ملک عرب
فال
تفائول اور تشائوم یعنی نیک فالی اور بدفالی کے بھی بہت قائل تھے‘ کوے کو بہت منحوس اور موجب فراق سمجھتے تھے‘ عربی زبان میں چونکہ کوے کو غراب کہتے ہیں اس لیے مسافرت کو غربت اور مسافر کو غریب کہنے لگے یعنی کوے کے اثر سے جدائی اور مسافرت میں مبتلا ہوتا ہے۔ الو کو بھی بہت منحوس جانتے تھے‘ ان کے نزدیک الو کے بولنے سے موت اور ویرانی واقع ہوتی تھی‘ عطسہ (چھینک) کو بھی موجب بدفالی سمجھتے تھے۔۲؎ بعض لوگ ساحر تھے وہ جادو گری کا پیشہ کرتے تھے اور شیطان کو اپنا دوست بنانے کے لیے بڑی بڑی ریاضتوں میں مصروف ہوتے تھے۔