محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم
ذبیح ثانی عبداللہ بن عبدالمطلب
چاہ زمزم کی اصل سیدنا اسمٰعیل علیہ السلام سے ہے کہ جب وہ اور ان کی ماں سیدنا ہاجرہ رضی اللہ عنہ مکہ کے صحرائے لق و دق میں پیاس سے بیتاب ہوئے تو خدائے تعالیٰ کے حکم سے وہاں پانی کا چشمہ نمودار ہوا۔
سیدنا ہاجرہ رضی اللہ عنہ نے اس پانی کو چاروں طرف مینڈ باندھ کر گھیر دیا اور وہ ایک کنویں کی صورت بن گیا۔ کچھ عرصہ تک تو وہ اسی حالت میں رہا۔ اور پھر اس کے بعد مٹی سے وہ اٹ گیا اور رفتہ رفتہ اس کا مقام اور جگہ کسی کو معلوم نہ رہی۔ چاہ زمزم کا صرف تذکرہ ہی تذکرہ لوگوں کی زبان پر رہ گیا تھا۔ جب عبدالمطلب کے ہاتھ میں سقایتہ الحاج کا کام آیا تو انہوں نے چاہ زمزم کا پتہ و مقام تلاش کرنا شروع کیا‘ بہت دنوں تک عبدالمطلب اور ان کا بڑا لڑکا حارث چاہ زمزم کی تلاش میں سرگرداں رہے‘ مگر چاہ زمزم کا پتہ نہ چلا‘ قریش میں سے کسی نے اس کام میں ان کی مدد نہ کی بلکہ باپ بیٹے کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔