ملک عرب

شترکینہ

اگر کسی قاتل یا دشمن پر اس کی زندگی میں دسترس حاصل نہ ہو سکتی تو اس کے بیٹے پوتوں اور رشتہ داروں سے بدلہ لیتے تھے اور جب تک انتقام نہ لے لیں چین سے نہیں بیٹھتے تھے۔ اگر سبب عداوت یاد نہ رہے‘ عداوت پھر بھی یاد رہتی تھی‘ بہت سے شخصوں کو صرف اس لیے قتل کرتے تھے کہ ہم کو ان سے دشمنی ہے اور ان کا قتل کرنا ضروری ہے‘ لیکن یہ نہ بتا سکتے تھے کہ ان سے کیوں دشمنی ہے؟