یزید بن معاویہ
شامی لشکر کی زین العابدین کی دعوت خلافت
جب رات ہوئی تو حصین بن نمیر تنہا علی بن حسین رضی اللہ عنہ کی تلاش میں نکلا‘ ان سے ملا اور کہا‘ کہ یزید فوت ہو گیا‘ اس وقت عالم اسلام کا کوئی امام نہیں ہے‘ تم میرے ساتھ ملک شام کی طرف چلو‘ میں تمام جہان کو تمہاری بیعت پر آمادہ کر دوں گا اور تم خلیفہ وقت ہو جائو گے‘ اہل شام کو تم اہل عراق کی طرح نہ سمجھو‘ وہ تم کو ہرگز دھوکہ نہ دیں گے‘ اور نہ تمہارے درپے آزار ہوں گے۔
علی بن حسین رضی اللہ عنھما نے کہا کہ میں نے خدائے تعالیٰ سے عہد کیا ہے کہ ساری عمر کسی سے بیعت نہ لوں گا‘ تم مجھ کو اسی حال میں رہنے دو‘ اور کسی دوسرے کو خلافت کے لیے تلاش کر لو‘ یہ کہہ کر وہ حصین سے جدا ہو گئے۔ حصین اپنے لشکر میں آیا اور صبح بنی امیہ کو لے کر شام کی طرف روانہ ہوا۔