ملک عرب
لباس و طعام
ملک عرب میں نہ ریشم پیدا ہوتا ہے نہ کپاس یہ چیزیں اگر بعض صوبوں میں پیدا ہوتی ہیں تو بہت قلیل مقدار میں اور ملکی ضروریات کے لیے ناکافی‘ یمن میں قدیم الایام سے پارچہ بانی کا رواج ہے‘ عام طور پر اہل عرب کا لباس بہت ہی سادہ رہا ہے‘ گاڑھے کے کرتے میں چمڑے کے پیوند لگا کر پہننا معمولی بات تھی‘ بعض اشخاص چمڑے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو سوئی کے ٹانکوں سے جوڑ کر چادر بنا لیتے تھے اور یہ چادر بلا تکلف اوڑھنے بچھانے کے لیے کام آتی تھی‘ اونٹ اور بھیڑ کے بالوں سے بھی کپڑے بنے اور تیار کئے جاتے تھے اور زیادہ تر ان سے کمبلوں کے خیمے اور فرش بنائے جاتے تھے‘ ڈھیلے ڈھیلے اور نیچے کرتے‘ تہہ بند اور سر پر رومال یا عمامہ کا رواج تھا‘ عود‘ عنبر‘ لوبان کافور وغیرہ خوشبویات سے بھی وہ واقف تھے۔
اہل عرب کی خوراک بھی بہت سادہ اور بے تکلفانہ ہوتی تھی‘ خراب اور بدمزہ کھانوں پر بھی وہ قناعت کر لیتے تھے‘ گوشت کو سب سے زیادہ قیمتی اور لذیذ غذا سمجھتے تھے‘ دودھ گوشت اور چنیا وغیرہ غلہ عام طور پر تمام ملک کی غذا تھی ‘ پنیر ستو‘ کھجور روغن زیتون حریرہ وغیرہ کا بھی استعمال کرتے تھے‘ ٹڈیاں بھی جو اس ملک میں بکثرت ہوتی ہیں کھاتے تھے آٹے کو چھلنی میں چھاننے کا عام رواج نہ تھا‘ بلا چھنے ہوئے آٹے کی روٹی پکا کر کھاتے تھے‘ سوسمار بھی پکا کر خوب مزے سے کھاتے تھے‘ کھانا کھانے کے آداب بھی بہت ادنی درجے کے تھے جن کا اندازہ ان احکام نبوی صلی اللہ علیہ و سلم سے بخوبی ہو سکتا ہے جو کھانے پینے کے متعلق احادیث نبوی میں موجود ہیں اور جن میں بہت سی بدتمیزیوں سے منع کیا گیا ہے اور انسان کو دسترخوان پر بسیار خوری‘ بے شرمی‘ کثیف المزاجی اور اناپ شناپ باتوں سے باز رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔