مقدمہ
فوجی خصوصیات کی حفاظت بذریعہ تاریخ
جس قوم کو اپنے تاریخی حالات اور پاسبانی واقعات سے پورے طور پر اطلاع ہوتی ہے‘ اس کے قومی امتیازات اور خصوصیات بھی محفوظ اور قائم رہتے اور قوم کے افراد کا کسی میدان اور کسی مقابلہ میں دل نہیں ٹوٹنے دیتے بلکہ کمر ہمت چست رکھ کر انجام کا رکھوئے ہوئے کمالات تک پھر پہونچا دیتے ہیں۔
وہ شخص جو اپنے باپ دادا کے حالات سے بے خبر ہے‘ موقع پا کر خیانت کر سکتا ہے۔ لیکن جو یہ جانتا ہے کہ میرے دادا نے فلاں موقع پر لاکھوں روپے کی پرواہ نہ کر کے دیانت کو ہاتھ سے نہ جانے دے کر عزت و ناموری حاصل کی‘ اس سے خیانت کا ارتکاب دشوار ہے‘ اسی طرح وہ شخص جو اپنے باپ دادا کے حالات سے بے خبر ہے میدان جنگ سے جان بچا کر فرار کی عار گوارا کر سکتا ہے لیکن جو واقف ہے کہ میرے باپ نے فلاں فلاں میدانوں میںاپنی جان کو معرض ہلاکت میں ڈال کرمیدان جنگ سے منہ نہ موڑ کر عزت اور شہرت حاصل کی تھی وہ کبھی نہ بھاگ سکے گا اور فرار کا خیال دل میں آتے ہی اس کے باپ کے کارناموں کی یاد زنجیر پا ہو جائے گی۔
اسی طرح وفا‘ صدق‘ مقال‘ پاک دامنی‘ حیا‘ سخاوت وغیرہ اخلاق فاضلہ کو قیاس کرلو بزرگوں کے حالات کی واقفیت ہی دنیا میں بہت کچھ امن اور قوموں میں زندگی کی روح پیدا کر سکتی ہے‘ غالباً اسی بات پر غور کر کے ہماری ہمسایہ قوموں میں سے بعض نے جو اپنی کوئی شاندار تاریخ نہیں رکھتیں فرضی افسانوں اورجھوٹے ناولوں کو تاریخ کا جامہ پہنا کر اپنا کام نکالنا چاہا ہے‘ اورمطلق پرواہ نہیں کی کہ ہم راست گفتاری کی عدالت اور مؤرخین کی مجلس میں کس قدر ذلیل و خوار ٹھہرائے جائیں گے۔