پسند اور جاہ طلب لوگوں کو اپنی اولوالعزمیوں کیاظہار اور اپنے ارادوں کے پورا کرنے کی کوششوں کا موقع ملنے لگا‘ قریشیوں اور حجازیوں میں جو اس قسم کے اولوالعزم اشخاص تھے‘ ان کو بڑی آسانی کے ساتھ نو مسلم قبائل کی حمایت اور فتح مند لشکریوں کی اعانت و حمایت حال ہونے لگی۔
خلیفہ وقت کے رعب و اقتدار کی گرفت بھی کم ہو گئی تھی‘ مہاجرین و انصار اور قریشیوں کا اقتدار بھی نو مسلم بہادروں کی کثرت کے سبب ہلکا پڑنے لگا تھا‘ مدینہ منورہ میں بھی با اثر اور طاقتور لوگوں کی یک دل جمعیت کمزور ہو کر قریباً معدوم ہو چکی تھی‘ لہذا بنو امیہ نے ان تمام باتوں سے فائدہ اٹھانے میں کمی نہیں کی‘ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی نرم مزاجی سے تو انہوں نے یہ فائدہ اٹھایا کہ مروان بن الحکم کو ان کا میر منشی ہونے کی حالت میں بنو امیہ کا ایسا طرف دار و حامی بنایا کہ اس نے جا اور بے جا ہمہ وقت اور بہر طور بنو امیہ کو فائدہ پہنچوانے‘ آگے بڑھانے‘طاقت ور بنانے میں مطلق کوتاہی نہیں کی۔
جب ملکوں اور صوبوں کی گورنریاں زیادہ تر بنو امیہ ہی کو مل گئیں‘ اور تمام ملک اسلامیہ میں ہر جگہ بنو امیہ ہی حاکم اور صاحب اختیار نظر آنے لگے‘ تو انہوں نے اپنے اقتدار رفتہ کے واپس لینے‘ یعنی بنو ہاشم کے مقابلہ میں اپنا مرتبہ بلند قائم کرنے کی کوششیں کیں‘ اس کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ بنو ہاشم اور دوسرے قبائل کو بھی بنو امیہ کی ان کوششوں کا احساس ہوا‘ یہ کہنا کہ خود سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بنو امیہ کی ایسی کوششوں کے محرک اور خواہش مند تھے سراسر بہتان و افتراء ہے‘ کیوں کہ ان کے اندر کسی سازش‘ کسی پالیسی یا کسی منافقت کا نام و نشان تک بھی نہیں بتایا جا سکتا‘ ان کی نرم مزاجی و درگذر اور رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک سے پیش آنے کی دونوں صفتوں نے مل کر بنو امیہ کو موقع دیا کہ وہ اپنے قومی و خاندانی اقتدار کے قائم کرنے کی تدبیروں میں مصروف ہوں اور اس طرح عہد جاہلیت کی فراموش شدہ رقابتیں پھر تازہ ہو جائیں‘ ان رقابتوں کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے مال و دولت کی فراوانی اور عیش و تن آسانی کی خواہش نے اور بھی سہارا دیا‘ اس قسم کی باتوں کا وہم و گمان بھی صدیقی وفاروقی خلافتوں کے زمانہ میں کسی کو نہیں ہو سکتا تھا۔
اس موقعہ پر مجبوراً یہ کہنا پڑتا ہے کہ اگرچہ خاندان والوں اور رشتہ داروں کے ساتھ احسان کرنا ایک خوبی کی بات ہے‘ لیکن اس اچھی بات پر ایک خلیفہ کو عمل درآمد کرانے کے لیے بڑی ہی احتیاط کی ضرورت ہے اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے شاید کما حقہ احتیاط کے برتنے میں کمی ہوئی اور مروان بن الحکم اپنے چچا زاد بھائی کو آخر وقت تک اپنا کاتب یعنی میر منشی اور وزیر و مشیر رکھنا تو بلاشک احتیاط کے خلاف تھا‘ نہ اس لیے کہ وہ آپ کا رشتہ دار تھا بلکہ اس لیے کہ وہ تقویٰ اور روحانیت میں ناقص اور اس مرتبہ جلیلہ کا اپنی قابلیت و خصائل کے اعتبار سے اہل اور حق دار نہ تھا۔
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خلیفہ ہوتے ہی ایرانی صوبوں میں جگہ جگہ بغاوتیں ہوئیں‘ مگر اسلامی فوجوں نے باغیوں کی ہر جگہ گوشمالی کی‘ اور تمام بغاوت زدہ علاقوں میں پھر امن و امان اور اسلامی حکومت قائم کر دی‘ ان بغاوتوں کے فرد کرنے میں ایک یہ بھی فائدہ ہوا‘ کہ ہر باغی صوبہ کے سرحدی علاقوں کی طرف بھی توجہ کی گئی ‘ اور اس طرح بہت سے نئے علاقے بھی مسلمانوں کے قبضے میں آ گئے۔
مثلاً جنوبی ایران کی بغاوت فرد کرنے کے سلسلہ میں سیستان و کرمان کے صوبوں پر بھی مسلمانوں کا قبضہ ہوا‘ شمالی و مشرقی ایران کی بغاوتوں‘ ترکوں اور چینیوں کی چڑھائیوں کے انسداد کی کوششوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہرات‘ کابل‘ بلخ اور جیحون پار کے علاقوں پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا‘ رومیوں نے مصر و اسکندریہ پر چڑھائیاں کیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رومیوں کو مسلمانوں نے شکست دے کر بھگایا‘ اور جزیرہ قبرص اور روڈس پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا‘ افریقہ کے رومی گورنر نے فوجیں جمع کر کے مصر کی اسلامی فوج کو دھمکانا چاہا‘ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ برقہ‘ طرابلس تک کا علاقہ مسلمانوں کے قبضہ میں آ گیا‘ اسی طرح ایشیائے کوچک کی رومی فوجوں نے بھی ہاتھ پائوں ہلانے چاہے‘ مسلمانوں نے ان کو قرار واقعی سزا دے کر آرمینیا و طفلس تک کے علاقے پر قبضہ کر لیا۔
غرض سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بہت کافی اور اہم فتوحات مسلمانوں کو حاصل ہوئی‘ اور حکومت اسلامیہ کے حدود پہلے سے بہت زیادہ وسیع ہو گئے‘ ایران و شام و مصر وغیرہ ملکوں میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے حکم کے موافق گورنروں نے سڑکیں بنوانے‘ مدرسے قائم کرنے تجارت و حرفت اور زراعت کو فروغ دینے کی کوششیں کیں‘ یعنی سلطنت اسلامیہ نے اپنی ظاہری ترقی کے ساتھ ہی معنوی ترقی بھی کی‘ لیکن یہ تمام ترقیات زیادہ تر خلافت عثمانی کے نصف اول یعنی ابتدائی چھ سال میں ہوئیں‘ نصف آخری یعنی چھ سال کے عرصہ میں اندرونی اور داخلی فسادات کی پیدائش اور نشوونما ہوتی رہی‘ اس سے پیشتر مسلمانوں کا مطمح نظر اور قبلہ توجہ اشاعت اسلام اور شرک شکنی کے سوا اور کچھ نہ تھا‘ لیکن اب وہ توجہ آپس کی مسابقت اور برادر افگنی میں بھی صرف ہونے لگی‘ بنو امیہ نے مدینہ منورہ میں اپنی تعداد اور اثر کو بڑھا لیا‘ اور اطراف و جوانب کے صوبوں اور ملکوں میں بھی ان کا اثر روز افزوں ترقی کرنے لگا۔
یہ ضروری نہ تھا کہ بنو امیہ کے اس طرز عمل کو دیکھ کر دوسرے مسلمان قبائل موافقت یا مخالفت میں بے سوچے سمجھے حصہ لینے لگتے اور قومی جانب داری کی آگ میں کود پڑتے بلکہ بنو امیہ کی غلط کاریوں کو محسوس کرنے کے بعد صحابہ کرام یعنی مہاجرین و انصار کی محترم جماعت اگر سہولت و معقولیت کے ساتھ لوگوں کو سمجھاتی اور اس فتنہ کو نشوونما پانے سے پہلے وبا دینے کی کوشش کرتی تو اصحاب نبوی کا اتنا اثر امت محمدیہ میں ضرور موجود تھا کہ ان بزرگوں کی کوشش صدا بصحرا ثابت نہ ہوتی‘ بنو امیہ نے اپنا اقتدار بڑھانے کی کوششیں شروع کیں‘ اس کا احساس صحابہ کرام کو کچھ عرصہ کے بعد ہوا اور جب احساس ہوا تو اسی وقت سے بھی علاج کی کوششیں شروع ہو کر کامیاب ہو سکتی تھیں‘ لیکن بد قسمتی اور سوء اتفاق سے امت مسلمہ کو ایک سخت و شدید ابتلاء میں مبتلا ہونا پڑا‘ یعنی عین اسی زمانے میں چالاک و عقل مند اور صاحب عزم و ارادہ یہودی عبداللہ بن سبا اسلام کی تخریب و مخالفت کے لیے آمادہ و مستعد ہو گیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے عہد مبارک میں بھی منافقوں کے ہاتھوں سے مسلمانوں کو بارہا ابتلاء میں مبتلا ہونا پڑا‘ اور اب عہد عثمانی میں بھی ایک منافق یہودی مسلمانوں کی ایذاء رسانی کا باعث ہوا‘ یہ فیصلہ کرنا دشوار ہے کہ عبداللہ بن ابی زیادہ خطرناک منافق تھا‘ یا عبداللہ بن سبا بڑا منافق تھا‘ لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ عبداللہ بن ابی کو اپنے شرارت آمیز منصوبوں میں کامیابی کم حاصل ہوئی اور نامرادی و ناکامی بیشتر اس کے حصہ میں آئی‘ لیکن عبداللہ بن سبا اگر خود کوئی ذاتی کامیابی حاصل نہ کر سکا تاہم مسلمانوں کی جمعیت کو وہ ضرور نقصان عظیم پہنچا سکا‘ کیوں کہ اس نقصان عظیم کے موجبات پہلے سے مرتب و مہیا ہو رہے تھے۔
عبداللہ بن سبا کی مسلم کش کوششوں کا سب سے زبردست پہلو یہ تھا کہ اس نے بنو امیہ کی مخالفت میں یک لخت اور یکایک تمام عرب قبائل کو برانگیختہ اور مشتعل کر دیا جس کے لیے اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حمایت و محبت کو ذریعہ اور بہانہ بنایا۔
جن قبائل میں اس نے مخالفت بنو امیہ اور عداوت عثمان پیدا کرنی چاہی‘ یہ سب کے سب وہی لوگ تھے جو اپنی فتوحات پر مغرور اور اپنے کارناموں کے مقابلے میں قریش و اہل حجاز کو خاطر میں نہ لاتے تھے‘ لیکن سابق الاسلام نہ تھے‘ بلکہ نو مسلموں میں ان کا شمار تھا‘ عبداللہ بن سبا نے بڑی آسانی سے بنو امیہ کے سوا باقی اہل مدینہ کو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی بدگوئی اور بنو امیہ کے۔ کی عام شکایات پر آمادہ کر دیا۔
پھر وہ بصرہ کوفہ‘ دمشق وغیرہ فوجی مرکزوں میں گھوما‘ جہاں اس کو سوائے دمشق کے ہر جگہ مناسب آب و ہوا اور موافق سامان میسر ہوئے‘ دمشق میں بھی اس کو کم کامیابی نہیں ہوئی کیوں کہ یہاں بھی اس نے سیدنا ابوذر غفاری والے واقعہ سے خوب فائدہ اٹھایا‘ آخر میں وہ مصر پہنچا اور تمام مرکزی مقاموں کے اندر جہاں وہ خود سامان فراہم کر آیا تھا مصر میں بیٹھے بیٹھے اپنی تحریک کو ترقی دی‘ مصر کو اس نے اپنا مرکز اس لیے بنایا کہ یہاں کا گورنر عبداللہ بن سعد خود مختاری میں تو دوسرے گورنروں سے بڑھا ہوا لیکن دقت نظر میں دوسروں سے کم اور رومیوں وغیرہ کے حملوں کی روک تھام کے خیال اور افریقہ و طرابلس وغیرہ کی حفاظت کی فکر میں اندرونی تحریکوں اور داخلی کاموں کی طرف زیادہ متوجہ نہیں ہو سکتا تھا‘ یہیں اس کو دو تین صحابی ایسے مل گئے جو بڑی آسانی سے اس کے ارادوں کی اعانت میں شریک و مصروف ہو گئے۔
اس نے بصرہ میں سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کی اور کوفہ میں سیدنا زبیر کی قبولیت کو بڑھا ہوا دیکھا‘ لیکن وہ جانتا تھا کہ تمام عالم اسلام میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی قبولیت ان دونوں حضرات سے بڑھ جائے گی‘ لہذا اس نے بصرہ‘ کوفہ ‘ دمشق کو بڑی آسانی سے چھوڑ دیا اور مصر میں بیٹھ کر اپنا کام اس طرح شروع کیا کہ بصرہ اور کوفہ والوں کی اس مخالفت کو ترقی دی جو ان کو بنو امیہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیدا ہو چکی تھی‘ لیکن مصر میں اس مخالفت کے پیدا کرنے اور اس کو ترقی دینے کے علاوہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی محبت اور ان کے مظلوم ہونے‘ حقدار خلافت ہونے‘ وصی ہونے وغیرہ کے خیالات کو شائع کیا‘ اس اشاعت میں بھی بڑی احتیاط سے کام لیا‘ اور سیدنا علی کے طرف داروں کی ایک زبردست جماعت بنا لینے میں کامیاب ہوا‘ عبداللہ بن سبا کی ان کارروائیوں نے بہت ہی جلد عالم اسلامی میں ایک شورش پیدا کر دی۔
اس شورش کے پیدا ہو جانے کے بعد صحابہ کرام سے وہ موقع جاتا رہا کہ وہ خود بنو امیہ کے راہ راست پر رکھنے کی کوشش میں کامیاب ہوتے‘ عبداللہ بن سبا کی شرارتوں میں غالباً سب سے پلید قسم کی شرارت یہ تھی کہ اس نے مدینہ منورہ سے سیدنا علی کی طرف سے فرضی خطوط کوفہ و بصرہ والوں کے پاس بھجوائے اور اس طرح اپنے آپ کو بھی سیدنا علی کا ایجنٹ یقین کرانے اور لوگوں کو دھوکا دینے میں خوب کامیاب ہوا‘ یہ اس کا ایسا فریب تھا کہ ایک طرف سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے‘ دوسری طرف آج تک لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ نعوذ باللہ سیدنا علی کے اشارے اور سازش سے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ شہید کئے گئے‘ حالانکہ اس سے زیادہ غلط اور نا درست کوئی دوسری بات نہیں ہو سکتی‘ وہ یعنی عبداللہ بن سبانہ سیدنا عثمان کا دوست تھا‘ نہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اسکو کوئی ہمدردی تھی‘ وہ تو دونوں کا یکساں دشمن اور اسلام کی بربادی کا خواہاں تھا‘ اس لیے جہاں اس نے ایک طرف سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو شہید کرایا‘ دوسری طرف سیدنا علی کو شریک سازش ثابت کر کے ان کی عزت و حرمت کو بھی سخت نقصان پہنچانا چاہا۔ ۱؎