یزید بن معاویہ

شامی لشکر کی ابن زبیر کو عجیب پیشکش

روانگی سے پیشتر حصین بن نمیر نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کے پاس پیغام بھیجا‘ کہ آج شب کو بطحا میں آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں‘ چنانچہ قرارداد کے موافق دس آدمی عبداللہ بن زبیر نے ہمراہ لیے اور دس آدمی حصین بن نمیر کے ہمراہ گئے‘ مقام مقررہ میں پہنچ کر حصین بن نمیر نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کو ہمراہ لے کر تنہا ایک گوشہ میں جا کر باتیں کیں‘ حصین بن نمیر نے کہا کہ میں آپ کو خلیفہ تسلیم کرنے اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کو تیار ہوں‘ میرے ساتھ پانچ ہزار جنگ جو لشکر شام کا موجود ہے یہ بھی میری تقلید کریں گے‘ آپ میرے ساتھ شام کے ملک میں چلیں‘ میں تمام اہل شام کو آپ کی بیعت کے لیے آمادہ کروں گا‘ حجاز والے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر ہی چکے‘ اہل شام کے بعد تمام عالم اسلام بلا اختلاف آپ کو خلیفہ تسلیم کر لے گا۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما نے یہ سمجھا کہ مجھ کو فریب دیا جا رہا ہے‘ چنانچہ انکار کیا اور کہا کہ جب تک میں اہل شام سے انتقام نہ لے لوں گا ہر گز ان کو معاف نہ کروں گا‘ حصین بن نمیر آہستہ کلام کرتا تھا اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما بلند آواز اور درشتی سے جواب دیتے تھے‘ حصین نے کہا کہ میں آپ کو خلافت دینا چاہتا ہوں اور آپ مجھ سے لڑتے اور سختی سے جواب دیتے ہیں۔ غرض حصین بن نمیر وہاں سے جدا ہو کر اپنے لشکر میں آیا اور کوچ کا حکم دیا‘ بعد میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے قاصد کے ہاتھ کہلا بھجوایا کہ مجھ کو شام کے ملک میں جانے کے لیے مجبور نہ کیا جائے‘ یہیں آکر بیعت کر لو‘ حصین نے کہا بغیر آپ کے شام میں جائے ہوئے کام نہ چلے گا‘ غرض عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما مکہ سے جدا نہ ہوئے۔ ادھر حصین بن نمیر مکہ سے مدینہ کے قریب پہنچا تو وہاں معلوم ہوا کہ یزید کے انتقال کی خبر سن کر اہل مدینہ نے پھر بنی امیہ کے خلاف کھڑے ہو کر یزید کے عامل کو مدینہ سے نکال دیا ہے‘ جس کو مسلم بن عقبہ مدینہ میں مامور و متعین کر آیا تھا‘ حصین مدینہ کے باہر جا کر خیمہ زن ہوا تو مدینہ کی شورش ہنگامہ آرائی کم ہو گئی اور جس قدر بنی امیہ مدینہ میں موجود تھے وہ سب حصین بن نمیر کے لشکر میں چلے آئے اورکہا ہم کو اپنے ساتھ ملک شام کی طرف لے چلو‘ حصین نے کہا‘ کہ آج رات کو تم یہیں ٹھہرو صبح تم کو ساتھ لے کو کوچ کریں گے۔