دوسری فصل
اتابکان (شام و عراق )
ملک شاہ سلجوقی کا ترکی غلام آقسنفر تھا جو ملک شاہ کا حاجب بھی تھا‘ وہ حلب اور شام و عراق کی حکومت پر مامور تھا‘ ۵۲۱ھ میں آقسنفر کے بعد اس کا بیٹا عماد الدین عراق کا حاکم مقرر ہوا‘ اسی سال اس نے موصل‘ سنجار‘ جزیرہ اور حران کو بھی اپنی حکومت میں شامل کر لیا‘ ۵۲۲ھ میں شام کے اکثر حصے اور حلب وغیرہ پر بھی قابض ہو گیا‘ عماد الدین نے عیسائیوں اور رومیوں کے مقابلے میں خوب جہاد کیے اور بڑی نیک نامی عالم اسلام میں حاصل کی۔
عماد الدین کے بعد شام کی حکومت اس کے بیٹے نور الدین محمود کو ملی اور موصل و عراق دوسرے بیٹے سیف الدین کے قبضہ میں آیا‘ نور الدین محمود نے عیسائیوں کے مقابلے میں اپنے باپ سے زیادہ جہاد کیے اور اس کام میں بڑی شہرت و ناموری پائی‘ نور الدین محمود کے بعد اس خاندان کے اور بھی چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہو گئے‘ اسی خاندان کی ایک شاخ کی قائم مقام دولت ایوبیہ ہوئی اور عماد الدین زنگی کے خاندان میں سو اسو برس تک حکومت و سرداری باقی رہی۔