محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے والد ماجد
ایک روز عبدالمطلب نے خواب میں چاہ زمزم کا نشان دیکھا اور کھودنا شروع کیا‘ یہ وہ مقام تھا جہاں اساف اور نائلہ دو بت رکھے ہوئے تھے‘ قریش مانع ہوئے اور لڑنے کو تیار ہو گئے‘ یہ صرف دو ہی شخص باپ بیٹے تھے‘ کوئی مددگار و معاون ان کا نہ تھا تاہم یہ غالب ہوئے اور کنواں کھودنے کے کام میں مصروف رہے۔ اس وقت عبدالمطلب نے اپنی تنہائی کو محسوس کیا اور منت مانی کہ اگر خدائے تعالیٰ مجھ کو دس بیٹے عطا کرے اور پانی کا چشمہ بھی نکل آئے تو میں اپنے بیٹوں میں سے ایک کو خدا کے نام پر قربان کروں گا۔
چند روز کی محنت کے بعد چشمہ بھی نکل آیا اور خدائے تعالیٰ نے عبدالمطلب کو دس بیٹے عطا کئے‘ چاہ زمزم کے نکل آنے سے قریش میں عبدالمطلب کا سکہ بیٹھ گیا تھا اور سب ان کی سرداری اور بزرگی کے قائل ہو گئے تھے‘ جب عبدالمطلب کے بیٹے جوان ہو گئے تو انہوں نے اپنی مانی ہوئی منت پوری کرنی چاہی‘ سب بیٹوں کو لے کر کعبہ میں گئے اور ہبل کے سامنے قرعہ اندازی کی‘ اتفاق کی بات قرعہ کا تیر سب سے چھوٹے بیٹے عبداللہ کے نام نکلا جو عبدالمطلب کو سب سے زیادہ عزیز تھا‘ عبدالمطلب چونکہ اپنی نذر پوری کرنا چاہتے تھے لہذا عبداللہ کو ہمراہ لے کر قربان گاہ کی طرف چلے‘ عبداللہ کے تمام بھائیوں ‘ بہنوں اور قریش کے سرداروں نے عبدالمطلب کو اس حرکت یعنی عبداللہ کے ذبح کرنے سے باز رکھنا چاہا مگر عبدالمطلب نہ مانے۔
بالآخر بڑی ردو کد کے بعد اس معاملہ میں سجاع نامی کاہنہ کی طرف رجوع کیا گیا‘ اس نے کہا کہ تمہارے ہاں ایک آدمی کا خوں بہا دس اونٹ ہیں پس تم ایک طرف دس اونٹ اور ایک طرف عبداللہ کو رکھو اور قرعہ ڈالو‘ اگر قرعہ اونٹوں کے نام نکل آئے تو دس اونٹوں کو ذبح کرو اور قرعہ عبداللہ کے نام پرآئے تو دس اونٹ اور بڑھا کر بیس اونٹ عبداللہ کے بالمقابل رکھو اور پھر قرعہ ڈالو‘ اس طرح ہر مرتبہ دس دس اونٹ بڑھاتے جائو‘ یہاں تک کہ قرعہ اونٹوں کے نام پر آ جائے۔
چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور قرعہ عبداللہ ہی کے نام نکلتا رہا‘ یہاں تک کہ جب اونٹوں کی تعداد سو گئی تب اونٹوں کے نام قرعہ آیا‘ عبدالمطلب نے اپنی تسکین خاطر کے لیے دو مرتبہ پھر قرعہ ڈالا اور اب ہر مرتبہ اونٹوں ہی کے نام قرعہ نکلا‘ وہ سو اونٹ ذبح کئے گئے اور عبداللہ کی جان بچی‘ اس وقت سے ایک آدمی کا خوں بہا قریش میں سو اونٹ مقرر ہوئے‘ عبدالمطلب کے کل تیرہ بیٹے اور چھ بیٹیاں پیدا ہوئیں جن کا شجرہ نسب ذیل میں درج کیا جا رہا ہے۔