متوکل علی اللہ

بغاوت آرمینیا

صوبہ ارمینیا کی حکومت پر یوسف بن محمد مامور تھا‘ بقراط بن اسواط نامی بطریق نے جو بطریقوں کا سردار تھا دار الامارت میں حاضر ہو کر یوسف بن محمد سے امان طلب کی‘ یوسف نے اس کو معہ اس کے بیٹے کے گرفتار کر کے خلیفہ متوکل کے پاس بھیج دیا‘ آرمینیا کے بطریقوں میں یوسف کے خلاف سخت اشتعال پیدا ہوا تھا‘ بقراط بن اسواط کے داماد موسیٰ بن زرارہ نے بطریقوں کو جمع کر کے اس مسئلہ میں مشورہ طلب کیا‘ سب نے قسمیں کھائیں کہ یوسف بن محمد کو قتل کر دیں گے‘ چنانچہ موسیٰ بن زرارہ کی سرکردگی میں عیسائیوں نے خروج کیا‘ یوسف بن محمد مقابلہ کو نکلا‘ رمضان ۲۳۷ھ میں یوسف بن محمد اور اس کے ہمراہیوں کو باغیوں نے قتل کر ڈالا۔ یہ خبر سن کر متوکل نے بغاکبیر کو آرمینیا کہ طرف بھیجا‘ بغاکبیر نے موصل اور جزیرہ میں ہوتے ہوئے مقام ارزن کے قریب جا کر قیام کیا‘ ارزن کو فتح کر کے موسیٰ بن زرارہ کے ہمراہیوں میں سے قریباً ۳۰ ہزار آدمی مارے گئے اور ایک گروہ کثیر گرفتار ہوا‘ اس کے بعد ۲۳۸ھ تک بغاکبیر نے آرمینیا کے باغی بطریقوں کو چن چن کر سزائیں دیں اور گرفتار کر کے بغداد کی جانب سب کو بھیج دیا۔