مقدمہ

تاریخ اور شرافت نسبی

تاریخ میں چونکہ اچھے آدمیوں کی خوبیاں اور برے لوگوں کی برائیاں لکھی جاتی ہیں‘ لہذا کسی ذلیل یا کمینہ خاندان والے کو علم تاریخ سے بہت ہی کم محبت ہو سکتی ہے۔ شریف قوموں کو اپنے آباء و اجداد کے کارہائے نمایاں یاد ہوتے ہیں جن کی پیروی کو وہ اپنی شرافت قائم رکھنے کے لیے ضروری سمجھتے ہیں‘ رذیل قومیں امتداد زمانہ کے سبب سے اپنے بزرگوں کے بزرگ کاموں کو بھی بھول جاتی ہیں۔ کسی خاندان یا قوم کو جس کے باپ دادا نے عبادت و ریاضت‘ جوانمردی‘ علم و ہنر جاہ وحشمت وغیرہ میں خصوصی امتیاز حاصل کیا ہو اور وہ اس کوبالکل فراموش نہ کر چکے ہوں تو ان کو بزرگوں کے بڑے بڑے کارنامے باربار یاد دلا کر عزم و ہمت اورغیرت و حمیت ان میں پیدا کرسکتے ہیں‘ مگر رذیل قوموں کے اندر یہ کام نہیں ہو سکتا یہی سبب ہے کہ علم تاریخ کا شوق رکھنے والے اکثر شریف القوم‘ عالی نسب‘ بزرگ زادے اور نیک آدمی ہوتے ہیں‘ کوئی کمینہ خاندان کا آدمی یا خدائے تعالیٰ کا منکر یعنی دہر یہ یا کوئی بزدلی میں شہرت رکھنے والا دنیا میں اعلیٰ درجہ کا مؤرخ اور تاریخ کا امام نہیں گذرا۔