ملک عرب

تکبر

تکبر کی رذیل صفت بھی عرب جاہلیت میں حد کو پہنچی ہوئی تھی‘ جذیمہ ابرش کے تکبر کی یہ حالت تھی کہ کسی کو اپنا مشیرو وزیر اور ہم نشیں نہیں بنایا‘ وہ کہتا تھا کہ فرقدین ستارے میرے ہم نشیں ہیں‘بنی مخزوم بھی تکبر کے لیے کافی شہرت رکھتے تھے‘ اسی طرح بہت سے قبائل اس رذیل صفت میں ممتاز اور مشہور عوام تھے‘ لیکن اس عیب سے خالی کوئی بھی قبیلہ نہ تھا‘ اسی تکبر کا نتیجہ تھا کہ انبیاء و رسل اور ہادیان برحق کے مواعظ حسنہ سننے اور احکام الہی کی فرماں برداری کرتے تو عیب جانتے تھے۔