متوکل علی اللہ
قاضی احمد بن ابی دائود کی معزولی و وفات
قاضی احمد بن دئواد واثق باللہ کے عہد خلافت میں وزیراعظم سے بھی بڑھ کر رسوخ و اقتدار رکھتا تھا‘ متوکل کے ابتدائی زمانہ میں بھی اس کی یہی حالت قائم رہی‘ خلیفہ متوکل ۲۳۷ھ میں قاضی احمد بن دئواد سے ناخوش ہو گیا اور اس کے مال و اسباب اور جاگیروں کے ضبط کرنے کا حکم دیا‘ قاضی احمد کے بیٹے ابو الولید نے ایک لاکھ ساٹھ ہزار درہم اپنا مال و اسباب بیچ کر خلیفہ کی خدمت میں پیش کئے‘ متوکل نے قاضی احمد کو معزول کر کے قید کر دیا اور اس کی جگہ یحییٰ بن اکثم کو قاضی القضاۃ کا عہدہ سپرد کیا۔
قاضی احمد ان دنوں عارضہ فالج میں مبتلا تھا‘ قاضی اکثم کو بھی متوکل نے ۲۳۷ھ میں معزول کر دیا تھا اور اس کی جگہ جعفر بن عبدالواحد کو یہ عہدہ ملا تھا‘ قاضی احمد بن ابی دئواد نے اسی سال یعنی ۲۳۷ھ میں اپنے بیٹے ابوالولید کی وفات کے بیس روز بعد وفات پائی‘ اسی سال حمص میں عیسائیوں نے علم بغاوت بلند کیا اور عامل حمص کو نکال کر خود قابض ہو گئے‘ خلیفہ متوکل نے دمشق و رملہ کی فوجوں کو حمص کی طرف جانے کا حکم دیا‘ چنانچہ ان فوجوں نے عیسائیوں کی اس بغاوت کو فرو کیا اور بہت سے عیسائیوں کو شہر بدر کر دیا‘ اسی سال متوکل نے مصر کے قاضی ابوبکر بن محمد بن ابواللیث کو معزول کر کے کوڑوں سے پٹوانے کا حکم دیا اور اس کی جگہ حارث بن مسکین شاگرد امام مالک کو قاضی القضاۃ مصر مقرر کیا‘ اسی سال محمد بن عبداللہ بن طاہر بن حسین بن مصعب کو خلیفہ نے پولیس بغداد کی افسری عطا فرمائی جبکہ اس کا بھائی طاہر بن عبداللہ بن طاہر خراسان کا گورنر تھا۔