پہلی فصل
عامل یا والی
صوبوں اور ولاتیوں کے حاکموں کو عموماً اختیارات حاصل ہوتے تھے اور ہر ایک عامل یا والی اپنے صوبہ کی آمدنی کا ایک مقررہ حصہ دربار خلافت میں بھیجتا رہتا تھا‘ کبھی کبھی کسی صوبہ کے لیے ایک متعین رقم خراج کی مقرر کر کے کسی عامل کو بھیج دیا جاتا تھا‘ اس کو اس صوبے کے اندرونی انتظام میں کامل آزادی حاصل ہوتی تھی اور وہ مقررہ رقم سال بہ سال خزانہ خلافت میں داخل کرتا رہتا تھا‘ یہ صورت ٹھیکہ یا اجارہ کی مانند ہوتی تھی‘ اکثر حالتوں میں عامل کو اپنے صوبے کے آمد و خرچ کا حساب سمجھانا پڑتا تھا‘ اس حالت میں وہ کسی مقررہ رقم کے ادا کرنے کا ذمہ دار نہ ہوتا تھا‘ بلکہ جس سال جس قدر روپیہ خرچ سے بچتا اسی قدر بھیج دیتا تھا۔
سرحدی صوبوں کا جو دارالخلافہ سے زیادہ فاصلہ پر ہوتے تھے مثلاً افریقیہ‘ یمن‘ ماوراء النہر وغیرہ کا عموماً ٹھیکہ دے دیا جاتا تھا‘ ان صوبوں سے بہت ہی کم خراج لیا جاتا تھا اور بعض اوقات تو صرف خلیفہ کے نام کا خطبہ پڑھا جانا ہی کافی سمجھا جاتا تھا جب تک کہ وہ بے وفائی‘ مخالفت اور بغاوت کا اعلان نہ کریں‘ لیکن باقی صوبوں کے عاملوں کو خلفاء جلد جلد تبدیل کرتے رہتے تھے۔