سیدنا حسن رضی اللہ عنہ

نام و نسب و حلیہ وغیرہ

حسن بن علی بن ابی طالب خلفاء راشدین میں سب سے آخری خلیفہ سمجھے جاتے ہیں‘ آپ نصف شعبان ۳ ھ میں پیدا ہوئے‘ آپ کی صورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے بہت مشابہ تھی‘ آپ کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے رکھا تھا‘ زمانہ جاہلیت میں یہ نام کسی کا نہ تھا‘ امام بخاری نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ممبر پر تشریف رکھتے تھے‘ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پہلو میں بیٹھے تھے‘ آپ کبھی لوگوں کی طرف اور کبھی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھتے تھے‘ اور فرماتے تھے کہ میرا یہ بیٹا سردار ہے‘ اور یہ مسلمانوں کے دو گروہوں میں مصالحت کرائے گا۔۱؎ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک روز سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھے پر بٹھا رکھا تھا‘ ایک شخص راستے میں ملا‘ اس نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے کہا کہ میاں صاحبزادے تم نے کیا اچھی سواری پائی ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ سوار بھی تو بہت اچھا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ اہل بیت میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے بہت زیادہ مشابہ تھے‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ان کو سب سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔