سیدنا علی رضی اللہ عنہ

جنگ صفین کے آخری دو دن

پورے ایک ہفتہ کی سخت زور آزمائیوں کے بعد ۸ صفر ۳۷ ھ کو جمعرات کے روز دونوں لشکر آخری اور فیصلہ کن معرکہ آرائی کے لیے تیار ہو گئے‘ چہار شنبہ و پنجشنبہ کی درمیانی شب دونوں نے فیصلہ کن جنگ کی تیاریوں میں بسر کی‘ جمعرات کے دن نماز فجر کے وقت بعد از نماز فجر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے پورے لشکر کو لے کر شامیوں پر حملہ کیا‘ اس حملہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ قلب لشکر میں تھے جہاں کوفہ و بصرہ کے شرفاء اور اہل مدینہ جن میں اکثر انصار اور کمتر بنو خزاعہ و بنو کنانہ شامل تھے‘ میمنہ کی سرداری سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن بدیل بن ورقاء خزاعی کو سپرد کی تھی اور میسرہ سیدنا عبداللہ کے سپرد کیا تھا‘ ہر ایک قبیلہ کے لیے جگہ اور مقام مقرر کر دیا گیا تھا‘ ہر ایک قبیلہ کا الگ الگ جھنڈا اور الگ الگ افسر تھا‘ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو آج رجز خوانوں اور قاریوں کا انتظام سپرد تھا‘ قیس بن سعد رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن یزید بھی رجز خوانوں کی افسری پر مامور تھے۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے خیمہ میں بیٹھ کر لوگوں سے موت پر بیعت لی تھی‘ ان کے لشکر میں حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ میسرہ کے اور عبیداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ میمنہ کے افسر تھے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کا میمنہ اول آگے بڑھا‘ اور عبداللہ بن بدیل خزاعی نے اپنی ماتحت فوج یعنی میمنہ کو لے کر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے میسرہ یعنی حبیب بن مسلمہ پر حملہ کیا‘ یہ حملہ اگرچہ نہایت سخت اور نقصان رساں تھا‘ لیکن اس کا نتیجہ لشکر شام کے لیے اچھا نکلا‘ حبیب بن مسلمہ کی رکابی فوج کو عبداللہ بن بدیل دباتے اور پیچھے ہٹاتے ہوئے اس مقام تک لے گئے جہاں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر موت کے لیے بیعت کی گئی تھی‘ اپنے میمنہ کی اس نازک حالت کو دیکھ کر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو جو ان کے گرد تھے حملہ کا حکم دیا‘ ان لوگوں کا حملہ ایسا زبردست تھا کہ عبداللہ بن بدیل صرف ڈھائی سو آدمیوں کے ساتھ رہ گئے‘ باقی تمام عراقی پسپا اور فرار ہو کر اس مقام تک پہنچ گئے جہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے تھے‘ اپنے میمنہ کی ایسی ابتر حالت دیکھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سہل بن حنیف کو اہل مدینہ کا افسر بنا کر عبداللہ بن بدیل کی حفاظت و اعانت کے لیے روانہ کیا‘ لیکن شامیوں سہیل بن حنیف کو عبداللہ بن بدیل تک نہ پہنچنے دیا‘ اور تھوڑی دیر کے بعد عبداللہ بن بدیل شامی لشکر کے ہاتھ سے معہ اپنے ہمرائیوں کے کام آئے۔ ادھر میمنہ کی یہ شکست سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنی طرف متوجہ کئے ہوتے تھے کہ ادھر ان کے میسرہ کو بھی شامیوں کے مقابلہ میں شکست ہوئی‘ میسرہ میں صرف ایک قبیلہ ربیعہ پامردی و استقلال کے ساتھ اپنی جگہ پر قائم رہا‘ باقی دستے فرار ہونے پر مجبور ہو گئے‘ اپنے میسرہ کو فرار ہوتے ہوئے دیکھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے تینوں بیٹوں حسن رضی اللہ عنہ ‘ حسین رضی اللہ عنہ ‘ محمد رضی اللہ عنہ کو اس طرف روانہ کیا کہ قبیلہ ربیعہ کے بھی کہیں پائوں نہ اکھڑ جائیں اور اشتر کو حکم دیا کہ میمنہ کے فراریوں سے جا کر یہ کہو کہ تم اس موت سے کہاں بھاگے جاتے ہو جس کو تم حیات کے ذریعہ مجبور نہ کر سکو گے‘ اشتر نے گھوڑا دوڑا کر میمنہ کے بھاگے ہوئے لوگوں کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ پیغام سنایا اور بلند آواز سے غیرت دلانے والے فقرے کہہ کر ان کو روکا اور اپنے ہمراہ لے کر لشکر شام کے مقابلہ پر مستعد کیا‘ ادھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ میسرہ کی حالت سنبھالنے کے لیے خود متوجہ ہوئے‘ قبیلہ ربیعہ نے جب دیکھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خود ہم میں شامل ہو کر تلوار چلا رہے ہیں تو ان کی ہمتوں میں اور بھی اضافہ ہوا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بذات خود لڑتا ہوا دیکھ کر ابوسفیان کا غلام احمر ان کی طرف جھپٹا‘ لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے غلام کیسان نامی نے آگے بڑھ کر اس کا مقابلہ کیا‘ دونوں میں تلوار چلنے لگی‘ بالآخر احمدان کے ہاتھ سے کیسان مقتول ہوا‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے خادم کو مقتول دیکھ کر احمدان پر حملہ کیا اور جوش غضب میں اس کو اٹھا کر اس زور سے زمین پر دے مارا کہ اس کے دونوں ہاتھ بے کار ہو گئے‘ لشکر شام نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مصروف جنگ دیکھ کر ان پر حملہ کیا مگر اہل ربیعہ نے ان کے حملے کو روک لیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ تک انہیں نہ پہنچنے دیا۔ اشتر نے بھی ادھر میمنہ کی حالت کو سنبھال لیا اور لڑائی کا عنوان جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے بہت خطرناک ہو چکا تھا‘ کسی قدر درست ہوا‘ اور طرفین نے میدان میں جم کر تلواریں چلانی شروع کیں‘ عصر کے وقت تک برابر تلوار چلتی رہی‘ عصر کے قریب مالک اشتر نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے میسرہ کو دبا کر پیچھے ہٹایا‘ لیکن امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی رکابی فوج نے جو مرنے پر بیعت کر چکی تھی اپنے میسرہ کو سہارا دیا‘ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے میمنہ کو دھکیل کر دور تک پیچھے ہٹا دیا۔۱؎ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے عبداللہ بن حصین جو عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے ہمرائیوں میں سے تھے رجز پڑھتے ہوئے آگے نکلے‘ مخالف سمت سے عقبہ بن حدیبہ نمیری نے بڑھ کر مقابلہ کیا‘ عقبہ کے مارے جانے پر شامیوں کی طرف سے سخت حملہ ہوا اور اہل عراق کو سخت نقصان برداشت کرنا پڑا‘ لیکن وہ اپنی جگہ پر قائم رہے۔ سیدنا علی کرم رضی اللہ عنہ میسرہ کی طرف سے میمنہ والوں کی ہمت بند ہانے اور ان کو لڑائی کی ترغیب دینے کے لیے تشریف لائے‘ یہاں خوب جم کر نہایت زور و شور سے تلوار چل رہی تھی‘ ادہر ذوالکلاح حمیری اور عبیداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے میسرہ پر اس شدت سے حملہ کیا کہ قبیلہ ربیعہ کا حکم بھی اپنی جگہ پر قائم نہ رہ سکا اور کشتوں کے پشتے لگ گئے‘ میسرہ کی اس تباہ حالت کو دیکھ کر عبدالقیس نے آگے بڑھ کر ربیعہ کو سنبھالا اور اہل شام کی پیش قدمی کو روکا‘ اس بروقت امداد سے میسرہ کی حالت پر سنبھل گئی‘ اور اتفاق کی بات کہ ذوالکلاح حمیری اور عبیداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ دونوں لڑائی میں کام آئے۔ غرض صبح سے شام تک میمنہ و میسرہ سے بڑے زور و شور سے تلوار چلتی رہی مگر دونوں فوجوں کے قلب ابھی تک ہنگامہ کار زار کے شور وغل سے خالی اور خاموش تھے‘ آخر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے لوگوں کو مخاطب کر کے کہا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتا ہو اور اس کو مال و اولاد کی طرف واپس جانے کی خواہش نہ ہو وہ میرے ساتھ آ جائے وہ یہ کہتے ہوئے چلے اور ان کے ساتھ بہت سے لوگ مارنے اور مرنے پر مستعد ہو کر شامل ہو گئے‘ آخر وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے علمبردار بن عتبہ کے پاس پہنچے‘ وہ بھی علم لیے ہوئے ان کے ساتھ ہو لیے‘ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اپنے فدائی گروہ کو لیے ہوئے لشکر شام کے قلب پر حملہ آور ہوئے‘ اب دن ختم ہو کر رات شروع ہو گئی تھی‘ عمار رضی اللہ عنہ بن یاسر رضی اللہ عنہ کا یہ حملہ نہایت سخت تھا جس کو عمروبن العاص رضی اللہ عنہ نے بڑی مشکل سے روکا‘ خوب تلوار چلی اور آخرکار سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اسی لڑائی میں کام آئے۔ عماربن یاسر رضی اللہ عنہ کے مارے جانے کی خبر جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوئی تو سخت صدمہ ہوا اور اس کے بعد لشکر اہل شام کا بھی ہر حصہ مصروف جنگ ہو گیا‘ تلواروں کی خچاخچ اور نیزوں کی طعن و ضرب‘ نیز رجز خوانوں کی آوازوں اور لڑانے والوں کی تکبیروں سے تمام عرصہ شب معمور رہا‘ یہ رات جمعہ کی رات تھی‘ لیلۃ الہریر کے نام سے مشہور ہے‘ اسی شب میں سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ بھی شہید ہوئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کبھی میمنہ میں ہوتے تھے‘ کبھی میسرہ میں نظر آتے اور کبھی لشکر میں شمشیر زنی کرتے ہوئے دیکھے جاتے‘ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ میسرہ کو سنبھالے ہوئے تھے اور اشتر نے میمنہ کو سنبھال رکھا تھا‘ اسی طرح معاویہ رضی اللہ عنہ ‘ عمروبن العاص رضی اللہ عنہ اور دوسرے سرداروں نے لشکر شام کو مصروف جنگ رکھا‘ ساری رات اسی جنگ و پیکار میں بسر ہو گئی‘ دن کے بعد رات بھی ختم ہو گئی‘ مگر لڑائی کے ختم ہونے کی کوئی صورت ظاہر نہ ہوئی‘ جمعہ کا دن شروع ہوا اور آفتاب افق مشرق سے طلوع ہوا‘ تو اس نے غروب ہوتے وقت دونوں لشکروں کو جس طرح مصروف قتال چھوڑا تھا اسی طرح مصروف قتال دیکھا۔ لیلۃ الہریر کی جنگ و پیکار میں ایک قابل تذکرہ واقعہ یہ بھی ہوا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ بارہ ہزار سواروں کا زبردست دستہ لیے ہوئے اس سرعت و قوت سے حملہ آور ہوئے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خیمے تک پہنچے گئے اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو آواز دے کر کہا‘ کہ مسلمانوں کو قتل کرانے سے کوئی فائدہ نہیں ہے‘ آئو ہم دونوں میدان میں ایک دوسرے کا مقابلہ کریں‘ ہم میں جو کامیاب ہو وہی خلیفہ ہو جائے گا‘ اس آواز کو سن کر عمروبن العاص نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ بات تو معقول ہے آپ کو مقابلے کے لیے نکلنا چاہیے۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس فیصلے کو تم اپنے لیے کیوں پسند نہیں کرتے‘ کیا تم کو معلوم نہیں کہ علی رضی اللہ عنہ کے مقابلہ پر جو شخص میدان میں نکلتا ہے وہ جان بر نہیں ہوتا‘ پھر ہنس کر کہا کہ شاید تم مجھ کو اس لیے مقابلہ پر بھیجتے ہو کہ میں مارا جائوں اور میرے بعد تم ملک شام کے مالک بن بیٹھو‘ غرض امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کوئی جواب نہیں دیا گیا اور وہ اپنے لشکر کی طرف تشریف لے آئے۔ جمعہ کے دن بھی دوپہر تک بدستور لڑائی جاری رہی‘ اب تلوار چلتے ہوئے مسلسل تیس گھنٹے سے زیادہ مدت گذر چکی تھی‘ اس تیس گھنٹہ میں ستر ہزار کے قریب آدمی طرفین سے مارے جا چکے تھے‘ اسلام کی اتنی بڑی طاقت کا آپس میں لڑ کر ضائع ہونا سب سے بڑی مصیبت تھی جو اس تیس گھنٹہ کی منحوس مدت میں مسلمانوں پروارد ہوئی‘ ستر ہزار ایسے بے نظیر بہادروں کو قتل کرا کر تو مسلمان نہ صرف اس زمانہ کی ساری دنیا بلکہ ایسی ایسی کئی دنیائوں کو فتح کر سکتے تھے۔ جب دوپہر ڈھل گئی تو مالک اشتر نے اپنے متعلقہ حصہ فوج کا چارج عیان بن ہوذہ کو سپرد کیا اور خود سواروں کی جمعیت کو ایک طرف لے جا کر اہل شام پر حملہ کرنے اور جان دینے کی ترغیب دی‘ سواروں نے اس بات کا اقرار کیا کہ ہم فتح حاصل کئے یا جان دئیے بغیر واپس نہ آئیں گے۔ سواروں کا ایک دستہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی رکاب میں رہا اور بڑے حصے کو اشتر نے لے کر ایک مناسب سمت سے شامی لشکر پر حملہ کیا‘ لڑائی کا فیصلہ کرنے کے لیے یہ وقت بھی بہت ہی مناسب آ گیا تھا‘ کیونکہ اب تک کی لڑائی میں اگرچہ پہلے دن یعنی جمعرات کے روز شامی لشکر چیرہ دست اور غالب نظر آتا تھا‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کی حالت جمعرات کے دن شام تک ایسی خطرناک تھی جس سے گمان ہو سکتا تھا کہ شکست ان ہی کے حصے میں آئے گی‘ اور لشکر شام فتح مند ہو جائے گا‘ لیکن رات کے معرکہ میں شامیوں کے زیادہ آدمی مارے گئے‘ اور اب جمعہ کے دن دوپہر ڈھلے تک اگرچہ لڑائی کانٹے کا تول برابر تلی ہوئی نظر آتی تھی‘ مگر شامیوں کے نصف سے زیادہ آدمی مارے جا چکے تھے اور ان کی تعداد اب بجائے اسی ہزار کے صرف ۳۵ ہزار کے باقی رہ گئی تھی‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں اب تک بیس پچیس ہزار آدمی مارے گئے تھے‘ اور ان کی تعداد ساٹھ ہزار باقی تھی‘ یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کی تعداد اب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر کی تعداد سے دگنی تھی۔ ایسی حالت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے موقع تھا کہ وہ دشمن کو مصروف جنگ رکھتے ہوئے اپنی فوج کے ایک معقول حصے کو جدا کر کے مصروف و مشغول دشمن کے پہلو یا پشت پر ایک زبردست ضرب لگائیں کہ اس کا کام تمام ہو جائے اور لڑائی کا نتیجہ فتح کی شکل میں فوراً برآمد ہو جائے‘ چنانچہ مالک اشتر نے اپنے فدائی سواروں کے ساتھ ایک نہایت ہیبت ناک حملہ کیا یہ حملہ سواروں ہی کے ذریعہ ہونا چاہیے تھا کیونکہ جو فوج تیس یا بتیس گھنٹہ سے برابر مصروف جنگ تھی‘ اس کے سپاہیوں میں جسمانی طاقت بہت کچھ ضعف و تکان کے سبب مغلوب ہو چکی ہو گی‘ ایسے سپاہیوں کے حملے میں مرعوب کن شان کا پیدا کرنا آسان نہ تھا‘ لیکن گھوڑوں کو اب تک زیادہ کام نہ کرنا پڑا تھا‘ اور وہ پیدل سپاہیوں کی نسبت یقینا تازہ دم تھے۔ اشتر نے برق و باد کی طرح حملہ کیا‘ صفوں کو ریلتا دھکیلتا اور روندتا ہوا شامیوں کے قلب لشکر تک پہنچ گیا‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جب اشتر کو کامیاب حملہ کرتے اور اس کے علم کو دم بدم آگے بڑہتے ہوئے دیکھا تو ادھر سے اپنے رکابی سواروں کے کمکی دستے یکے بعد دیگرے پیہم بھیجنا شروع کئے‘ تاکہ اس حملہ کی ترقی کسی جگہ رکنے نہ پائے اور اشتردم بدم زیادہ طاقت ور ہوتا جائے۔ اس تدبیر کا تیر ٹھیک نشانے پر بیٹھا‘ شامی فوج کا علمبردار بھی اشتر کے ہاتھ سے مارا گیا‘ اور عمروبن العاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی فرود گاہ کے سامنے کشت و خون ہونے لگا‘ اشتر کے حملہ آور ہونے کے وقت شدت جنگ کی وجہ سے دونوں فوجوں کا پھیلائو سمٹ چکا تھا‘ میمنہ اور میسرہ اپنے اپنے قلب کے ساتھ مل کر ایک ہو گئے تھے اور پوری تیزی سے ایک دوسرے کے قتل کرنے میں مصروف تھے‘ اگر میمنہ اور میسرہ پھیلے ہوئے ہوتے اور لڑائی کے مرکز ہوتے تو اشتر کا یہ حملہ کوئی قطعی فیصلہ نہیں کر سکتا تھا کیونکہ فوج کے ایک حصے کا زور بآسانی دوسرے حصے کی جانب منتقل نہیں کیا جا سکتا تھا اور سپہ سالار اعظم کوئی نہ کوئی تدبیر نکال سکتا تھا‘ لیکن یہ حملہ ایسے صحیح موقع اور مناسب وقت پر کیا گیا تھا کہ شامی لشکر کی شکست میں کوئی کسر باقی نہ تھی۔ لشکر شام کے سردار حریف کو اپنے قلب میں چیرہ دست اور اپنے علمبردار کو مقتول دیکھ کر حواس باختہ ہو چکے تھے‘ ساری کی ساری طاقت اپنے مدمقابل سے زور آزمائی میں مصروف تھی‘ اور ان اچانک آ پڑنے والے حملہ آوروں کی مدافعت کے لیے کوئی محفوظ طاقت باقی نہ تھی‘ ابھی تک شامیوں نے میدان جنگ سے منہ نہیں موڑا تھا‘ اور ابھی تک وہ کسی طرح شکست خوردہ نہیں کہے جا سکتے تھے‘ لیکن ان کے شکست پانے اور ہزیمت یافتہ ہونے میں اب گھٹنوں کی نہیں بلکہ منٹوں کی دیر تھی کہ سیدنا عمروابن العاص رضی اللہ عنہ کی انگشت تدبیر کے ایک اشارے نے نتیجہ جنگ کو ادھر سے ادھر پلٹ دیا ادھر سے ادھر پھر گیا رخ ہوا کا!