سیدنا علی رضی اللہ عنہ

خلافت علوی پر ایک نظر

سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان عالی جاہ و بلند پایہ بزرگوں کے خاتم تھے‘ جن کے بعد کوئی شخص باقی نہ رہا‘ جس کی عزت و عظمت تمام عالم اسلامی میں مسلم ہو‘ اور وہ جرات و ہمت کے ساتھ نہی عن المنکر اور امر بالمعروف کر سکے‘ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا حال سنا تو فرمایا‘ اب عرب لوگ جو چاہیں سو کریں‘ کیونکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعد ایسا کوئی باقی نہ رہا کہ ان کو کسی برے کام سے منع کرے گا‘ اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا کام ترک کر دیا تھا‘ بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ایک ناصح اور واعظ کی حیثیت سے لوگوں کو نصیحت فرماتے تھے‘ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں شامل تھے جو لوگوں کو نبیوں اور پیغمبروں کی طرح حکم دیتے تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پالیسی اور چالاکی سے قطعاً پاک اور مبرا تھے‘ ان کے نزدیک حق اور سچ کو تسلیم کرنا سب سے زیادہ ضروری تھا‘ وہ ابتدا ء رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے قریبی رشتہ دار ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو سب سے زیادہ حق دار خلافت سمجھتے تھے‘ لہذا انہوں نے نہایت صفائی کے ساتھ اس کا اظہار کر دیا‘ اور چند روز تک سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی‘ پھر ان ہی ایام میں جب ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے ان کو سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج پر آمادہ کرنا چاہا‘ تو انہوں نے ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو نہایت حقارت کے ساتھ جھڑک دیا‘ کیونکہ وہ اس فعل کو برا جانتے تھے‘ جب ان کی سمجھ میں یہ بات آ گئی‘ کہ خلافت کے معاملہ میں کسی رشتہ داری کو کوئی دخل نہیں ہے‘ بلکہ اس کے لیے اور ضروری باتیں قابل لحاظ ہیں‘ اور سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد خلافت کے مستحق تھے‘ تو خود بخود آ کر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت ہو گئے‘ اور بیعت ہونے کے بعد وہی سب سے زیادہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے معین و مددگار اور دل سے فرماں بردار تھے۔ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اپنے عہد خلافت میں سب سے زیادہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مشوروں کی قدر کرتے‘ اور اعاظم امور میں عموماً ان ہی کی رائے کو قابل عمل جانتے تھے۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو بھی انہوں نے ہمیشہ سچے اور اچھے مشورے دیے‘ اور اس بات کی مطلق پروانہ کی کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ان کے مشورے پر عمل کرتے ہیں یا دوسرے کی بات مانتے ہیں‘ انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بعض کاموں کو قابل اعتراض پایا تو بلا تائل ان پر اعتراض بھی کیا۔ لوگوں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خلاف صدائے احتجاج بند کی تو جہاں تک ان کے نزدیک یہ احتجاج جائز تھا‘ وہاں تک انہوں نے اس کو اطمینان کی نظر سے دیکھا اور جس قدر حصہ انہوں نے جائز نہ سمجھا اسی قدر اس کی مخالفت کی اور روکنا چاہا‘ مدینہ منورہ میں جب بلوائیوں کا زور و شور دیکھا‘ اور ناشدنی علامات ظاہر ہوئے‘ تو انہوں نے چالاکی اور چالبازی کے ساتھ اپنی پوزیشن صاف دکھانے کے لیے کوئی تدبیر نہیں کی بلکہ صرف اپنی پاک طینتی اور صاف باطنی پر مطمئن رہے۔ شہادت عثمانی رضی اللہ عنہ کے بعد جب لوگوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کرنا چاہی تو چونکہ وہ اب اپنے آپ کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد سب سے زیادہ اس عہدہ جلیلہ کا مستحق سمجھتے تھے‘ لہذا انہوں نے کسی کسر نفسی اور تکلف کو کام میں لانے اور انکار کرنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خلیفہ منتخب ہونے کے وقت ان کو توقع تھی کہ مجھ کو خلیفہ منتخب کیا جائے گا لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی اس احتیاط نے کہ خلافت اسلامی میں کسی رشتہ داری کو قطعاً کوئی دخل نہیں ہونا چاہیے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی قابلیت کو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں مؤخر کر دیا‘ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے اقرار پر ثابت قدم رہنا ضروری سمجھا‘ اور بلا اظہار مخالفت بیعت عثمانی میں داخل ہو گئے۔ غرض سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے تمام کاموں سے آفتاب نصف النہار کی طرح یہ امر ثابت ہے کہ وہ جس بات کو حق اور سچ جانتے تھے‘ اس کے حق اور سچ کہنے میں کسی مصلحت اور پالیسی کی وجہ سے تامل کرنا ہرگز ضروری نہ سمجھتے تھے‘ ان کا چہرہ ان کے قلب کی تصویر اور ان کا ظاہر ان کے باطن کا آئینہ تھا‘ وہ ایک شمشیر برہنہ تھے‘ اور حق کو حق کہنے میں کبھی نہ چوکتے تھے‘ اگر ان کی جگہ کوئی دوسرا شخص ہوتا تو وہ اپنے آپ کو قتل عثمان رضی اللہ عنہ کے وقت بہت کچھ بچا کر رکھتا اور بیعت خلافت کے وقت بڑی بڑی احتیاطیں عمل میں لاتا‘ اسی طرح بیعت خلافت کے بعد عام افواہوں کے اثر کو زائل کرنے اور بنو امیہ کی مخالفانہ کوششوں کو ناکام رکھنے کی غرض سے محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ اور مالک اشتر وغیرہ چند بلوائی سرداروں کا قصاص عثمانی میں قتل کرا دینا اور زیر سیاست لانا زیادہ کچھ مشکل نہ تھا‘ کیونکہ عالم اسلامی اس معاملہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تائید کے لیے مستعد تھا‘ لیکن ان کو ایسی پختہ شہادتیں نہ مل سکیں‘ جن کی بنا پر وہ ان لوگوں کو شرعاً زیر قصاص لا سکتے‘ لہذا انہوں نے تامل فرمایا‘ اور اس تامل سے جو فتنے پیدا ہوئے ان سب کا مقابلہ کیا مگر اپنے نزدیک جس کام کو ناکردنی سمجھا تھا اس کو ہرگز نہ کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو جن لوگوں سے واسطہ پڑا ان میں زیادہ تر ایسے لوگ شامل تھے جو چالاکیوں‘ مصلحت اندیشیوں اور چال بازیوں سے کام لینا جانتے تھے‘ وہ خالص اسلامی کرہ ہوائی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ سے پیدا ہو کر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے آخر عہد تک قائم تھا‘ دنیا طلبی‘ جاہ طلبی‘ نسلی و خاندانی تفوق و امتیاز اور ایران و مصر وغیرہ کے کثیر التعداد نو مسلموں کے اسلامی برادری میں شامل ہو جانے کے سبب کسی قدر غبار آلود ہونے لگا تھا‘ پھر ان کے زمانہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی جماعت بہت مختصر رہ گئی تھی‘ بڑے بڑے صاحب اثر اور جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنھم فوت ہو چکے تھے‘ جو تھوڑی سی تعداد باقی تھی وہ سب منتشر تھی‘ کوئی کوفہ میں تھا کوئی بصرہ میں‘ کوئی دمشق میں تھا کوئی مصر میں‘ کوئی یمن میں تھا کوئی فلسطین میں‘ کوئی مکہ میں تھا کوئی مدینہ میں۔ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے زمانہ تک صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی ایک بڑی تعداد مدینہ منورہ میں موجود تھی اور بہت ہی کم لوگ باہر دوسرے شہروں میں ضرورتاً جاتے اور مدینہ میں واپس آتے رہتے تھے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مدینہ کی سکونت کو ترک کر کے کوفہ کو دارالخلافہ بنایا۔ اور سوئے اتفاق سے وہ فائدہ جو کوفہ کو دارالخلافہ بنانے میں انہوں نے سوچا تھا حاصل نہ ہوا‘ ساتھ ہی اس اسلام میں حجاز کو جو اہمیت حاصل تھی کوفہ کے دارالخلافہ ہونے سے حجاز کی حیثیت اور اہمیت کم ہو گئی جس کے سبب وہ امداد جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ملک حجاز سے حاصل ہوتی‘ حاصل نہ ہو سکی۔ منافقوں اور خفیہ سازشیں کرنے والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے عہد مبارک میں بھی مسلمانوں کو کئی مرتبہ پریشانیوں میں مبتلا کیا‘ لیکن وہ اپنے پلید و ناستودہ مقاصد میں ناکام و نامراد ہی رہے‘ عہد صدیقی رضی اللہ عنہ اور عہد فاروقی میں یہ شریر لوگ کوئی قابل تذکرہ حرکت نہ کر سکے‘ عہد عثمانی میں ان کو پھر شر انگیزی کے مواقع میسر آ گئے‘ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا تمام عہد خلافت ان ہی شریروں کی شرارتوں کے پیدا کئے ہوئے ہنگاموں میں گذرا۔ اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اور بھی مواقع ملتے‘ اور ان کی شہادت کا واقعہ اس قدر جلد عمل میں نہ آتا‘ تو یقینا وہ چند روز کے بعد تمام مفسدوں کی مفسدہ پردازیوں پر غالب آ کر عالم اسلامی کو ان اندرونی ہنگامہ آرائیوں سے پاک صاف کر دیتے‘ کیونکہ ان کے عزم و ہمت اور استقلال و شجاعت میں کبھی کوئی فرق نہیں پایا گیا‘ وہ مشکلات کا مقابلہ کرنے اور ان پر غالب آنے کے لیے ہمیشہ مستعد پائے جاتے تھے‘ کسی وقت بھی ان کے قلب پر پوری مایوسی اور پست ہمتی طاری نہ ہو سکتی تھی‘ اور یہ وہ بات تھی جس کی توقع کسی دوسرے شخص سے ایسے حالات میں ہرگز نہیں ہو سکتی تھی‘ وہ لوگوں کی دھوکہ بازیوں‘ چالاکیوں‘ اور پست ہمتیوں کے متعلق بھی اب تجربہ حاصل کر چکے تھے‘ وہ ان باتوں سے بھی واقف ہو چکے تھے جن کے نتائج ان کی توقع کے خلاف برآمد ہوئے تھے‘ لیکن مشیت ایزدی اور حکم الہی یہی تھا کہ وہ جلد شہادت پائیں‘ اور بنو امیہ کے لیے میدان خالی چھوڑ جائیں۔ بنو امیہ کا قبیلہ اپنے آپ کو ملک عرب کا سردار اور بنو ہاشم کو اپنا رقیب سمجھتا تھا‘ اسلام نے ان کے مفاخر کو مٹا اور بھلا دیا تھا‘ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت نے ان کو پھر چونکا دیا اور وہ اپنی کھوئی ہوئی سیادت کو واپس لانے کے لیے تدابیر سوچنے میں مصروف ہو گئے‘ اور منافقوں کی سازشوں نے ان کی تدابیر کو عملی جامہ پہنانے اور کامیاب بنانے میں امداد پہنچائی‘ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں جو ناگوار اور ناشدنی حالات پیدا ہو چکے تھے‘ ان حالات کو روبہ صلاح کرنے اور پہلی حالت دوبارہ قائم کرنے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو زیادہ پریشانی اٹھانی پڑی اور وہ زیادہ وقت یعنی اپنا تمام عہد خلافت صرف کرنے پر بھی ان مشکلات پر غالب نہ ہونے پائے تھے کہ شہید ہوئے۔ لیکن یہ کہنا کہ اگر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بعد یہ ممکن ہوتا کہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ دوبارہ تخت خلافت پر متمکن ہو سکتے‘ اور وہ پھر زمام خلافت اپنے ہاتھ میں لے لیتے‘ تو وہ یقینا چند ہفتوں میں وہی پہلی حالت قائم کر لیتے‘ مگر یہ سب خیالی باتیں ہیں‘ مصلحت الٰہی اور مشیت ایزدی نے اسی کو مناسب سمجھا جو ظہور میں آیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی معرکہ آرائیوں اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ و سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی لڑائیوں وغیرہ کو ہم لوگ اپنے زمانہ کی مخالفتوں اور لڑائیوں پر قیاس کر کے بہت کچھ دھوکے اور فریب میں مبتلا ہو جاتے ہیں‘ ہم ان بزرگوں کے اخلاق کو اپنے اخلاقی پیمانوں سے ناپنا چاہتے ہیں‘ حالانکہ یہ بہت بڑی غلطی ہے خوب غور کرو اور سوچو کہ جنگ جمل کے موقع پر سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ و زبیر رضی اللہ عنہ نے کس عزم و ہمت کے ساتھ مقابلہ اور معرکہ آرائی کے لیے تیاری کی تھی‘ لیکن جب ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ایک حدیث یاد دلائی گئی‘ تو کس طرح وقت کے وقت پر جب کہ ایک زبردست فوج جاں نثاروں کی ان کے قبضے میں تھی وہ میدان جنگ سے جدا ہو گئے‘ ان کو غیرت بھی دلائی گئی ان کو بزدل بھی کہا گیا‘ پھر وہ لڑائی اور میدان جنگ کو کھیل تماشے سے زیادہ نہ سمجھتے تھے‘ ان کی شمشیر خارشگاف ہمیشہ بڑے بڑے میدانوں کو سر کرتی رہی تھی‘ مگر انہوں نے کسی چیز کی بھی پروا دین و ایمان کے مقابلہ میں نہ کی‘ انہوں نے ایک حدیث سنتے ہی اپنی تمام کوششوں‘ تمام امیدوں‘ تمام اولعزمیوں کو یک لخت ترک کر دیا۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ عالی جناب مولوی جو مسلمانوں میں بڑی عزت و تکریم کا مقام رکھتے ہیں‘ اگر کسی مسئلہ میں ایک دوسرے کے مخالف ہو جائیں‘ تو برسوں مباحثوں اور مناظروں کا سلسلہ جاری رہتا ہے‘ ایک دوسرے کی ہر طرح تذلیل و تنقیص کرتے اور بعض اوقات کچہریوں میں مقدمات دائر کر دیتے ہیں۔ گالیاں دینا اور اپنے حریف کو برا کہنا اپنا حق سمجھتے ہیں‘ مگر یہ سراسر محال ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک اپنی غلطی تسلیم کر لے اور اپنے حریف کی سچی بات تسلیم کر کے لڑائی جھگڑے کا خاتمہ کر دے۔ جنگ صفین اور فیصلہ حکمین کے بعد ایک مرتبہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک استفتاء بھیجا اور فتویٰ طلب کیا کہ خنثیٰ مشکل کی میراث کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو جواب میں لکھ بھیجا‘ کہ اس کی پیشاب گاہ کی صورت سے حکم میراث جاری ہو گا‘ یعنی اگر پیشاب گاہ مردوں کی مانند ہے تو حکم مرد کا ہو گا اور اگر عورت کی مانند ہے تو عورت کا حکم ہوگا۔ بصرہ میں جنگ جمل کے بعد آپ داخل ہوئے‘ تو قیس بن عبادہ نے عرض کیا کہ لوگ یہ کہتے ہیں‘ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے وعدہ فرمایا تھا کہ میرے بعد تم خلیفہ بنائے جائو گے‘ کیا یہ بات درست ہے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ بات غلط ہے‘ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر ہرگز جھوٹ نہیں بول سکتا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اگر مجھ سے یہ وعدہ فرماتے تو سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو کیوں خلیفہ بننے دیتا اور کیوں ان کی بیعت کرتا۔ آج کے مولویوں اور صوفیوں سے اس قسم کی توقعات کہاں ہو سکتی ہیں‘ ہر ایک شخص خود ہی اپنے دل میں اندازہ کر لے۔ سیدنا آدم علیہ السلام کے وقت سے لے کر قیامت تک حق و باطل کی معرکہ آرائی اور لڑائی کا سلسلہ جاری رہا ہے اور جاری رہے گا‘ رحمانی اور شیطانی دونوں گروہ دنیا میں ہمیشہ پائے گئے‘ اور پائے جائیں گے‘ ارباب حق اور ارباب باطل کا وجود دنیا کو کبھی خالی نہیں چھوڑ سکتا‘ اور یہی حق و باطل کا مقابلہ ہے‘ جس کی وجہ سے نیکوں کے لیے ان کی نیکی کا اجر مرتب ہوتا ہے اور مومن کے ایمان کی قدر خدا تعالیٰ کی جناب میں کی جاتی ہے‘ مومنوں اور مسلمانوں کی تعریف خدائے تعالیٰ نے قرآن مجید میں {اُمَّۃً وَّسَطًا} (البقرۃ : ۲/۱۴۳) فرمائی ہے‘ اسلام میانہ روی سکھاتا اور افراط و تفریط کے پہلوئوں سے بچاتا ہے۔ بہت سے لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے معاملہ میں افراط و تفریط کے پہلوئوں کو اختیار کر کے گمراہ ہو گئے ہیں‘ ان گمراہ لوگوں میں سے ایک گروہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف پہلو پر اس قدر زور دیا کہ اپنی مخالفت کو عداوت‘ بلکہ ذلیل ترین عناد کے درجہ تک پہنچا دیا اور خدائے تعالیٰ کے اس برگزیدہ بندے کو گالیاں دینے میں تامل نہ کر کے اپنی گمراہی اور خسران و خذلان میں کوئی کمی نہ رکھی‘ دوسرے گروہ نے ان کی محبت میں ضرورت سے زیادہ مبالغہ کر کے ان کو خدائی کے مرتبہ تک پہنچا دیا اور ایک بندے کو خدائی صفات کا مظہر قرار دے کر دوسرے پاک اور نیک بندوں کو گالیاں دینا اور برا کہنا ثواب سمجھا‘ اور اس طرح اپنی گمراہی کو حد کمال تک پہنچا کر پہلے گروہ کا ہمسر بن گیا‘ اس معاملہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا وجود بہت کچھ سیدنا مسیح علیہ السلام کے وجود سے مشابہ نظر آتا ہے‘ کیونکہ یہودی ان کی مخالفت کے سبب گمراہ ہوئے‘ اور عیسائی ان کی محبت و تعظیم میں مبالغہ کرنے اور ان کو خدائی تک کا مرتبہ دینے میں گمراہ ہوئے۔ سچے پکے مسلمان جس طرح سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں افراط و تفریط کے پہلوئوں یعنی یہود و نصاریٰ کے عقائد سے بچ کر طریق اوسط پر قائم ہیں‘ اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے معاملہ میں بھی وہ خارجیوں اور شیعوں کے عقائد سے محترزرہ کر طریق اوسط پر قائم ہیں‘ یہ چند سطریں غالباً ایک تاریخ کی کتاب میں غیر موزوں اور تاریخ نویسی کے فرائض سے بالا تر سمجھی جائیں گی‘ لیکن ایسے عظیم الشان معاملہ کی نسبت جو آئندہ چل کر عالم اسلام پر نہایت قوی اثر ڈالنے والا ہے‘ ایک مسلمان کے قلم سے چند الفاظ کا نکل جانا عیب نہ سمجھا جائے گا‘ جب کہ واقعات تاریخی کو بلا کم و کاست لکھ دینے کے بعد مؤلف کی رائے بالکل الگ اور غیر ملتبس طور پر نظر آئے۔ جس طرح صحابہ کرام کو آج کے مسلمانوں‘ مولویوں اور صوفیوں پر قیاس کرنا غلطی ہے‘ اسی طرح ان کو عالم انسانیت سے بالا تر ہستیاں سمجھنا اور انسانی کمزوریوں سے قطعاً مبرا یقین کرنا بھی غلطی ہے‘ آخر وہ انسان تھے‘ کھانے ‘ پینے ‘ پہننے‘ سونے کی تمام ضرورتیں ان کو اسی طرح لاحق تھیں‘ جس طرح تمام انسانوں کو ہوا کرتی ہیں‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا تو کہنا ہی کیا‘ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو بھی اپنے انسان ہونے کا اقرار اور بشر رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہونے پر فخر تھا‘ ہم روزانہ اپنی نمازوں میں اشھد ان محمد عبدہ و رسولہ کہتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے عبد خدا ہونے کا اقرار کرتے اور بندہ ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔ ہاں! ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو معصوم عن الخطاء اور جامع جمیع کمالات انسانیہ یقین کرتے اور نوع انسان کے لیے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی کو سب سے بہتر کامل و مکمل نمونہ جانتے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہی کی اقتداء میں سعادت انسانی تک پہنچنے کا طریق مانتے ہیں‘ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت وہ برگزیدہ جماعت ہے جنہوں نے براہ راست‘ بلا توسط غیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی کے نمونہ کو دیکھا‘ اور ہدایت یاب و سعادت اندوز ہوئے‘ لیکن چونکہ وہ نبی نہ تھے‘ معصوم بھی نہ تھے‘ ان کی استعدادیں بھی مختلف تھیں‘ لہذا ان میں ایک طرف صدیق رضی اللہ عنہ و فاروق رضی اللہ عنہ نظر آتے ہیں تو دوسری طرف ان کی جماعت میں معاویہ رضی اللہ عنہ و مغیرہ رضی اللہ عنہ بھی موجود ہیں‘ ایک طرف ان میں عائشہ رضی اللہ عنھا و علی رضی اللہ عنہ جیسے فقیہ موجود ہیں‘ تو دوسری طرف ان میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ و ابن مسعود رضی اللہ عنہ جیسے راوی و محدث بھی پائے جاتے ہیں‘ ایک طرف ان میں عمروبن العاص رضی اللہ عنہ جیسے سیاسی لوگ ہیں‘ تو دوسری طرف ان میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور ابوذر رضی اللہ عنہ جیسے متقی و زاہد بھی پائے جاتے ہیں‘ پس مختلف استعدادوں کی بنا پر اگر ان کے کاموں اور کارناموں میں ہمیں کوئی اختلاف نظر آئے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے اختلاف کو اپنے لیے صبر و سکون کیساتھ سامان رحمت بنا لیں اور عجلت و کوتاہ فہمی کے ذریعہ باعث گمراہی نہ بننے دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد ۳۰ ھ تک یعنی ۲۰ سال برابر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو دنیا میں فتوحات حاصل ہوتی رہیں‘ اور ہر سال بلکہ ہر مہینہ کوئی نہ کوئی ملک یا صوبہ مفتوح ہو کر اسلامی سلطنت میں شامل ہوتا رہا‘ اس بیس سالہ فتوحات نے براعظم ایشیا و افریقہ کے قریباً تمام متمدن ممالک کو اسلامی حکومت کے دائرہ میں داخل کر دیا تھا اور اسلامی سیادت تمام دنیا میں مسلم ہو چکی تھی‘ ۳۰ ھ سے ۴۰ ھ تک فتوحات کا سلسلہ قریباً رکا رہا اور اس دس سال کی مدت میں مسلمانوں کے اندر آپس کے جھگڑے اور اندرونی نزاعات برپا رہے‘ چشم ظاہر بین اس دس سالہ مدت کو سراسر زیان و نقصان ہی محسوس کرتی ہے‘ لیکن فہم و فراست اور غور و تامل کے لیے اس میں میں بہت سی بھلائیاں اور خوبیاں پوشیدہ ہیں۔ وہ بیس سالہ فتوحات جس طاقت کے ذریعہ حاصل ہوئیں وہ طاقت نتیجہ تھی اس روحانیت اور اس تعلیم کا جو اسلام اور قرآن مجید کے ذریعہ صحابہ کرام کو حاصل ہوئی تھیں‘ اور یہ اندرونی اور فتنے جس چیز نے پیدا کئے تھے وہ نتیجہ تھا اس طاقت کا جو مادیت اور اس دنیا کے باشندے ہونے کی وجہ سے ہر انسان میں پیدا ہو سکتی ہے‘ ان دس سالہ رکاوٹوں اور اندرونی جھگڑوں نے عالم اسلام کے لیے اسی طرح قوت اور سامان نمونہ بہم پہنچایا‘ جس طرح موسم خزاں میں درخت اپنے نشونما کے مادے جمع کر لیتا ہے اور موسم بہار کے آنے پر پھل‘ پھول اور پتے پیدا کرتا ہے‘ اگر ان ابتدائی ایام میں مسلمان آپس کی لڑائیوں اور تباہیوں کے نظارے نہ دیکھ لیتے‘ اور ان کی تاریخ کے ابتدائی صفحات میں وہ دس سالہ درد انگیز صفحہ موجود نہ ہوتا‘ تو آگے چل کر قرون اولیٰ کے بعد جب کبھی وہ ایسی زبردست ٹھوکر کھاتے تو ایسے حواس باختہ ہوتے اور اس طرح گرتے کہ پھر کبھی سنبھل ہی نہ سکتے۔ ٹھوکریں کھانا‘ آپس میں اختلاف کا پیدا ہونا‘ بھائی کا بھائی سے لڑنا‘ خانہ جنگی کے شعلوں کا گھروں کے اندر بلند ہونا‘ ہابیل و قابیل کے زمانہ کی انسانی سنت ہے‘ اور بنی نوع انسان جب تک اس ربع مسکون میں آباد ہے یہ چیزبھی اس دنیا میں برابر موجود رہے گی۔ حق و باطل کی جنگ جس طرح دنیا میں جاری رہی ہے‘ اسی طرح روحانیت کے کم زور اور مادیت کے نمایاں ہو جانے پر حامیان حق کے اندر تھوڑے تھوڑے وقفوں کے بعد کھٹ پٹ ہوتی رہی ہے‘ سیدنا موسیٰ علیہ السلام بھی جب سیدنا ہارون علیہ السلام کی داڑھی اور سر کے بال کھینچ سکتے‘ یوسف علیہ السلام کو ان کے بھائی کنویں میں گرا سکتے‘ اور چند درہموں کے عوض فروخت کر سکتے‘ اور حواریان مسیح علیہ السلام میں سے بعض بروایت اناجیل مروجہ خود سیدنا مسیح علیہ السلام کے خلاف گواہی دے سکتے ہیں‘ تو ارباب حق کی اندرونی مخالفتوں اور صحابہ کرام کے مشاجرات پر حیران ہونے اور تعجب کرنے کا کوئی موقع نہیں ہے‘ آپس کی مخالفتوں اور لڑائی جھگڑوں سے نوع انسان کبھی کلی محفوظ نہیں ہو سکتی۔ پس یہ فطری تقاضا اگر صحابہ کرام کے زمانہ میں ظہور پذیر نہ ہوتا تو بعد میں آنے والی نسلوں کے لیے اندرونی نزاعات کی مصیبت سے گذر کر پھر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونے‘ گر کر پھر سنبھلنے‘ رک کر پھر چلنے کا موقع نہیں رہتا‘ اور اسلام آج اپنی اصلی حالت میں تلاش کرنے سے بھی کسی کو نہ مل سکتا‘ دوسرے الفاظ میں اس مضمون کو یوں بھی ادا کیا جا سکتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ و زبیر رضی اللہ عنہ کی مخالفتیں اسلامی حکومت کی آئندہ زندگی کے لیے اس ٹیکہ کی مثال تھیں‘ جو چیچک سے محفوظ رہنے کے لیے بچوں کے لگایا جاتا ہے‘ یا طاعون سے بچنے کے لیے لوگوں کے جسم میں ٹیکہ کے ذریعہ طاعونی مادہ داخل کیا جاتا ہے‘ چنانچہ یہ ٹیکہ بھی بہت مفید ثابت ہوا اور اس کی ناگوار یاد آج تک مسلمانوں کے لیے درس عبرت بن کر ہر تباہی و بربادی کے بعد ان کو پھر مستعد اور چوکس بناتی رہتی ہے۔بنو امیہ اور بنو عباس کی مخالفت ‘ بنو عباس کے عہد خلافت میں سادات کا خروج‘ سلجوقیوں اور دیلمیوں کی رقابت‘ غزنویوں اور غوریوں کی لڑائیاں فاطمیین و موحدین کی کشمکش‘ عثمانیوں اور صفویوں کی زور آزمائیاں‘ افغانوں اور مغلوں کی معرکہ آرائی‘ غرض ہزارہا خانہ جنگیاں ہیں‘ جن میں سے ہر ایک مسلمانوں کی تباہی و برباد کا کافی سامان رکھتی تھی‘ اور ہر موقع پر غیروں کی طرف سے یہی حکم لگایا جاتا کہ اب مسلمان سنبھلنے اور ابھرنے کے قابل نہیں رہے‘ لیکن دنیا نے ہمیشہ دیکھا کہ وہ سنبھلے‘ اور ابھرے‘ انہوں نے مایوسی کو کافروں کا حصہ سمجھا اور اپنے آپ کو ہمیشہ امیدوں سے پر استقامت و استقلال سے لبریز رکھا‘ اسلام کی عزت پر اور اسلام کی بقا کو اپنی بقا پر ترجیح دی۔ ہلاکو نے بغداد کو برباد کیا‘ تو مسلمانوں نے فوراً ہلاکو کی اولاد کو اسلام کے قلوب سے آباد کر دیا‘ عالم عیسائیت نے متحد و متفق ہو کر بیت المقدس مسلمانوں سے چھین لیا مگر صلاح الدین ایوبی نے تمام یورپی طاقتوں کو نیچا دکھا کر اس مقدس شہر کو واپس لے لیا‘ انگورہ کے میدان نے بایزید یلدرم کی تمام اولوالعزمیوں کو عملی جامہ پہنا دیا۔ غرض خلافت راشدہ کے آخری دس سال میںجو کچھ ظہور میں آیا اس نے مسلمانوں کو آئندہ کے لیے زیادہ باہمت‘ زیادہ صعوبت کش‘ زیادہ سخت جان‘ زیادہ مستقل مزاج‘ زیادہ اولوالعزم بنایا‘ بہر حال سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ کی لڑائیوں کو اگر اسلام اور عالم اسلام کے لیے نقصان رساں کہتے ہو‘ تو کم از کم ان کے فوائد کو بھی گودہ نقصان کے مقابلہ میں کم ہی کیوں نہ ہوں بالکل فراموش نہ کر دو۔ دن کے ساتھ رات‘ روشنی کے دامن میں تاریکی‘ بہار کی آغوش میں خزاں‘ گل کے پہلو میں خار‘ شیر کی خوبصورت اور دل ربا شکل و وضع میں درندگی‘ سانپ کی دل کش صورت و رفتار میں سم قاتل‘ اور دریا کی جواہرات بھری تہہ میں غرقابی و ہلاکت موجود پائی جاتی ہے‘ ایمان کی نعمت کا ہم کو مطلق احساس نہ ہوتا‘ اگر کفر کی لعنت دنیا میں موجود نہ ہوتی‘ چاندنی رات ہم کو ہرگز مسرور نہ کر سکتی اگر شب دیجور سے ہم کو واسطہ نہ پڑا کرتا۔ غرض کہ خدائے تعالیٰ نے ہر خوبی کے دامن سے ایک برائی کو باندھ دیا ہے‘ اور ہر نوش میں ایک نیش رکھ دیا ہے‘ اسی اصول پر کارخانہ عالم چل رہا ہے‘ خلافت اسلامیہ یا حکومت و سلطنت اسلامیہ نوع انسان کے لیے دنیا میں ایک نعمت کہی جا سکتی ہے‘ جب کہ چاند اور سورج کے چہروں کو بھی گہن کی سیاہی سے مفر نہیں ہے‘ تو اس نعمت کو مکدر کرنے اور زوال و نکال میں مبتلا کرنے کے سامان بھی اگر دنیا میں موجود ہوتے رہے ہوں تو ہم کو حیران و پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں منافقوں اور مسلم نما دشمنان اسلام کے سازشی گروہ کا پیدا ہو جانا تاریخ کے مطالعہ کرنے والے کو سخت ناگوار معلوم ہوتا ہے‘ اور وہ اس سازشی گروہ پیدا ہو سکنے کی ذمہ داری اسلام پر عائد کرنے سے درگذر نہیں کرتا‘ لیکن اگر وہ غور کرے گا تو جس طرح زندگی یا حیات کو وہ تنازع للبقاء‘ کشمکش ‘ جدوجہد اور کشمکش کا ایک سلسلہ تسلیم کر لے گا‘ اسلام درحقیقت نام ہے تمام شیطانی طاقتوں کے مقابلہ میں ہمہ اوقات کمر بستہ رہنے کا‘ اور شیطانی طاقتوں کو مغلوب کر کے رحمانی طاقتوں کے بول بالا کرنے کا‘ شیطانی طاقتوں میں سے سب سے زیادہ سلطنت اسلامی کے خلاف نقصان رساں منافقوں اور سازشی گروہوں کی شرارتیں ہوا کرتی ہیں آج تک جب کبھی اور جہاں کہیں خلافت اسلامیہ یعنی سلطنت اسلامیہ کو نقصان پہنچا ہے‘ تو وہ ان ہی منافقوں اور سازش کنندوں کی بدولت پہنچا ہے‘ ان منافقوں کا سلسلہ آج تک دنیا میں موجود ہے اور آج کل تو پہلے سے زیادہ طاقتور معلوم ہوتا ہے‘ اس کی پیدائش سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوئی‘ بلکہ یوں کہیے کہ شہادت فاروقی رضی اللہ عنہ سے اس کی ابتداء ہوئی‘ اور اس کے بعد جلد جلد نشوونما ہو کر شہادت عثمانی رضی اللہ عنہ سے شہادت علوی رضی اللہ عنہ تک اس کو نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں‘ پھر آج تک اس کا سلسلہ موجود پایا جاتا ہے۔سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے شہادت پائی اسلام کے اقبال میں کمی آ گئی‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب تک یہ شخص (سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ فرما کر) تم میں موجود ہے‘ فتنوں کا دروازہ بند رہے گا۔۱؎ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ آسمان کا ہر فرشتہ عمر رضی اللہ عنہ کا وقار کرتا اور زمین کا ہر شیطان ان سے ڈرتا ہے‘ ایک روز کعب احبار رضی اللہ عنہ سے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ تم نے کہیں میرا ذکر بھی صحائف بنی اسرائیل میں دیکھا ہے‘ انہوں نے کہا کہ ہاں آپ کی نسبت لکھا ہے کہ آپ امیر شدید ہوں گے اور راہ خدا میں کسی ملامت کرنے والے سے نہ ڈریں گے‘ آپ کے بعد جو خلیفہ ہو گا اس کو ظالم لوگ قتل کر ڈالیں گے اور ان کے بعد بلا اور فتنہ پھیل جائے گا۔ مجاہد فرماتے ہیں کہ ہم اکثر یہ ذکر کیا کرتے تھے‘ کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں شیاطین قید میں رہے‘ اور آپ کے انتقال کے بعد آزاد ہو گئے۔