مقتدر باللہ !
مقتدر کا معزول و بحال ہوتا
۳۱۷ھ میں مونس المعروف بہ مظفر نے مقتدر کو معزول کیا‘ بات یہ تھی کہ مقتدر مونس کی بجائے ہارون بن غریب کو عرض بیگی یعنی حاجب بنانا چاہتا تھا‘ مونس کو اس کا حال معلوم ہوا تو فوج اور اکثر اراکین کو ہمراہ لے کر قصر خلافت پر چڑھ آیا اور مقتدر کو گرفتار کر کے محمد بن معتضد کو القاہر باللہ کے لقب سے تخت نشین کیا۔ سب نے اس کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کر لی اور عاملوں کے پاس اطلاعی فرامین بھیج دیے گئے۔
اگلے روز فوج نے آ کر انعام کا مطالبہ کیا‘ اس مطالبہ کے پورا ہونے میں توقف ہوا تو لوگوں نے غل مچا دیا اور مقتدر کی تلاش میں مونس کے گھر گئے‘ وہاں سے مقتدر کو کندھوں پر اٹھا کر قصر خلافت میں لے آئے‘ پھر اس کے سامنے قاہر باللہ کو پکڑ کر لے آئے‘ مقتدر نے قاہر باللہ کو دیکھ کر کہا کہ تم ذرا خوف نہ کرو اس میں تمہاری کوئی خطا نہ تھی‘ لوگوں میں سکون پیدا ہوا اور پھر عاملوں کے پاس اطلاعی فرامین بھیجے گئے کہ مقتدر باللہ بدستور خلیفہ ہے‘ مقتدر نے لوگوں کو انعام و اکرام دے کر خوش کیا۔