پہلی فصل

سفر کے لیے سہولتیں

خلفاء عباسیہ نے عراق‘ حجاز‘ فارس‘ خراسان‘ موصل‘ شام وغیرہ میں راستوں کی حفاظت و نگرانی اور مسافروں کے امن و امان سے گذر جانے کے لیے معقول انتظام کیے تھے‘ فوجی دستے متعین تھے‘ جابجا تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر چوکیاں قائم تھیں‘ ہر ایک منزل پر شاہی گھوڑے‘ اونٹ اور دوسری سواریاں موجود رہتی تھیں‘ ایک مکان ہر منزل پر مسافروں کے ٹھہرنے اور آرام کرنے کے لیے ہوتا تھا‘ شاہی سواریوں پر جو محکمہ ڈاک کے ماتحت ہوتی تھیں کرایہ دے کر عام لوگ بھی سفر کے سکتے تھے‘ کبھی کبھی اگر کسی زبردست ڈاکو یا باغی کی وجہ سے راستے مخدوش ہو جاتے تو تجارتی قافلوں کے ساتھ شاہی فوج بھیجی جاتی تھی‘ اور حاجیوں کے قافلوں کے ساتھ جو شخص امیر حج ہو کر جاتا اس کے ساتھ ایک فوج بھی ہوتی تھی اور وہ حاجیوں کی حفاظت کرتا تھا۔