پہلی فصل

تجارت کے لیے سہولتیں

ہر ایک شہر میں سوداگروں کی ایک انجمن ہوتی تھی جس میں کسی سرکاری آدمی کا شامل ہونا ضروری نہ تھا‘ سوداگر لوگ خود اشیاء کے نرخ قائم کرتے تھے‘ تجارتی مال پر چنگی بہت ہی کم لی جاتی تھی اور اس معاملہ میں تاجروں کو کبھی کوئی شکایت پیدا نہ ہوتی تھی‘ تاجروں کی عزت شاہی اہل کاروں سے زیادہ ہوتی تھی‘ تاجروں کو عموماً شاہی درباروں میں بازیاب ہونے کا موقعہ دیا جاتا تھا‘ جو سوداگر باہر سے مال لاکر فروخت کرتے تھے ان کو شہر کا حاکم خوش کر کے واپس کرنے کی کوشش کرتا تھا‘ گویا ہر ایک تاجر جو باہر سے مال لے کر آیا ہے اس نے اس شہر کے حاکم پر ایک احسان کیا ہے‘ اگر تاجر کا مال فروخت نہیں ہوا ہے تو حاکم شہر یا سلطان یا خلیفہ بلا ضرورت بھی اس کے مال کو خرید لیتا اور سوداگر کو افسردہ خاطر واپس کرنا نہیں چاہتا تھا۔ جس عامل یا جس حاکم کی حدود حکومت میں تاجروں کا کوئی قافلہ لٹ جائے وہ انتہا درجہ کا غافل اور نالائق سمجھا جاتا تھا‘ تاجروں کو امرائے شہر اپنے یہاں مدعو کرتے اور عالی جاہ مہمان کی حیثیت سے اس کی مدارات بجا لاتے تھے‘ اگر کوئی سوداگر کسی دوسرے ملک سے آیا ہے تو اس کے حالات سفر سننے کے لیے خلفاء خود اس کی ضیافت کرتے اور انعام و اکرام سے مالا مال کر کے واپس کرتے تھے‘ چنانچہ اس طرز عمل نے تجارت کو خوب فروغ دے دیا تھا‘ یہی وجہ تھی کہ خلفائے عباسیہ کے زمانے میں ہر قسم کی صنعت و حرفت میں خوب ترقی ہوئی اور ہر ایک شہر کسی نہ کسی صنعت کے لیے مشہور ہو گیا‘ اسی طرح ایک جگہ کی پیداوار دوسری جگہ جانے لگی۔ اہل عرب تو قدیم ہی سے تجارت پیشہ تھے‘ لیکن خلافت عباسیہ کے عہد حکومت میں ایرانیوں کو بھی تجارت کا شوق ہو گیا‘ اور اس شوق نے یہاں تک ترقی کی کہ مسلمان سوداگر شمال میں بحر شمالی کے ساحل تک اور جنوب میں افریقہ کے جنوب تک پہنچنے لگے‘ جس کے ثبوت میں خلفاء عباسیہ کے عہد کی بغدادی مصنوعات سویڈن اور مڈغا سکر میں علمائے طبقات الارض نے تلاش کی ہے‘ بعض خلفاء مثلاً واثق باللہ نے باہر سے آنے والے سوداگروں اور تمام اشیاء درآمد پر محصول معاف کر دیا تھا۔