مامون الرشید
فضل بن سہل کا قتل
اوپر مذکور ہو چکا ہے کہ فضل بن سہل جو خبر چاہتا تھا مامون کے گوش گذار کرتا تھا اور جس واقعہ کو چاہتا تھا چھپا لیتا تھا۔ چنانچہ اس نے ابراہیم بن مہدی کے بغداد میں خلیفہ ہو جانے کی خبر کو بھی مامون الرشید سے پوشیدہ رکھا اور کسی کی مجال نہ ہوئی کہ مامون الرشید کو ملک عراق کی حالت سے واقف کر سکے۔ طاہر بن حسین کو فضل نے رقہ میں بطور والی متعین کر رکھا تھا۔ طاہر ایک نامور سپہ سالار تھا اور اس قابل تھا کہ اس سے عراق کی بدامنی رفع کرنے میں امداد لی جاتی مگر فضل بن سہل طاہر کو ہرثمہ کا مثنیٰ سمجھتا تھا۔ اس لیے اس کو ایک معمولی ولایت کی حکومت پر مامور و متعین رکھ کر معطل بنا رکھا تھا۔
ابراہیم بن مہدی کی نسبت مامون سے یہ کہہ دیا تھا کہ اہل بغداد نے اپنی خوشی اسی میں ظاہر کی کہ ان کے معاملات مذہبی کی نگرانی و انصرام کے لیے ابراہیم بن مہدی کو بغداد کا امیر و عامل بنایا جائے لہٰذا ابراہیم کو بغداد کی حکومت سپرد کر دی گئی ہے۔ ادھر عراق میں بدامنی اور بے چینی دم بدم ترقی کرتی گئی اور لوگ حسن بن سہل سے زیادہ متنفر ہوتے گئے تو بعض اشخاص نے ہمت کر کے اور اپنی جان پر کھیل کر مرو کا قصہ کیا اور وہاں علی رضا بن موسیٰ کاظم ولی عہد خلافت کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ سوائے آپ کے اور کوئی شخص حالات اصلیہ سے مامون کو واقف و آگاہ نہیں کر سکتا۔ آپ اس کام کا بیڑا اٹھائیں اور اس مرحلے کو طے کریں۔
علی رضا اگرچہ فضل بن سہل کو اپنا مخالف نہیں پاتے تھے بلکہ ہمدرد و معاون دیکھتے تھے۔ لیکن یہ ان کی پاک باطنی اور نیک طینتی تھی کہ وہ جرأت کر کے اس کام پر فوراً آمادہ ہو گئے اور مامون الرشید کو فضل بن سہل اور حسن بن سہل کی نا مناسب حرکات‘ قتل ہرثمہ‘ طاہر کی معطلی‘ عراق کے فساد اور ابراہیم بن مہدی کی خلافت کے متعلق مفصل اطلاع دے کر کہا کہ لوگ عام طور پر بد دل ہو رہے ہیں اور آپ کی خلافت معرض خطر میں ہے‘ امام علی رضا نے ان حالات سے مطلع کرنے میں یہ بھی صفائی کے ساتھ کہہ دیا کہ آپ نے جو مجھ کو ولی عہد بنایا ہے اس سے بھی بنو عباس اور ان کے ہوا خواہ ناراض ہیں۔
ان تمام باتوں کو سن کر مامون چونک پڑا اور اس نے کہا کہ آپ کے سوا کوئی اور بھی ان باتوں سے باخبر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے فلاں فلاں سردار و مصاحب بھی واقف ہیں لیکن وہ سب فضل بن سہل کے خوف کی وجہ سے دم بخود ہیں اور آپ سے کہنے کی جرأت نہیں کر سکتے۔ مامون نے ان افسروں کو تنہائی میں اپنے پاس طلب کر کے اول دریافت کیا تو سب نے انکار کیا‘ لیکن جب مامون نے ان کو یقین دلایا کہ فضل تم کو کچھ نہ کہہ سکے گا تو انہوں نے صاف صاف تمام باتیں بیان کر دیں اور علی رضا کے بیان کی پورے طور پر تصدیق کی‘ یہ سن کر مامون نے مرو سے عراق کی جانب روانگی کا قصد کیا۔
فضل کو جب یہ کیفیت معلوم ہوئی تو اس نے ان سرداروں کو جنہوں نے مامون کو حالات اصلیہ سے واقف کر کے علی رضا کے بیان کی تصدیق کی تھی تکلیفیں پہنچائیں‘ کسی کو قید کر دیا‘ کسی کو بے عزت کر کے کوڑے لگوائے‘ مگر اب کیا ہو سکتا تھا‘ جو ہونا تھا وہ ہو چکا۔ مامون نے یہ دانائی کی کہ فضل بن سہل کو اپنی طرف سے خائف و مایوس نہیں ہونے دیا اور فضل بن سہل کے چچا زاد بھائی غسان بن عباد کو خراسان کا گورنر بنا کر خود خراسان سے عراق کی جانب روانہ ہوا۔ مقام سرخس میں وارد ہوا۔ یہاں فضل بن سہل کو حمام میں چار شخصوں نے حملہ کر کے قتل کر ڈالا۔ اور خود فرار ہو گئے۔
مامون نے اعلان کرا دیا کہ جو شخص قاتلین فضل کو گرفتار کر کے لائے گا اس کو دس ہزار دینار انعام دیا جائے گا۔ قاتلین گرفتار ہو کر حاضر ہوئے۔ مامون نے ان کے قتل کا حکم دیا۔ چنانچہ وہ قتل کیے گئے اور ان کے سر حسن بن سہل کے پاس بھیج دئیے گئے۔
مامون نے حسن بن سہل کو تعزیت کا خط لکھا اور بجائے فضل بن سہل کے اس کو اپنا وزیر بنایا۔ فضل بن سہل کی ماں کے پاس خود برسم تعزیت گیا اور کہا کہ جس طرح فضل آپ کا فرزند تھا اسی طرح میں بھی آپ کا فرزند ہوں۔ چند روز کے بعد حسن بن سہل کی بیٹی بوران سے شادی کر کے حسن کے مرتبے کو مامون نے اور بھی زیادہ بڑھا دیا تھا۔
غرض فضل بن سہل کا قتل بالکل اسی طرح وقوع پذیر ہوا جس طرح جعفر برمکی کا قتل ظہور میں آیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ فضل بن سہل کو مامون الرشید نے قتل کرایا اور وہ چاروں شخص مامون الرشید کے مامور کردہ تھے جنہوں نے فضل کو حمام میں قتل کیا۔ فضل اپنے آپ کو کشتنی و گردن زدنی ثابت کر چکا تھا۔ مامون نے اس معاملہ میں اپنے باپ ہارون الرشید کے نقش قدم پر عمل کیا۔ لیکن فرق اس قدر ہے کہ ہارون الرشید نے جعفر برمکی کو قتل کرا کر برامکہ کے تمام خاندان کو معتوب بنایا۔ اور قتل جعفر کا الزام اپنے اوپر لے لیا‘ مگر مامون الرشید نے فضل کو قتل کرا کر اس کے خاندان پر اس قدر عناتیں کیں کہ کسی کو جرئات نہ ہو سکی کہ مامون کو بد نام کر سکے اور ملزم ٹھہرا سکے حتیٰ کہ فضل کا بھائی اور ماں باپ بھی مامون کی شکایت زبان پر نہ لا سکے‘ فضل بن سہل مقام سرخس میں ۲ شعبان ۳۰۳ھ کو قتل ہوا۔