سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ
وفات
اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ بنو امیہ آپ کے طرز عمل سے سخت ناراض تھے کیونکہ ان کی جاگیریں‘ جائدادیں اور تمام اموال جو دوسروں کے حقوق مغصوبہ تھے‘ چھن گئے تھے اور وہ کوئی ناجائز فائدہ حکومت وقت نہیں اٹھا سکتے تھے۔ آخر وہ دیر تک اپنے ان نقصانات کو برداشت نہ کر سکے اور انہوں نے آپ کے قتل کرنے کی سازش کی‘ آپ کو قتل کرنا کوئی دشوار کام بھی نہ تھا‘ کیوں کہ اپنی ذاتی حفاظت کے لیے نہ آپ نے کوئی چوکی پہرہ قائم رکھا تھا‘ نہ کھانے پینے میں کسی قسم کی احتیاط کرتے تھے‘ آپ کے قتل کرنے کا سب سے آسان ذریعہ جو بنو امیہ نے سوچا وہ یہ تھا کہ آپ کو زہر دیا جائے‘ چنانچہ انہوں نے آپ کے غلام کو لالچ دے کر اپنا شریک بنایا اور اس کے ذریعہ آپ کو زہر دلوایا‘ جب آپ کو زہر دیا گیا‘ تو آپ کو اس کاعلم ہو گیا‘ جب آپ کی تکلیف و اذیت نے ترقی اختیار کی تو لوگوں نے کہا کہ آپ دوا کیوں نہیں کرتے‘ آپ نے فرمایا کہ جس وقت مجھے زہر دیا گیا‘ اس وقت اگر کوئی مجھ سے یہ کہتا‘ کہ تم اپنے کان کی لو کو ہاتھ لگانے سے اچھے ہو سکتے ہو تو میں اپنے کان کی لو کو ہاتھ نہ لگاتا۔
مجاہد رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ آپ نے مجھ سے پوچھا کہ لوگ میری نسبت کیا کہتے ہیں‘ میں نے کہا کہ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ آپ پر کوئی جادو کرایا گیا ہے‘ آپ نے فرمایا کہ نہیں میں مسحور نہیں ہوں‘ بلکہ مجھے جس وقت زہر دیا گیا تھا‘ اسی وقت معلوم ہو گیا تھا‘ پھر آپ نے اس غلام کو بلایا جس نے آپ کو زہر دیا تھا‘ وہ آیا تو آپ نے فرمایا‘ کہ افسوس تو نے مجھے زہر دے دیا‘ آخر کس طمع نے تجھ کو اس کام پر آمادہ کیا‘ اس نے کہا کہ مجھ کو ایک ہزار دینار دیئے گئے ہیں اور آزادی کا وعدہ کیا گیا ہے‘ آپ نے فرمایا کہ وہ دینار میرے پاس لے آئو‘ چنانچہ وہ لے آیا‘ آپ نے اسی وقت وہ ایک ہزار دینار بیت المال میں داخل کرا دئیے اور غلام کو حکم دیا کہ تو اب یہاں سے نکل کر کہیں بھاگ جا کہ پھر کسی کو تیری صورت نظر نہ آئے۔
عبید بن حسان رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ جب آپ کا وقت آخر آپہنچا اور نزع کی کیفیت شروع ہوئی تو آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ تم مجھ کو تنہا چھوڑ دو‘ چنانچہ سب اٹھ کر باہر چلے گئے‘ مسلمہ بن عبدالملک اور آپ کی بیوی فاطمہ بنت عبدالملک دروازے پر کھڑے رہے۔ انہوں نے سنا کہ آپ نے فرمایا‘ بسم اللہ‘ تشریف لائیے‘ یہ صورت نہ تو آدمیوں کی ہے نہ جنوں کی‘ پھر یہ آیت پڑھی {تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُھَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عَلُوَّا فِی الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ} (القصص : ۲۸/۸۳) ’’یہ آخرت کا گھر تو ہم ان لوگوں کے لیے مخصوص کر دیتے ہیں جو زمین میں بڑائی اور فساد نہیں چاہتے‘ اور بہتر انجام تو متقین ہی کے لیے ہے۔‘‘ اس کے بعد جب کوئی آواز نہ آئی تو وہ دونوں اندر گئے‘ دیکھا تو آپ فوت ہو چکے ہیں۔
آپ کی وفات ۲۵ ماہ رجب ۱۰۱ھ کو ہوئی‘ دو برس پانچ مہینے اور چاردن آپ نے خلافت کی‘ آپ کی وفات علاقہ حمص کے ایک مقام دیر سمعان میں ہوئی‘ آپ کی وفات کا حال جب سیدنا امام حسن بصری رحمہ اللہ تعالی نے سناتو فرمایا کہ افسوس آج دنیا کا سب سے بہتر آدمی اٹھ گیا۔ قتادہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ آپ نے خلیفہ ما بعد یعنی یزید بن عبدالملک کو ایک رقعہ لکھا جس میں لکھا تھا کہ:
’’بسم اللہ الرحمان الرحیم‘ از بندئہ اللہ تعالیٰ عمر بن عبدالعزیز‘ بعد سلام علیکم کے‘ یزید بن عبدالملک کو معلوم ہو کہ میں اس اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتا ہوں‘ جس کے سوا کوئی اور اللہ تعالیٰ نہیں ہے‘ میں یہ خط تمہیں اپنے کرب کی حالت میں لکھتا ہوں‘ میں جانتا ہوں کہ مجھ سے میرے عہد حکومت کی نسبت سوال ہونے والا ہے‘ اور وہ سوال کرنے والا دنیا و آخرت کا مالک ہے‘ یہ ممکن نہیں کہ میں اس سے اپنا کوئی بھی عمل پوشیدہ رکھ سکوں‘ اگر وہ مجھ سے راضی ہو گیا تو میری نجات ہو جائے گی‘ ورنہ میں تباہ ہوجائوں گا‘ میں دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اپنی رحمت کاملہ سے بخش دے اور عذاب دوزخ سے بچائے‘ اور مجھ سے خوش ہو کر جنت عطا فرمائے۔ تمہیں لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو‘ اور رعیت کی رعایت کرو‘ میرے بعد تم بھی زیادہ دن دنیا میں نہ رہو گے ۔۔۔۔۔۔۔ والسلام‘‘
یوسف بن مالک کا قول ہے کہ ہم آپ کو قبر میں رکھ کر مٹی برابر کر رہے تھے کہ آسمان کی طرف سے ایک کاغذ گرا‘ اس میں لکھا تھا‘ خدائے تعالیٰ کی طرف سے عمر بن عبدالعزیز کو آتش دوزخ سے نجات دے دی گئی۔۱؎