سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ
اولاد و ازواج
آپ کی تین بیویاں تھیں اور آپ نے گیارہ بیٹے چھوڑے۔ آپ کی بیویوں میں فاطمہ بنت عبدالملک بالکل آپ ہی کی طرح نیک اور اللہ والی خاتون تھیں۔ فاطمہ بن عبدالملک خلیفہ کی پوتی‘ خلفاء کی بہن‘ خلیفہ کی بیوی تھیں مگر نہایت زاہدانہ زندگی بسر کی۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کے بیٹے اسحاق‘ یعقوب‘ موسیٰ‘ عبداللہ بکر‘ ابراہیم بیویوں سے اور باقی امہات ولد سے تھے۔ جن کے نام عبدالملک‘ ولید‘ عاصم‘ یزید‘ عبداللہ‘ عبدالعزیز اور ریان تھے۔ آپ کے صاحبزادے عبدالملک بالکل باپ کے نمونے پر تھے۔ اکثر آپ فرمایا کرتے تھے کہ مجھ کو اپنے بیٹے عبدالملک کی وجہ سے نیکیوں اور عبادتوں کی ترغیب ہوتی ہے مگر یہ آپ کے سامنے ہی فوت ہو گئے تھے۔
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی نے جو ترکہ چھوڑا‘ اس کی کل مقدار ۲۱ دینار تھی۔ اسی میں سے چند دینار کفن دفن میں صرف ہوئے‘ باقی بیٹوں‘ بیٹیوں میں تقسیم ہوئے۔ عبدالرحمن بن قاسم بن محمد بن ابی بکر کا بیان ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی نے گیارہ بیٹے چھوڑے اور ہشام بن عبدالملک نے بھی گیارہ ہی بیٹے چھوڑے تھے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی نے گیارہ بیٹے چھوڑے اور ہشام بن عبدالملک نے بھی
۱؎یہ بات بے حوالہ اور بے سند ہے۔ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ ہمارا گمان ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کے ساتھ اللہ تعالیٰ ان شاء اللہ بہتری کا سلوک فرمائے گا۔
گیارہ ہی بیٹے چھوڑے تھے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کے ہر ایک بیٹے کو باپ کے ترکہ میں سے ایک دینار ملا اور ہشام بن عبدالملک کے بیٹوں میں سے ہر ایک نے باپ کے ترکہ سے دس دس لاکھ درہم پائے لیکن میں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کے بیٹوں میں سے ایک کو دیکھا کہ اس نے ایک دن جہاد کے لیے سو گھوڑے دیے اور ہشام کے ایک بیٹے کو دیکھا کہ وہ لوگوں سے صدقہ لے رہا ہے۔