دوسری فصل
دولت سامانیہ (ماوراء النہر و خراسان)
سامانیوں کا حال بھی کسی قدر اوپر بیان ہو چکا ہے‘ ۲۹۰ھ میں جب سامانیہ حکومت ماوراء النہر نے صفاریوں سے خراسان‘ علویوں سے طبرستان چھین لیا تو ماوراء النہر یعنی سمر قند و بخارا سے لے کر خلیج فارس اور بحیرہ قزوین تک اس حکومت کی حدود وسیع ہو گئیں‘ اسی زمانے سے صوبہ ماوراء النہر بھی خلافت عباسیہ کی ماتحتی سے آزاد ہو گیا‘ سامانی خاندانوں نے سوا سو سال تک حکومت کی‘ اس سلطنت نے علوم و فنون اور تہذیب و شائستگی کے فروغ دینے میں قابل قدر حصہ لیا۔ بخارا و سمر قند علوم و فنون کے مرکز بن گئے اور وہاں ایسے ایسے زبردست علماء پیدا ہوئے کہ آج تک دنیا میں ان کی شہرت موجود ہے۔
قریباً نصف صدی کے بعد خراسان و فارس و طبرستان حکومت سامانیہ کے قبضے سے نکل گئے اور دولت بنی بویہ نے ان علاقوں پر اپنی حکومت قائم کر کے سامانیوں کو بے دخل کر دیا‘ پھر اس خاندان میں ترک غلاموں کے قابو یافتہ ہونے سے جلد جلد زوال آنا شروع ہوا‘ ۳۸۴ھ میں اس خاندان کے ایک ترکی غلام الپتگین نے سلطنت سامانیہ کے اس حصہ پر جو دریائے جیحوں کے جنوب میں تھا خود مختارانہ قبضہ کر لیا اور ۳۸۰ھ سے ۳۸۹ھ تک ایلک خاں ترک نے سامانی سلطنت کے باقی اس حصہ پر جو دریائے جیحوں کے شمال میں ہے قبضہ کر کے اس خاندان کو نیست و نابود کر دیا۔
خاندان سامانیہ کی تاریخ اس لیے اور بھی زیادہ دل چسپ ہے کہ اسی سلطنت سے الپتگین کی سلطنت قائم ہوئی اور الپتگین کی سلطنت کا وارث سبکتگین ہوا جس کا بیٹا مخمود غزنوی ملک ہندوستان کے بچے بچے کے لیے موجب دلچسپی اور جاذب توجہ ہے۔