محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم
صادق اور الامین کا خطاب
نہ صرف مکہ معظمہ بلکہ تمام عرب میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی نیکی‘ خوش اطواری‘ دیانت‘ امانت اور راست بازی کی اس قدر شہرت ہو گئی تھی کہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو نام لے کر نہیں‘ بلکہ الصادق یا الامین کہہ کر پکارتے تھے‘ تمام ملک عرب میں ایک آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہی کی ذات تھی جو الصادق یا الامین کی مشار الیہ سمجھی جاتی تھی۔ اور انہیں ناموں سے لوگ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو پہچانتے‘ اور یاد کرتے تھے‘ مسز اینی بیسنٹ ہندوستان میں تھیوسوفیکل سوسائٹی کی پیشوا اور بڑی مشہور انگریز عورت ہے وہ لکھتی ہے کہ:۔
پیغمبر اعظم (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ) کی جس بات نے میرے دل میں ان کی عظمت و بزرگی قائم کی ہے وہ ان کی وہ صفت ہے جس نے ان کے ہم وطنوں سے الامین (بڑا دیانتدار) کا خطاب دلوایا‘ کوئی صفت اس سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی اور کوئی بات اس سے زیادہ مسلم اور غیر مسلم دونوں کے لیے قابل اتباع نہیں‘ ایک ذات جو مسلم صدق ہو اس کے اشرف ہونے میں کیا شک ہو سکتا ہے ایسا ہی شخص اس قابل ہی کہ پیغام حق کا حامل ہو‘‘