ملک عرب

شکار کا شوق

عرب جاہلیت کو شکار کا بھی بہت شوق تھا اس لیے عربی زبان میں شکار کے متعلق بہت زیادہ اصطلاحیں موجود ملتی ہیں‘ جو شکار داہنی طرف سے آ کر بائیں طرف چلا جاتا اس کو سانح اور جو بائیں طرف سے آ کر دائیں طرف کو چلا جاتا اسے بارح کہتے تھے‘ جو شکار سامنے سے آتا اس کا نام ناطح اور جو پیچھے سے آتا اس کا نام قعید تھا‘ شکاری کی کمین گاہ کا نام قرہ اور شیر کے شکار کی غرض سے جو گڑھا کھودا جاتا اس کا نام زبیہ‘ شکار کی طرف دائوں کرتے ہوئے پیٹ کے بل زمین سے چمٹے ہوئے جانے کو تلبد اور شکاری کے محروم واپس آنے کو اخفاق کہتے تھے‘ وہ جس چیز کو شکار کر لیتے اس کا گوشت بلا تکلف کھاتے خواہ وہ حرام ہو یا حلال‘ اسلام نے حرام و حلال کی قیود اور شکار کے لیے پابندیاں قائم کیں۔