سیدنا علی رضی اللہ عنہ

خاتمہ جنگ

سیدنا علی رضی اللہ عنہ اشتر کے کامیاب حملہ کو دیکھ کر جس قدر مسرورو مطمئن تھے‘ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اسی قدر پریشان و حواس باختہ ہو رہے تھے‘ عمرو ابن العاص رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اب دیکھتے کیا ہو لوگوں کو حکم دو کہ وہ فوراً تیروں پر قرآن مجید کو بلند کریں اور بلند آواز سے کہیں ہذا کتاب اللہ بیننا و بینکم (ہمارے تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ تعالی کی کتاب قرآن مجید موجود ہے) چنانچہ فوراً یہ حکم دیا گیا اور اہل شام نے نیزوں پر قرآن شریف کو بلند کر کے کہنا شروع کیا کہ ہم کو قرآن شریف کا فیصلہ منظور ہے‘ بعض حصوں سے آواز آتی تھی کہ مسلمانوں ہماری لڑائی دین کے لیے ہے آئو قرآن کریم کے فیصلے کو منظور کر لیں اور لڑائی کو ختم کر دیں۔ بعض سمتوں سے آواز آتی تھی کہ مسلمانوں قرآن شریف کو حکم بنا لو اگر لڑائی میں شامی لوگ تباہ ہو گئے‘ تو رومیوں کے حملے کو کون روکے گا اور اہل عراق برباد ہو گئے‘ تو مشرقی حملہ آوروں کا کون مقابلہ کرے گا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکروالوں نے جب قرآن مجید کو نیزوں پر بلند دیکھا تو لڑائی سے ہاتھ کھینچ لیا‘ سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے شامیوں کی یہ حرکت دیکھ کر کہا کہ اب تک تو لڑائی تھی لیکن اب فریب شروع ہو گیا‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو سمجھایا کہ تم اس وقت کوتاہی نہ کرو‘ بہت جلد تم کو کامیابی حاصل ہو جائے گی‘ لوگ مسلسل لڑتے لڑتے تھک گئے تھے اور اس لڑائی کو جو مسلمانوں کے درمیان ہو رہی تھی مضر اسلام بھی سمجھتے تھے‘ اس لیے انہوں نے لڑائی کے بند کرنے اور صلح پر رضا مند ہو جانے کی اس درخواست کو بہت ہی غنیمت سمجھا اور فوراً تلواریں میان میں رکھ لیں‘ اب تک دونوں لشکروں کی طاقت مقابلہ میں بالکل مساوی ثابت ہوتی رہی تھی اور فتح کا قریب ہونا جس طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور بعض تجربہ کار و باخبر سرداروں کو تو نظر آتا تھا‘ عام سپاہیوں اور لڑنے والوں کو اس کے سمجھنے کا موقع نہ ملا تھا‘ اس لیے بھی فوج کی غالب تعداد نے شامیوں کی اس خواہش کو بہت ہی غنیمت اور مناسب سمجھا‘ یہ رنگ دیکھ کر سبائی گروہ کے افراد کی بھی آنکھیں کھلیں‘ وہ فوراً میدان عمل میں نکل آئے‘ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گرد جمع ہو کر ان کو مجبور کرنا شروع کیا کہ آپ اشتر کو واپس بلا لیں۔ اشتر اپنی کامیابی کو یقینی سمجھتا اور فتح و فیروزی کو پیش افتادہ دیکھتا تھا‘ اشتر کے واپس بلانے اور لڑائی بالکل بند کر دینے کا مطالبہ کرنے والوں کے ساتھ عام لشکری آ آ کر شریک ہونے لگے‘ ادھر لوگوں نے لڑائی بند کر دی اور اشتر کے حملہ کو روکنے کے لیے شامی فوج فارغ ہو گئی‘ ادھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لوگوں نے چاروں طرف سے گھیر کر یہاں تک گستاخانہ کلام کیا کہ اگر آپ اشتر کو واپسی کا حکم نہ دیں گے تو ہم آپ کے ساتھ بھی وہی سلوک کریں گے جو ہم نے عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا ہے‘ یہ خطرناک صورت دیکھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اشتر کے پاس فوراً آدمی دوڑایا کہ یہاں فتنہ کا دروازہ کھل گیا ہے‘ جس قدر جلد ممکن ہو‘ اپنے آپ کو میرے پاس واپس پہنچائو‘ اشتر بادل ناخواستہ واپس آیا اور لڑائی کا ہنگامہ یک لخت بند ہو کر تمام میدان پرسکون و خاموشی طاری ہو گئی۔ اشتر کے واپس آنے پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے صورت واقعہ بیان کی‘ اشتر نے افسوس کیا اور کہا کہ اے اہل عراق جس وقت تم اہل شام پر غالب ہونے والے تھے اسی وقت ان کے دام فریب میں مبتلا ہو گئے‘ لوگوں میں یہاں تک لڑائی کے خلاف جوش پیدا ہو چکا تھا کہ انہوں نے اشتر پر حملہ کرنا چاہا‘ مگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ڈانٹنے اور روکنے سے وہ رک گئے‘ اس کے بعد اشعث بن قیس نے آگے بڑھ کر عرض کیا کہ امیرالمومنین رضی اللہ عنہ لوگوں نے قرآن کو حکم تسلیم کر لیا اور لڑائی بند ہو گئی‘ اب اگر آپ اجازت دیں تو میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ان کا منشائے دلی معلوم کروں‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو اجازت دی‘ وہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور دریافت کیا کہ تم نے قرآن شریف کو کس غرض سے نیزوں پر بلند کیا تھا‘ انہوں نے جواب دیا ہم اور تم دونوں اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم کی طرف رجوع کریں ایک شخص کو ہم اپنی طرف سے منتخب کریں اور ایک کو تم اپنی طرف سے مقرر کر دو‘ ان دونوں سے حلف لیا جائے کہ وہ قرآن مجید کے موافق فیصلہ کریں گے‘ اس کے بعد وہ جو فیصلہ کریں‘ اس پر ہم تم دونوں راضی ہو جائیں۔ اشعث بن قیس یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں واپس آئے اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے جو کچھ سنا تھا وہ سب بیان کر دیا‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اردگرد جس قدر لوگ موجود تھے‘ یہ سن کر ان سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہم اس بات پر راضی ہیں اور ایسے فیصلہ کو پسند کرتے ہیں۔ اس کے بعد سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور اہل شام سے دریافت کیا گیا کہ تم اپنی طرف سے کس کو حکم منتخب کرتے ہو‘ انہوں نے کہا کہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو‘ اب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مجلس میں یہ مسئلہ پیش ہوا کہ ہماری طرف سے کون حکم مقرر کر دیا جائے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کو پسند کرتا ہوں‘ ان کے اہل مجلس نے کہا کہ عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ آپ کے رشتہ دار ہیں ہم ایسے شخص کو حکم مقرر کرنا چاہتے ہیں جس کا آپ اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے یکساں تعلق ہو‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اچھا تم بتائو کس کو پسند کرتے ہو‘ لوگوں نے کہا کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو بہت مناسب سمجھتے ہیں‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو ثقہ نہیں سمجھتا‘ تم اگر ابن عباس رضی اللہ عنہ کو میرا رشتہ دار ہونے کی وجہ سے انتخاب نہیں کرتے ہو تو مالک اشتر کو مقرر کر دو وہ میرا رشتہ دار بھی نہیں ہے‘ لوگوں نے کہا کہ ابو موسی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی صحبت ملی ہے‘ وہ صحابی ہیں‘ اور مالک اشتر اس شرف سے محروم ہے‘ لہذا ہم اس کو ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ پر ہرگز ترجیح نہ دیں گے۔ آخر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اشعری رضی اللہ عنہ حکم تجویز ہو گئے۔ ابھی یہ مجلس برپا ہی تھی کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ اقرار نامہ لکھنے کے لیے آ گئے۔