راضی باللہ
راضی باللہ
راضی باللہ بن مقتدر باللہ کا نام محمد اور کنیت ابو العباس تھی‘ ۲۹۷ھ میں ایک رومیہ ام ولد موسومہ ظلوم کے پیٹ سے پیدا ہوا‘ قاہر کے معزول ہونے کے بعد جمادی الثانی ۳۲۲ھ میں تخت خلافت پر بیٹھا‘ یہ جیل خانہ سے لا کر تخت پر بٹھایا گیا تھا‘ اس نے علی بن مقلہ کو وزیراعظم بنایا‘ محمد بن یاقوت کو گرفتار کر کے قید کر دیا‘ یاقوت ان دنوں واسط میں تھا‘ وہ فوج آراستہ کر کے علی بن بویہ کے مقابلہ پر گیا مگر شکست کھائی۔
اسی سال عبیداللہ مہدی مجوسی والی افریقہ پچیس سال سلطنت کرنے کے بعد فوت ہوا اور اس کی جگہ اس کا بیٹا ابو القاسم بامر اللہ کے لقب سے تخت نشین ہوا۔
قتل مردادیح
جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے مردادیح نے تمام صوبہ رے‘ اصفہان اور اہواز وغیرہ پر قابض و متصرف ہو کر دربار خلافت سے سند بھی حاصل کر لی تھی‘ مگر چند روز کے بعد اس نے بادشاہی کا دعویٰ کر کے سونے کا ایک تخت بنوایا‘ سپہ سالاروں اور سرداروں کے لیے چاندی کی کرسیاں تیار کرائیں‘ کسریٰ کی طرح تاج مرصع سر پر رکھا اور بادشاہ کے لقب سے اپنے آپ کو ملقب کیا‘ پھر عراق و بغداد پر فوج کشی کی تیاری کی اور کہا کہ میں کسرائے فارس کے محلوں کو ازسر نو تعمیر کرائوں گا اور عربوں کی حکومت نیست و نابود کر کے ازسر نو مجوسیوں کی حکومت قائم کروں گا۔ اس کی اس قسم کی تعلی کی باتیں اس کے بعض سرداروں کو ناگوار گذریں اور لوگوں نے ۳۲۳ھ میں اس کو اصفہان کے باہر قتل کر ڈالا۔