قاہر باللہ

قاہر باللہ

قاہر باللہ بن معتضد باللہ بن متوکل ایک ام ولد فتنہ نامی کے بطن سے پیدا ہوا تھا‘ اس کا نام محمد اور کنیت ابو منصور تھی۔ خلیفہ مقتدر باللہ کے قتل کے بعد اس کا بیٹا عبدالواحد معہ ہارون بن غریب محمد بن یاقوت اور ابراہیم بن رائق کے مدائن کی طرف چلا گیا تھا‘ وہاں سے واسط اور سوس ہوتا ہوا اہواز پہنچا‘ قاہر باللہ نے علی بن بلیق اپنے حاجب کو فوج دے کر عبدالواحد اور اس کے ہمراہیوں کی گرفتاری کے لیے روانہ کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سرداران لشکر کی کوشش اور خط و کتابت کے ذریعہ عبدالواحد اور اس کے ہمراہیوں نے مونس اور خلیفہ قاہر باللہ سے امن طلب کی جو فوراً دی گئی اور یہ سب لوگ بغداد چلے آئے…… محمد بن یاقوت کو خلیفہ نے اپنی مصاحبت میں داخل کر لیا۔ وزیر السلطنت علی بن مقلہ کو محمد بن یاقوت کا مصاحب ہونا سخت ناگوار تھا‘ اس نے مونس کو بہکایا کہ تمہاری مخالفت و بربادی کے لیے محمد بن یاقوت کوشاں ہے‘ مونس نے بلیق اور اس کے بیٹے علی بن بلیق حاجب کو خلیفہ کی نگرانی کا حکم دیا‘ خلیفہ کے پاس محل سرائے میں آنے جانے والی عورتوں تک کی بھی تلاشی لے جانے لگی اور کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی‘ خلیفہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ مجھ کو نظر بند اور معطل کیا جا رہا ہے تو اس نے بھی بعض فوجی سرداروں سے خفیہ سازش مونس وغیرہ کے خلاف شروع کر دی۔ ادھر مونس اور اس کے ہمراہیوں نے خلیفہ کے معزول کرنے اور ابو احمد بن مکتفی کے خلیفہ بنانے کی تیاری شروع کی۔ ان کوششوں میں قاہر باللہ کو کامیابی ہوئی۔ علی بن بلیق حاجب‘ مونس دھوکے سے گرفتار ہو کر قاہر باللہ کے حکم سے قتل کیے گئے۔ محمد بن یاقوت کو حاجب اور ابو جعفر محمد بن قاسم بن عبیداللہ کو وزیر بنایا گیا۔ یہ واقعہ شعبان ۳۲۱ھ کو وقوع پذیر ہوا۔ انہیں ایام میں احمد بن مکتفی کی تلاش شروع ہوئی‘ وہ روپوش ہو گیا تھا۔ آخر گرفتار ہوا اور قاہر باللہ نے اس کو دیوار میں چنوا دیا‘ ان تمام مقتولوں کے مکانات مسمار کر دیے گئے‘ مال و اسباب خلیفہ نے ضبط کر لیا‘ ساڑھے تین مہینے وزارت کرنے کے بعد ابو جعفر وزیر بھی معتوب و مقید ہوا اور اٹھارہ روز قید رہ کر بحالت قید فوت ہو گیا۔ خاندان بویہ دیلمی کا آغاز چونکہ اب تاریخ میں خاندان بویہ کے افراد کا تذکرہ خلفائے عباسیہ کے حالات میں بار بار آنے والا ہے لہٰذا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ اس خاندان کی ابتدائی تاریخ بیان کر دی جائے‘ اطردش یعنی حسن بن علی بن حسین بن علی زین العابدین کا ذکر اوپر آ چکا ہے کہ محمد بن زید علوی کے مقتول ہونے کے بعد اطروش نے ویلم میں جا کر لوگوں کو اسلام کی دعوت دی اور تیرہ برس تک برابر ویلم و طبرستان میں مصروف تبلیغ اسلام رہ کر اس علاقہ کے لوگوں کو مسلمان بنایا۔ اس زمانہ میں ویلم کا حکمران حسان نامی ایک شخص تھا‘ حسان نے اطروش کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکنے کی کوشش کی مگر اطروش کا اثر ترقی پذیر ہی رہا۔ اس نے مسجدیں بنوائیں اور لوگوں کو اسلام پر عامل بنا کر عشر بھی وصول کرنا شروع کر دیا‘ آخر اطروش نے ان نو مسلموں کی ایک جمعیت مرتب و مسلح کر کے قزوین و سالوس وغیرہ سرحدی شہروں پر حملہ کیا اور ان سب کو اسلام کی دعوت دے کر اسلام میں داخل کر لیا۔ طبرستان کی ولایت سامانی حکمران کے علاقہ میں شامل تھی‘ طبرستان کے سامانی عامل نے ظلم و ستم پر کمر باندھی‘ اطروش نے اہل ویلم کو ترغیب دی کہ طبرستان پر حملہ کرو‘ چنانچہ ۳۰۱ھ میں اطروش نے اہل ویلم کی ایک فوج مرتب کر کے طبرستان پر حملہ کیا اور محمد بن ابراہیم بن صعلوک حاکم طبرستان کو شکست دے کر بھگا دیا اور خود طبرستان پر قابض ہو گیا‘ اطروش کے بعد اس کا داماد حسن بن قاسم اور اس کی اولاد طبرستان‘ جرجان‘ ساریہ آمد اور استر آباد پر قابض و متصرف ہوئی‘ مگر ان سب کے فوجی سردار و سپہ سالار دیلمی لوگ تھے‘ ان دیلمیوں میں ایک شخص لیلیٰ بن نعمان تھا جس کو حسن بن قاسم نے جرجان کی حکومت سپرد کی تھی‘ یہ لیلیٰ بن نعمان ۳۰۹ھ میں سامانیوں سے لڑتا ہوا مارا گیا‘ اس کے بعد سامانیوں نے بنی اطروش پر متعدد حملے کئے‘ ان حملوں کی مدافعت بنی اطروش کی طرف سے سرخاب نامی ایک دیلمی سپہ سالار نے کی اور اسی میں وہ مارا گیا۔ سرخاب کا چچا ماکان ابن کانی دیلمی بنی اطروش کی طرف سے استر آباد کی حکومت پر مامور تھا۔ ماکان نے اپنے ہم وطن دیلمیوں کو اپنے گرد جمع کر کے ایک فوج مرتب کی اور جرجان پر قبضہ کر لیا‘ ان دیلمیوں میں جو ماکان کے معاون ہوئے تھے ایک نامور سردار اسفار بن شیرویہ دیلمی تھا۔ ماکان نے اپنی خود مختار حکومت قائم کر کے طبرستان کے اکثر حصہ پر قبضہ کر لیا اور اسفار بن شیرویہ کو کسی بات پر ناراض ہو کر نکال دیا‘ اسفار ماکان سے جدا ہو کر بکر بن محمد بن الیسع کے پاس نیشا پور چلا گیا جو سامانیوں کی طرف سے نیشاپور کا عامل تھا۔ بکر بن محمد نے اسفار کو ایک فوج دے کر جرجان کے فتح کرنے کو روانہ کیا ان دنوں ماکان طبرستان میں تھا‘ اور اس کا بھائی ابو الحسن بن کافی اپنے بھائی کی طرف سے جرجان میں مامور تھا۔ یہاں ابو علی بن اطروش بھی مقیم تھا اور اس کے قبضہ میں کوئی حکومت باقی نہ رہی تھی‘ ابو علی نے موقعہ پا کر ایک دن ابو الحسن کافی کو قتل کر دیا اور دیلمیوں کی اس فوج نے جرجان میں مقیم تھی‘ ابو علی کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ ابو علی نے اپنی طرف سے علی بن خورشید دیلمی کو جرجان کی حکومت پر مامور کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ اسفار سامانیوں کی طرف سے فوج لیے ہوئے جرجان کے قریب پہنچ چکا تھا‘ علی بن خورشید نے اسفار کو لکھا کہ تم بجائے اس کے کہ ہم پر حملہ کرو ہمارے ساتھ مل کر ماکان پر جو طبرستان میں ہے حملہ کیوں نہیں کرتے‘ اسفار نے بکر بن محمد سے اجازت حاصل کر کے اس بات کو منظور کر لیا۔ یہ خبر سن کر ماکان بن کانی طبرستان سے فوج لے کر جرجان کی طرف چلا‘ علی بن خورشید اور اسفار بن شیرویہ نے مل کر اس کا مقابلہ کیا اور ماکان کو شکست دے کر بھگا دیا اور طبرستان پر قابض ہو گئے‘ چند روز کے بعد علی بن خورشید اور ابو علی بن اطروش دونوں فوت ہو گئے اور طبرستان پر اسفار بن شیرویہ بلا مزاحمت حکومت کرنے لگا۔ ماکان نے اس موقعہ کو مناسب سمجھ کر اسفار پر حملہ کیا اور طبرستان پر قابض ہو گیا‘ اسفار بکر بن محمد بن الیسع کے پاس جرجان چلا گیا۔ ۳۱۵ھ میں بکر بن محمد بن الیسع فوت ہوا تو سامانی بادشاہ نے اس کی وفات کے بعد اپنی طرف سے اسفار بن شیرویہ کو جرجان کی حکومت پر متعین فرما دیا‘ اسفار بن شیرویہ کے سرداروں میں ایک شخص مردادیح نامی تھا‘ اس کو اسفار نے فوج دے کر جرجان سے طبرستان پر حملہ کرنے کے لیے روانہ کیا۔ ماکان بن کافی اپنا لشکر آراستہ کر کے مقابلہ پر آیا‘ ماکان کو شکست ہوئی اور مردادیح نے طبرستان پر قبضہ کر لیا۔ ماکان بھاگ کر حسن بن قاسم داماد اطروش کے پاس مقام رے میں پہنچا‘ وہاں حسن بن قاسم مارا گیا اور ماکان بھاگ کر رے چلا گیا۔ اسفار نے طبرستان و جرجان پر قابض و متصرف ہو کر نصر بن احمد بن سامان والی خراسان و ماوراء النہر کے نام کا خطبہ جاری کیا۔ اس کے بعد رے کی طرف بڑھا اور رے کو بھی ماکان کے قبضہ سے نکال لیا‘ ماکان آوارہ ہو کر جبال طبرستان کی طرف چلا گیا‘ اب اسفار بن شیرویہ کا قبضہ صوبہ رے قزوین‘ زنجان‘ ابہرقم اور کرخ پر ہو گیا۔ اور وہ بڑی کامیابی کے ساتھ ایک وسیع ملک پر حکومت کرنے لگا۔ اب اسفار کے دل میں خود مختاری کا خیال آیا اس نے سامانی سلطان سے بغاوت اختیار کر کے اپنی خود مختاری کا اعلان کر دیا۔ یہ سن کر خلیفہ مقتدر نے ہارون بن غریب کو فوج دے کر روانہ کیا کہ اسفار سے اس ملک کو چھین لے‘ مگر ہارون کو اسفار کے مقابلہ میں شکست ہوئی‘ اس کے بعد نصر بن احمد بن سامان نے اسفار کی سرکوبی کے لیے بخارا سے خود معہ فوج حرکت کی‘ اسفار نے اپنے قصور کی معافی چاہی اور خراج گذاری کا وعدہ کیا‘ نصر نے اس کی درخواست منظور کر کے صوبہ رے کی حکومت اس کے پاس رکھی اور خود بخارا کو لوٹ لیا۔ اسفار کے سرداروں میں مروادیح نے اور سرداروں کو اپنے ساتھ شامل کر کے علم بغاوت بلند کیا‘ اسفار کو پکڑ کر قتل کر دیا اور ہمدان و اصفہان وغیرہ کو بھی فتح کر کے ایک وسیع ملک پر حکومت کرنے لگا‘ اور ماکان بن کانی کو بلا کر طبرستان و جرجان کی حکومت پر مامور کر دیا‘ پھر ماکان کو اس حکومت سے معزول کر دیا‘ ماکان ویلم چلا گیا اور وہاں سے جمعیت فراہم کر کے طبرستان پر حملہ کیا‘ مگر مردادیح کے عامل سے شکست کھا کر نیشا پور کی طرف بھاگ گیا۔ ۳۱۹ھ میں مردادیح نے مناسب سمجھا کہ اپنے تمام مفتوحہ و مقبوضہ ملک کی سند عباسی خلیفہ سے حاصل کر لینی چاہیئے‘ چنانچہ اس نے ایک درخواست دربار خلافت میں بھیجی کہ مجھ کو ان بلاد کی سند حکومت عطا فرمائی جائے‘ میں دو لاکھ دینار سالانہ خراج دربار خلافت میں بھیجتا رہوں گا۔ خلیفہ نے یہ درخواست منظور کر کے سند بھیج دی اور اپنی طرف سے جا گیر بھی عطا فرمائی‘ ۳۲۰ھ میں مردادیح نے گیلان سے اپنے بھائی وثمگیر کو بھی بلوا بھیجا‘ مردادیح کی حکومت و سلطنت میں ابو شجاع بویہ نامی کے تین بیٹوں نے بسلسلہ ملازمت سرداریاں حاصل کیں اور انہیں کی وجہ سے یہ تمام داستان سنانی پڑی۔ ابو شجاع بویہ دیلمی ایک نہایت مفلس ماہی گیر تھا‘ مچھلیاں پکڑ کر اپنی اور اپنے عیال کی روزی بڑی محنت اور مشکل سے حاصل کرتا تھا‘ ایک روز اس نے خواب میں دیکھا کہ میں پیشاب کرنے بیٹھا ہوں اور میری پیشاب گاہ سے آگ کا ایک شعلہ نکلا جس نے پھیل کر دنیا کو روشن کر دیا۔ اس خواب کی اس نے یہ تعبیر کی کہ میری اولاد بادشاہ ہو گی اور جہاں تک اس شعلہ کی روشنی گئی ہے وہاں تک اس کی حکومت ہو گی‘ اس کے بعد بویہ ماہی گیر کے تین بیٹے ہوئے جن کے نام علی‘ حسن‘ احمد تھے‘ چونکہ بعد میں ان تینوں بھائیوں نے بڑی ترقی کی اور عمادالدولہ‘ رکن الدولہ‘ معزالدولہ کے نام سے صاحب حکومت و عزت ہوئے‘ لہٰذا کسی نے ان کا نسب یزدجرد شاہ ایران سے ملایا اور کسی نے ان کو بہرام گور کی اولاد میں بتایا‘ دولت و حکومت کے ساتھ ہی عالی نسبی کی بھی کوشش عام طور پر لوگ کیا کرتے ہیں اور خوشامدی لوگ اس کام کی سر انجام دہی میں سب سے زیادہ مفید ثابت ہوا کرتے ہیں۔ ہمارا شہر نجیب آباد پٹھانوں کا آباد کیا ہوا شہر ہے‘ یہاں پٹھان ایک معزز قوم سمجھی جاتی ہے‘ جن کو ہر قسم کی دولت و حکومت و عزت حاصل تھی۔ غدر ۱۸۵۷ء کے بعد جب پٹھانوں پر تباہی آئی تو بہت سے رام پور‘ بریلی‘ شاہ جہاں پور کی طرف جا کر آباد ہو گئے‘ بہت سوں کی نسلیں منقطع ہو کر نام و نشان گم ہو گیا۔ بہت ہی تھوڑے باقی رہ گئے جن پر افلاس نے طاری ہو کر ایسے ستم ڈھائے کہ وہ اب کسی قطار شمار میں نہیں آتے‘ ان کے غلاموں اور نوکروں کو چونکہ تلک الایام نداو لھا بین الناس کے قانون کے موافق اب خوب دولت و ثروت حاصل ہے‘ لہٰذا بہت سے غلام اپنے آپ کو پٹھان بتاتے ہیں‘ بہت سے جوگی بچوں نے اپنا سلسلہ نسب نواب نجیب الدولہ سے ملا دیا ہے‘ بہت سے تیلیوں‘ سقوں‘ حجاموں‘ جلاہوں‘ مراسیوں‘ دھوبیوں‘ باغبانوں اور ماہی گیروں نے علی الاعلان اپنے آپ کو پٹھان اور خان کہلانا شروع کر دیا ہے اور مال و دولت کی فراوانی نے ان کو اپنے اصلی نسب پر قانع نہیں رہنے دیا۔ چنانچہ کسی نجیب الطرفین پٹھان کی اب یہ مجال نہیں ہے کہ ان کو ان کا اصلی شجرہ نسب سنائے اور آج کل کی نئی پود کو سمجھائے کہ نجیب آباد میں کون اصلی پٹھان ہے اور کون نقلی‘ جب کہ ہم اپنی آنکھوں سے لوگوں کو اپنے نسب تبدیل کرتے اور دوسرے نسبوں میں شامل ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں تو بویہ ماہی گیر کے بیٹوں کا دولت و حکومت کے رفیع مقام تک پہنچ کر اپنا سلسلہ نسب شاہان ایران سے ملا دینا ہم کو حیرت میں نہیں ڈال سکتا۔ ماکان بن کانی نے جب اہل ویلم کو اپنی فوج میں بھرتی کیا تو بویہ کے تینوں بیٹے بھی اس کی فوج میں بھرتی ہو گئے‘ جب ماکان کو ناکامی ہوئی اور اس کا کام بگڑ گیا تو اس کے بہت سے آدمی جدا ہو ہو کر مردادیح کے پاس چلے آئے‘ مردادیح نے ان لوگوں کی خوب قدر دانی کی اور ہر ایک کو اس کے مرتبہ سے زیادہ مناصب عطا کیے۔ انہیں لوگوں میں بویہ کے تینوں بیٹے بھی شامل تھے‘ انہوں نے اپنی خدمت گذاری‘ مستعدی‘ اور ہوشیاری سے مردادیح کی خدمت میں رسوخ حاصل کر لیا۔ اور مردادیح نے علی بن بویہ کو کرخ کی حکومت پر مامور کر کے روانہ کیا‘ علی بن بویہ کے ہمراہ اس کے دونوں چھوٹے بھائی حسن اور احمد بھی روانہ ہوئے‘ ان دنوں مردادیح کی جانب سے رے میں اس کا بھائی دشمگیر حکومت کر رہا تھا۔ وثمگیر نے حسین بن محمد عرف عمید کو اپنا وزیر بنا رکھا تھا‘ علی بن بویہ جب رے میں پہنچا تو اس نے عمید سے ملاقات کی اور ایک خچر بطور نذر پیش کیا‘ اس کے بعد کرخ کی طرف روانہ ہوا اور وہاں جا کر حکومت کرنے لگا۔ مردادیح کو جب علی بن بویہ کہ اس طرح عمید سے ملنے اور نذر پیش کرنے کا حال معلوم ہوا تو اس کو شبہ گذرا کہ کہیں ماکان کے پاس سے آئے ہوئے سردار جن کو اچھے اچھے عہدے اور شہروں کی حکومت سپرد کر دی گئی ہے آپس میں کوئی سازش کر کے باعث تکلیف نہ ہوں‘ چنانچہ اس نے اپنے بھائی وثمگیر کو لکھا کہ ماکان کے پاس سے آئے ہوئے جن لوگوں کو اس طرف شہروں پر مامور کیا گیا ہے سب کو گرفتار کر لو‘ چنانچہ بعض تو گرفتار کر لیے گئے مگر علی بن بویہ کو جو کرخ پر قابض ہو چکا تھا فساد برپا ہونے کے اندیشہ سے گرفتار کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ علی بن بویہ نے کرخ کے نواح میں کئی قلعوں کو مفتوح کیا‘ ان میں سے جو مال ہاتھ آیا وہ لشکریوں کو تقسیم کر دیا‘ اس سے سپاہیوں کو اس کے ساتھ محبت ہو گئی اور اس کا رعب و داب ترقی کرنے لگا‘ ۳۲۱ھ میں مردادیح نے ان سرداروں کو جو رے میں نظر بند تھے رہا کر دیا‘ وہ سب کرخ میں علی بن بویہ کے پاس چلے گئے‘ اس نے ان کی بہت خاطر مدارات کی۔ انہیں ایام میں ایک دیلمی سردار شیر زاد نامی معہ ایک جمعیت کے علی بن بویہ کے پاس آیا اور اس کو اصفہان پر حملہ کرنے کی ترغیب دی۔ مردادیح کو جب معلوم ہوا کہ تمام دیلمیوں کا جماو‘ علی بن بویہ کے پاس ہو گیا ہے تو اس نے لکھا کہ ان تمام سرداروں کو جو رہا ہو کر گئے ہیں ہمارے پاس واپس بھیج دو۔ علی بن بویہ نے اس حکم کی تعمیل سے انکار کیا اور شیر زاد کے ہمراہی میں اصفہان پر حملہ کرنے کی تیاری کرنے لگا‘ اصفہان میں ان دنوں مظفر بن یاقوت اور ابو علی بن رستم حکومت کر رہے تھے‘ یہ دونوں خلیفہ سے ناراض اور بغاوت کا اعلان کر چکے تھے۔ علی بن بویہ نے اصفہان پر چڑھائی کر کے مظفر بن یاقوت کو بھگا دیا‘ ابو علی بن رستم فوت ہو گیا اور اصفہان پر علی بن بویہ نے قبضہ کر لیا۔ یہ خبر سن کر مردادیح کو بڑی فکر پیدا ہوئی کیونکہ اب علی بن بویہ کی طاقت بہت ترقی کر چکی تھی۔ اس نے اپنے بھائی وثمگیر کو فوج دے کر اصفہان کی طرف علی بن بویہ کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا‘ علی بن بویہ نے مطلع ہو کر اصفہان کو تو چھوڑ دیا اور جرجان پر جا کر قابض ہو گیا۔ یہ واقعہ ماہ ذی الحجہ ۳۲۱ھ کو وقوع پذیر ہوا۔ وثمگیر نے اصفہان پر قبضہ کر لیا مگر پھر مظفر بن یاقوت کو اصفہان کی حکومت سپرد کر دی‘ علی بن بویہ نے اپنے بھائی حسن کو گازرون کی طرف خراج وصول کرنے کے لیے بھیجا‘ وہاں راستے میں مظفر بن یاقوت کی ایک فوج سے مقابلہ ہوا‘ حسن نے اس کو شکست دی اور روپیہ وصول کر کے بھائی کے پاس لایا۔ علی بن بویہ اصطخر کی طرف روانہ ہوا‘ ابن یاقوت نے ایک زبردست فوج سے تعاقب کر کے علی بن بویہ کو مقابلہ کے لیے للکارا‘ لڑائی ہوئی علی بن بویہ کے بھائی احمد نے اس لڑائی میں بڑی بہادری دکھائی‘ مظفر بن یاقوت شکست کھا کر فرار ہوا‘ اور واسط میں جا کر دم لیا‘ علی بن بویہ نے شیراز آ کر اس پر قبضہ کیا اور اس طرح تمام صوبہ فارس اس کے قبضہ و تصرف میں آ گیا۔ یہاں لشکریوں نے جن کی تعداد بھی زیادہ ہو گئی تھی تنخواہوں کا مطالبہ کیا‘ علی بن بویہ کے پاس اتنا روپیہ نہ تھا کہ بے باق کرے‘ اس فکر میں ایک مکان کے اندر چھت پر لیٹ گیا‘ چھت میں سے ایک سانپ گرا‘ ابن بویہ نے حکم دیا کہ اس مکان کی چھت گرا دی جائے‘ چھت کو توڑنے لگے تو اس میں سونے کے بھرے ہوئے صندوق برآمد ہوئے۔ یہ تمام مال اس نے لشکر میں تقسیم کر دیا‘ اس طرح اس فکر سے نجات ملی۔ اس کے بعد اس نے کوئی کپڑا سینے کے لیے درزی کو بلوایا‘ سپاہی درزی کو بلا کر لائے تو درزی یہ سمجھا کہ اب مجھ کو گرفتار کیا جائے گا‘ اس نے ڈر کے مارے چھوٹتے ہی کہا کہ میرے پاس صندوقوں کے سوا کچھ اور نہیں ہے اور میں نے ابھی تک ان کو کھول کر بھی نہیں دیکھا ہے‘ کہ ان میں کیا ہے‘ چنانچہ اس سے وہ صندوق منگوائے گئے تو ان میں سے اشرفیاں برآمد ہوئیں‘ علی بن بویہ نے ان پر بھی قبضہ کیا۔ یہ تمام مال مظفر بن یاقوت کا جمع کیا ہوا تھا جو وہ اپنے ساتھ نہیں لے جا سکا تھا‘ اتفاق کی بات انہیں ایام میں اس کو دولت صفاریہ کا جمع کیا ہوا خزانہ بھی مل گیا جس کی تعداد پانچ لاکھ دینار سرخ تھی۔ اسی اثناء میں علی بن بویہ ایک روز چلا جا رہا تھا کہ اس کے گھوڑے کے پائوں زمین میں دھنس گئے کھدوا کر دیکھا تو ایک بڑا خزانہ برآمد ہوا‘ اس طرح علی بن بویہ کے پاس بڑا خزانہ جمع ہو گیا اور اس نے صوبہ فارس پر کامیابی کے ساتھ حکومت شروع کر کے اپنی طاقت کو دم بدم ترقی دینی شروع کی اور مردادیح کا مد مقدبل بن کر اس کے لیے خوف و خطر کا باعث ہو گیا۔