محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم
نکاح
آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی دیانت‘ امانت‘ خوش اخلاقی‘ پاکبازی‘ شرافت ‘ نجابت وغیرہ سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہ سے پوشیدہ نہ تھیں اگرچہ مکہ کے شرفاء و امراء میں سے ہر ایک سیدہ خدیجۃ الکبریٰ سے نکاح کا آرزو مند تھا مگر انہوں نے خود نفیسہ نامی عورت کے ذریعہ اور بہ روایت دیگر عاتکہ بن عبدالمطلب کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں شادی کا پیغام بھیجا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے چچا ابوطالب نے بھی اس رشتہ کو منظور کر لیا‘ ابوطالب ہی نے خطبہ نکاح پڑھا‘ اور اس مجلس نکاح میں عمر بن اسد اور ورقہ بن نوفل وغیرہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہ کے تمام قریبی رشتہ دار‘ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے رشتہ دار سب موجود تھے‘ نکاح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی عمر پچیس سال کی اور سیدہ خدیجۃ الکبریٰ کی عمر چالیس سال کی تھی سیدہ خدیجۃ الکبریٰ کے بطن سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے تین بیٹے اور چار بیٹیاں پیدا ہوئیں۔