یزید بن معاویہ
عہد یزیدی کی فتوحات
سلسلہ کلام میں ہم یزید کی وفات تک پہنچ گئے‘ لیکن یہ تذکرہ رہ گیا تھا کہ عقبہ بن نافع بانی شہر قیروان افریقہ سے دمشق میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس چلے آئے تھے اور ابوالمہاجر کی شکایت کی تھی‘ امیر معاویہ نے وعدہ کیا تھا کہ ہم تم کو پھر افریقہ کی سپہ سالاری پر بھیج دیں گے‘ ابھی یہ وعدہ پورا نہ ہوا تھا کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے‘ یزید نے تخت خلافت پر بیٹھتے ہی عقبہ کو افریقہ کی سپہ سالاری پر نامزد کر کے افریقہ کی طرف روانہ کیا۔
عقبہ نے قیروان پہنچ کر ابو المہاجر کو گرفتار کر کے قید کر دیا‘ اس قید و بند کا سبب یہ تھا کہ ابو المہاجر نے اپنے عہد حکومت میں عقبہ کو ناجائز طور پر برا کہنے اور بدنام کرنے کی کوشش کی تھی‘ اسی حالت قید میں ابوالمہاجر فوت ہوا اور مرنے سے پہلے عقبہ بن نافع کو وصیت کر گیا کہ ایک بربری نو مسلم مسمی کسیلہ سے ہوشیار رہنا‘ کسیلہ کو ابو المہاجر نے مسلمان کیا تھا اور وہ اس کے مزاج و عادات سے واقف ہونے کی وجہ سے جانتا تھا کہ عقبہ نے چونکہ مجھ کو قید کیا ہے‘ اس لیے کسیلہ موقع پا کر ضرور عقبہ سے انتقام لے گا‘ عقبہ بن نافع نے اس بات کی طرف کچھ زیادہ توجہ نہ کی اور کسیلہ کو بدستور اپنی فوج کے ایک چھوٹے حصہ پر سردار رہنے دیا۔