مامون الرشید
امام علی رضا بن موسی کاظم کی وفات
خلیفہ مامون الرشید اپنی بیٹی ام حبیب کا عقد علی رضا سے پہلے کر چکا تھا‘ اس سفر میں اس نے اپنی دوسری بیٹی ام الفضل کا عقد جو بہت ہی کم سن تھی عقد علی رضا کے بیٹے محمد بن علی رضا سے کر دیا مگر رخصتی آئندہ زمانہ پر جب کہ لڑکی بالغ ہو جائے ملتوی رکھی گئی۔ چنانچہ یہ رخصتی ۲۱۵ھ میں ہوئی۔
مامون الرشید ماہ رجب ۲۰۲ھ میں مرو سے روانہ ہوا اور ۱۵ صفر ۲۰۴ھ کو بغداد پہنچا۔ یہ سفر مامون نے تقریباً ڈیڑھ برس میں طے کیا اور راستے میں ہر ایک مقام پر ہفتوں اور مہینوں ٹھہرتا ہوا بغداد کی طرف آیا‘ اس سفر میں ملک کے حالات سے اس کو خوب واقفیت حاصل ہوتی رہی اور بغداد میں اس کے پہنچنے سے پہلے ہی حالات اس کے موافق ہوتے گئے۔ اسی سفر میں مامون الرشید نے بماہ ذیقعدہ علی رضا کے بھائی ابراہیم بن موسیٰ کاظم کو امیر الحج مقرر کر کے بھیجا اور صوبہ یمن کی سند گورنری بھی ان کو عطا کر دی۔ طوس میں پہنچ کر قیام کیا اور اپنے باپ ہارون الرشید کی قبر پر حاضر ہو کر دعا کی۔
طوس میں ایک مہینے سے زیادہ قیام رہا۔ یہیں ایسا اتفاق پیش آیا کہ ولی عہد خلافت امام علی رضا نے انگور کھانے کی وجہ سے یکایک انتقال کیا۔ مامون کو ان کی وفات کا سخت صدمہ ہوا۔ جنازہ کے ساتھ ننگے سر گیا اور رو رو کر کہنے لگا کہ ’’اے ابوالحسن تیرے بعد اب میں کہا جائوں اور کیا کروں۔‘‘ تین دن تک قبر پر مجاور رہا ایک روٹی اور نمک اس کی غذا تھی۔ اپنے باپ ہارون الرشید کی قبر اس نے اکھڑوا کر اسی قبر میں علی رضا کو بھی اپنے باپ کے پاس دفن کیا۔ تاکہ علی رضا کی برکت سے ہارون الرشید کو بھی فائدہ پہنچے۔ علی رضا کے ساتھ مامون الرشید کو بڑی عقیدت تھی۔
لوگوں کا یہ کہنا کہ مامون الرشید نے خود علی رضا کو انگوروں میں زہر دلوایا سراسر غلط اور نا درست معلوم ہوتا ہے‘ اس لیے کہ علی رضا کی ولی عہدی کے لیے مامون الرشید کو مجبور نہیں کیا گیا تھا۔ اس نے اپنی خوشی سے ان کو ولی عہد بنایا۔ اپنی خوشی سے اپنی دو بیٹیوں کی شادی علی رضا اور علی رضا کے بیٹے کے ساتھ کی۔ بلا کسی دوسرے کی تحریک کے علی رضا کے بھائی کو یمن کی گورنری دی اور امیر الحج مقرر کیا۔ جس شخص کو وہ زہر دے کر مروا ڈالنا چاہتا تھا اس کے ساتھ یہ احسانات نہیں کر سکتا تھا۔ پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ جس شخص کو اس نے خود زہر دلوا کر مروا ڈالا تھا اس کو اپنے باپ کی قبر میں دفن نہیں کر سکتا تھا۔ ہارون الرشید کی قبر میں ان کو دفن کرنا مامون کی سچی عقیدت کا ایک زبردست ثبوت ہے‘ جس میں کسی منافقت اور بناوٹ کو دخل نہیں ہو سکتا۔ ان کی وفات پر مامون کا اظہار ملال بھی اس بات کا ایک ثبوت ہے۔
اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ مامون الرشید نے آئندہ اپنی حکومت و خلافت میں علویوں کے ساتھ ہمیشہ نیک سلوک کیا اور ان کو بڑے بڑے عہدوں پر مامور کرتا رہا۔ جو دلیل اس بات کی ہے کہ مامون الرشید کو علویوں سے کوئی نفرت نہ تھی اور وہ علویوں کو بہتر حالت میں لانا اور ان پر احسان کرنا چاہتا تھا۔ اگر اس نے علی رضا کو زہر دلوایا ہوتا تو وہ آئندہ علویوں کے ساتھ اس طرز عمل کو جاری نہیں رکھ سکتا تھا‘ ہاں یہ ممکن ہے کہ بنو عباس یا ان کے ہوا خواہوں میں سے کسی نے امام علی رضا کو انگوروں میں زہر دیا ہو۔ کیونکہ بنو عباس علی رضا کی ولی عہدی کے معاملے میں مامون الرشید سے ناراض تھے۔ امام علی رضا نے بہ عمر ۵۵ سال ماہ صفر ۲۰۳ھ میں وفات پائی۔ وہ ۱۴۸ھ میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے تھے۔ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے تھے۔