دوسری فصل

حکومت طاہریہ (خراسان)

۴۰۵ھ میں مامون الرشید عباسی نے طاہر بن حسین کو خراسان کا گورنر مقرر کیا تھا‘ اس کے بعد خراسان کی حکومت پچاس سال سے زیادہ عرصہ تک اسی کے خاندان میں رہی‘ خاندان طاہریہ عملاً خراسان میں خود مختارانہ حکومت کرتے رہے اور اسی لیے خراسان کو اسی وقت سے خلافت بغداد سے الگ سمجھنا چاہیئے‘ خاندان طاہریہ کے فرماں روا اپنے آپ کو خلیفہ بغداد کا محکوم سمجھتے اور خلیفہ کے نام کا خطبہ پڑھتے تھے لیکن دربار خلافت کو خراسان کے اندرونی انتظام میں کوئی دخل نہ تھا۔